چین، سابق فٹبالرزاورحکام کو سزائیں

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption نین یانگ اور زی یالانگ پر سزا کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا گيا ہے

چین میں بدعنوانی اور رشوت کے جرم میں ’چین فٹبال لیگ‘ کے دو سابق سربراہوں اور بعض سابق کھلاڑیوں کو قید کی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ملک کی فٹبال لیگ کے دو سابق سربراہ نین یانگ اور زی یالانگ کو ساڑھے دس دس برس قید کی سزا سنائي گئی ہے۔

مسٹر نین پر عدالت نے تقریباً اکتیس ہزار امریکی ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ ان کے پیش رو زی یالانگ کے اکاؤنٹ سے تقریباً نوے لاکھ کی مقامی کرنسی ضبط کی گئی ہے۔

چین میں حالیہ برسوں میں فٹبال کے کھیل میں بدعنوانی کا چلن رہا ہے جسے حکومت نے ختم کرنے کا عہد کیا تھا اور اسی کے تحت تفتیش کے بعد مقدمے درج کیے گئے تھے۔

مسٹر نین پر سترہ بار رشوت لینے کی فرد جرم عائد کی گئی تھی جنہیں ٹیلنگ کی عدالت نے سزا سنائی ہے۔

مسٹر زي کو ڈینڈانگ میں سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے الزامات سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے گناہوں کا اعتراف تشدد کے ذریعے کرایا گیا تھا۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق دوسرے شہروں میں اسی طرح کے مقدمات میں دیگر افراد کو بھی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ٹیم کے ایک سابق کپتان کو بھی ساڑھے دس برس کی سزا سنائی گئی ہے اور دو لاکھ چینی کرنسی یوان کا جرمانہ عائد کیاگیا ہے۔

چین کی قومی ٹیم کے چار سابق کھلاڑیوں پر بھی میچ فکسنگ اور رشوت کے جرم میں سزاؤں کے ساتھ ساتھ جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

سنہ دو ہزار نو میں فٹبال کے کھیل کو شفاف بنانے کی غرض سے جو مہم شروع کی گئی تھی اس کے تحت ریفری، کھلاڑی، کوچز اور دیگر حکام سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں