کون بنےگا یورپی فٹبال کا بادشاہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹورنامنٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں دونوں ٹیموں کا مقابلہ ایک ایک گول سے برابر رہا تھا

یورو دو ہزار بارہ فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل اتوار کی شام دفاع چیمپیئن سپین اور اٹلی کے مابین کھیلا جا رہا ہے۔

سپین کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ جیت کر لگاتار تین بڑے ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی ٹیم بننا چاہتی ہے۔ سپین نے اس قبل دو ہزار آٹھ میں یورو کپ اور پھر دو ہزار دس میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔

اٹلی ماضی میں صرف ایک مرتبہ سنہ انیس سو اڑسٹھ میں یورو کپ جیت سکا ہے جبکہ آخری مرتبہ اس نے فٹبال کے کسی بڑے ٹورنامنٹ میں سنہ دو ہزار چھ میں کامیابی حاصل کی تھی جب اس نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔

یہ تاریخ میں اکتیسواں موقع ہے کہ سپین اور اٹلی کی ٹیمیں کسی فٹبال میچ میں مدِمقابل ہیں۔ اٹلی ان مقابلوں میں سے دس جبکہ سپین آٹھ میں فاتح رہا ہے جبکہ بارہ میچ برابر رہے۔

ٹورنامنٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں دونوں ٹیموں کا مقابلہ ایک ایک گول سے برابر رہا تھا۔

یورو دو ہزار بارہ میں جہاں سپین کی ٹیم کے خلاف پورے ٹورنامنٹ میں صرف بارہ مرتبہ مخالف ٹیم کی شاٹ ہدف پر رہی وہیں یہ قابلِ ذکر ہے کہ اس میں سے چھ شاٹس اٹلی کے خلاف میچ میں لگائی گئیں۔

اگر ہسپانوی ٹیم یہ فائنل جیتنے میں کامیاب رہتی ہے تو وہ یورو کپ کا دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔ اس سے قبل سویت یونین 1964 کے یورو کپ میں بطور دفاعی چیمپیئن پہنچا تھا لیکن اسے مغربی جرمنی نے ہرا دیا تھا اور خود مغربی جرمنی کی ٹیم 1976 کے فائنل میں بطور دفاعی چیمپیئن شکست کھا گئی تھی۔

یورو دو ہزار بارہ مقابلوں میں سپین کا دفاعی ریکارڈ شاندار ہے اور اس پر اب تک ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول ہوا ہے۔ ٹورنامنٹ میں اس کے آخری دو میچوں کوارٹر اور سیمی فائنل میں کل ملا کر صرف ایک مرتبہ سپین کی مخالف ٹیم گیند صحیح ہدف کی جانب پھینکنے میں کامیاب ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یورو دو ہزار بارہ مقابلوں میں سپین کا دفاعی ریکارڈ شاندار ہے

سپین کی ٹیم کے پانچ ارکان ژاوی، ژیبی الینزو، سرجیو بیسقیٹ، آندریس انیئسٹا اور سرجیو راموس نے اٹلی کے سب سے زیادہ پاس مکمل کرنے والے آندریے پرلو (تین سو بیس پاس) سے زیادہ پاس مکمل کیے ہیں۔

انئیسٹا وہ کھلاڑی بھی ہیں جن کی اس ٹورنامنٹ میں سنہ انیس سو اسّی کے بعد سب سے زیادہ شاٹس ہدف پر رہی ہیں لیکن وہ گول کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے گیارہ مرتبہ گول پر درست شاٹ لگائی لیکن ہر مرتبہ ان کی کوشش روک لی گئی۔

اگر اٹلی کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ نواں موقع ہے کہ اٹلی کسی بڑے ٹورنامنٹ کا فائنل کھیل رہا ہے۔ اس سے قبل وہ تین مرتبہ یورو اور چھ مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیل چکا ہے۔

اٹلی اپنے موجودہ کوچ سیزر پرانڈیلی کی نگرانی میں کھیلے گئے پندرہ مقابلوں میں ناقابلِ شکست ہے۔

سیمی فائنل میں دو گول کر کے اٹلی کو فائنل میں پہنچانے والے سٹرائیکر ماریو بیلوٹیلی نے اس ٹورنامنٹ میں ہدف پر دس صحیح شاٹس لگائی ہیں۔

یورو دو ہزار بارہ کے فائنل کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے فٹبال کے ماہر مارک لارنسن کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اٹلی جیتے کیونکہ سیزر پرنڈیلی ذہنی طور پر ایک چالاک کوچ ہے۔اس کے کھلاڑی اس کے لیے کھیلتے ہیں اور مجھے اس ٹیم کے کھیلنے کا طریقہ پسند ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان کا مقابلہ یہاں سپین سے ہے۔ سپین کی ٹیم گیند کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گی کیونکہ وہ اس کے لیے مشہور ہے اور مجھے شبہ ہے کہ اٹلی کو گیند پر قابو پانے کا اتنا موقع نہیں ملنے والا جتنا ابھی تک انہیں ملا ہے۔ میرے خیال میں سپین یہ میچ جیت لے گا‘۔

فٹبال پر بی بی سی کے لیے مضامین لکھنے والے پال میکنلٹی کا کہنا ہے کہ ’میں نے یورو 2012 کے آغاز سے قبل ہی سپین کے بارے میں پیشین گوئی کر دی تھی اور اٹلی کے کھیل میں واضح بہتری کے بعد بھی میں اپنی اسی پیشین گوئی پر قائم ہوں‘۔

ان کے مطابق ’اٹلی کے آندریے پرلو انگلینڈ اور جرمنی کے خلاف مڈ فیلڈ میں شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ لیکن سپین کی ٹیم اپنا نام اس کھیل کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیموں میں شامل کروانے کے مشن پر ہے‘۔

اس بارے میں سپین کے کوچ ونسٹن ڈیل باسک کے مطابق ’اٹلی اور ہم متوازی زندگی جی رہے ہیں اور اب ہمیں اس درجے پر پہنچنا ہے جو فائنل جیسے مقابلے کا متقاضی ہے‘۔

ان کے اطالوی ہم منصب کے خیال میں ’سپین اس میچ میں تجربے اور مستقل مزاجی کے شعبوں میں فیورٹ ہے لیکن ہم بھی یہاں موجود ہیں‘۔

اسی بارے میں