بھارتی فٹبال کو شاہ رخ کا سہارا؟

فٹبال
Image caption بھارت میں فٹبال کے فروغ کے لیے شاہ رخ خان کی جانب پر امید نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت میں فٹبال شائقین کی یوروکپ میں دلچسپی اور بھارت میں فٹبال کی زبوں حالی کے دوران لوگ فلم سٹار شاہ رخ کی جانب پر امید نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

بھارت میں فٹبال کے شائقین کی شامیں ان دنوں رنگین ہیں کیونکہ یورو فٹبال مقابلے جاری ہیں۔

اگر ایک جانب بھارت میں یورپی ممالک اور ان کے یہاں کے کلبوں کے فٹبال میچوں کو ٹیلی ویژن پر دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہیں دوسری جانب کئی ‏غیرملکی فٹبال کلب بھارت میں اپنی ٹریننگ اکیڈمیاں کھول رہے ہیں۔

اخباروں میں آئے دن یہ شائع ہوتا رہتا ہے کہ کرکٹ کے بعد بھارت میں فٹبال کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن زمینی حقائق بھارت میں فٹبال کی اس پرکشش شبیہ کی نفی کرتے ہیں۔

اس کی جیتی جاگتی مثال فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی جاری کردہ عالمی رینکنگ ہے جس میں بھارت 164 پوزیشن پر ہے۔

بھارت سے بہتر رینکنگ اس کے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال جبکہ روانڈا اور ہیٹی جیسے چھوٹے ممالک کو حاصل ہے۔

بھارت میں فٹبال کی زبوں حالی کا اندازہ یہاں کے کلبوں کے حالات کو ہی دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

معاشی پریشانیوں کے سبب ملک کے دو معروف کلب گذشتہ دو سالوں میں بند ہو چکے ہیں۔ ان میں پنجاب کا فٹبال کلب جے سی ٹی اور ممبئی کا مہندرا یونائٹڈ شامل ہے۔ جے سی ٹی سن انیس سو اکہتر میں شروع ہوا تھا جبکہ مہندرا انیس سو باسٹھ میں شروع ہوا تھا۔

بھارت کے فٹبال کے معروف مبصر نووی کپاڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کے نوجوانوں میں فٹبال کے تئیں جو جوش و جذبہ نظر آ رہا ہے وہ یورپی کلبوں کے لیے ہی ہے۔ بھارت میں ہونے والے فٹبال مقابلوں میں ان کی دلچسپی کم ہی ہے اور ان کے مطابق اس رجحان سے بھارت میں فٹبال کی بہتری ہونے والی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’میں نے دیکھا ہے کہ بھارت میں نوجوان فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں لیکن غیر ملکی کلبوں کے لیے جو کہ ابھی مشکل ہے، اگلے چند برسوں میں ایسا نہیں ہوگا۔ غیر ممالک کی ٹیموں کے تئیں بھارت کے نوجوانوں میں جو کریز ہے اس سے اتنا ہوگا کہ کچھ حد تک فٹبال کے لیے ان کی دلچسپی برقرار رہے گی۔ اور یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ گھر کی چھت بنانی شروع کر دی لیکن زمین ہی ہموار نہیں کی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں فٹبال کے نام پر آئی لیگ شروع تو کی گئی لیکن ان کو دیکھنے کے لیے نہ تو شائقین تھے اور نہ کلبوں کو آمدن حاصل ہو پاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت کی ٹیم میں با صلاحیت کھلاڑی رہے ہیں۔ لیکن بھارت کی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان بیچنگ بھوٹیا کا کہنا ہے کہ گاؤں، قصبوں میں بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے بغیر بھارت فٹبال میں بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ نہیں بنا پائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہ رخ خان کرکٹ کلب آئی پی ایل کے طور پر بھارت میں فٹبال کلب کے میچ بھی چاہتے ہیں۔

بھوٹیا کا کہنا ہے کہ ’لوگ بھارت کی رینکنگ کے بارے میں سوال کر تے رہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے پاس بین الاقوامی سطح کا تجربہ نہیں ہے۔ کئی بار تو ایسا دیکھا گیا ہے کہ ہونہار کھلاڑی فٹبال چھوڑ کر دوسرے کام میں لگ جاتے ہیں۔ اس کاحل نکالنا ضروری ہے۔‘

بھارت میں فٹ بال میں جان پھونکے جانے کی بحث کو اچانک نئی جلا ملی ہے۔ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ فلم سٹار شاہ رخ خان ڈنپو کلب میں حصہ خریدنا چاہتے ہیں۔

شاہ رخ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ’ذاتی طور پر فٹبال ان کا پسندیدہ کھیل ہے، میرے بچے بھی فٹبال اچھا کھیل لیتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آئی پی ایل ہی کی طرح فٹبال میں میچ کھیلے جائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مجھے موقع ملا تو میں فٹبال کے ساتھ ضرور منسلک ہونا چاہوں گا۔ یہ کم قیمت لیکن خوبصورت کھیل ہے۔‘

ایسے میں فٹبال کے شائقین میں یہ امید جاگی ہے کہ شاہ رخ کس نہ کسی شکل میں فٹبال سے جڑیں گے۔ انہیں امید ہے کہ ایسے کسی بڑے ستارے کے آنے سے فٹبال کو نیا چہرہ ملے گا۔ کاروباری شعبہ آگے آئے گا تو لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھے گی۔

ایک مبصر کا کہنا ہے کہ یہ فٹبال کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں کہ اس جیسے کھیل کو بھارت میں مقبول عام بنانے کے لیے کسی فلمی ستارے کا مرہون منت ہونا پڑے۔

اسی بارے میں