’کنیریا کی سزا کو دنیا کو تسلیم کرنا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’میں نے اپنی کرکٹ ایمانداری سے کھیلی ہے۔‘ دانش کنیریا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہ ہارون لوگارٹ آئندہ ہفتے میں کوشش کریں گے کہ پاکستانی کرکٹر دانش کنیریا پر انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے لگائی گئی تاحیات پابندی تمام کرکٹ دنیا میں تسلیم اور لاگو کی جائے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ڈسپلنیری پینل نے گزشتہ روز دانش کنیریا کو ایسکس کے ساتھی کھلاڑی مرون ویسٹفیلڈ کو پیسوں کے عوض ایک اوور میں طے شدہ رنز دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مجرم قرار دیا۔ یہ واقعہ سنہ دو ہزار نو میں ایک پرو-40 میچ میں پیش آیا۔

اس وقت یہ واضح نہیں کہ کیا یہ پابندی انگلش کرکٹ بورڈ کے زیرِ انتظام کھیلی جانے والی کرکٹ پر ہی لاگو ہو گی یا پھر دیگر تنظیمیں بھی اسے عائد کریں گی۔

کوالالمپور میں آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہارون لاگارٹ نے کہا کہ وہ اس موقع پر شرکاء سے درخواست کریں گے کہ ایسی سزاؤں کو تمام کرکٹ دنیا میں تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ آئی سی سی کی جانب سے میچ فکسنگ کے خلاف موقف کی تائید ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صحیح موقع ہے کہ تمام ممبران سے کہا جائے کہ وہ اس طرز کے اقدامات کرائیں جن کے تحت ان دونوں کھلاڑیوں پر لگائی گئی پابندیاں انگلینڈ سے باہر بھی عائد کی جا سکیں۔

ادھر دانش کنیریا کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس امید پر پاکستان سے برطانیہ آئے تھے کہ یہاں انہیں انصاف ملے گا۔

’اس پینل نے ایک ایسے شخص کی بات کو سچ ماننا جو کہ ایک جرم کا مرتکب ہے اور میری بات کو سچ نہیں مانناگیا۔ میرے ساتھ شدید ناانصافی ہوئی ہے۔ مجھے ایسکس کی پولیس نے تفتیش کے بعد ان الزامات سے بری کر دیا تھا۔ مجھے اس فیصلے سے بہت افسوس پہنچا ہے۔ میں نے اپنی کرکٹ ایمانداری سے کھیلی ہے۔‘

اسی بارے میں