خاتون ایتھلیٹ مبین اختر انتقال کر گئیں

ایتھلیٹ مبین اختر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واپڈا میں مبین اختر کے کوچ کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹکس ان کی زندگی تھی اور وہ جنون کی حد تک اپنے کھیل سے محبت کرتی تھیں

پاکستان کی تیز ترین خاتون ایتھلیٹ مبین اختر انتقال کرگئی ہیں۔

ان کی موت کی وجوہات کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان کے گھر والوں نے ابتدا میں بتایا کہ وہ سیڑھیوں سے گرکر زخمی ہوگئی تھیں تاہم لاہور کے سروسز ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مبین اختر کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق انہوں نے زہریلی گولیاں کھائی تھیں۔ ان کا معدہ صاف کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

بیس سالہ مبین اختر نے رواں سال اسلام آباد میں منعقدہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں سو میٹرز، دو سو میٹرز اور سو میٹرز ریلے میں طلائی تمغے جیتے تھے اور تیز ترین ایتھلیٹ قرار پائی تھیں۔

مبین اختر کا کیریئر بہت ہی مختصر رہا۔ وہ چار سال پہلے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت پاکستان آرمی میں شامل ہوئی تھیں تاہم وہ مختلف وجوہات کے تحت آرمی میں اپنا کیریئر جاری نہ رکھ سکیں اور پاکستان واپڈا میں شامل ہوگئیں۔

واپڈا کے سینیئرکوچ غفران حسین نے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو بتایا کہ ایتھلیٹکس مبین اختر کی زندگی تھی اور وہ جنون کی حد تک اپنے کھیل سے محبت کرتی تھیں۔

غفران حسین کا کہنا ہے کہ اس سال کی قومی رینکنگ چیمپئن شپ اور پھر قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں مبین اختر کی شاندار کاررکردگی نے ان کے روشن مستقبل کی نوید سنا دی تھی اور پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن انہیں بیرون ملک ٹریننگ اور انٹرنیشنل مقابلوں میں بھیجنے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

یاد رہے کہ حالیہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں واپڈا کی خواتین ایتھلیٹس چھائی رہی تھیں جن میں رابعہ عاشق، ماریہ مراتب اور مبین اختر قابل ذکر تھیں۔