سپین اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ ALLSPORT
Image caption سپین اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب رہا

فٹ بال کے عالمی چیمپئن سپین نے یورپی ملکوں کے درمیان سنہ دو ہزار بارہ کے مقابلوں میں اٹلی کو چار گول سے شکست دے کر یورپین چیمپیئن ہونے کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

یورپی ممالک کے درمیان فٹ بال کے مقابلوں کی تاریخ میں اتنی بڑی سبقت سے کوئی ٹیم اس سے قبل فائنل نہیں جیتی ہے۔

اٹلی کے خلاف سپین کی سنہ انیس سو بیس کے بعد یہ پہلی بڑی کامیابی ہے۔

سپین کی ٹیم نے مسلسل تین بڑے بین الاقوامی مقابلے جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں سپین کی ٹیم نے یورو کپ جیتا تھا۔ اس کے دوسال بعد اس نے عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور اب وہ دوبارہ یورو کپ جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

یورو سنہ دو ہزار بارہ کا یہ فائنل جسے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے دیکھا کسی حد تک یک طرفہ ثابت ہوا۔ اٹلی کی ٹیم کوئی گول نہ کر سکی اور سپین کی ٹیم اپنے چھوٹے چھوٹے پاسوں کی وجہ سے کھیل پر چھائی رہی۔

اٹلی کے کھلاڑی بیلوٹولی جنھوں نے سیمی فائنل مقابلے میں دو گول کیے تھے اس میچ میں بالکل بے بس نظر آئے اور ایک بھی جان دار حملہ کرنے میں ناکام رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپین کے دارالحکومت میں جیت کا جشن

سپین کی ٹیم نے پہلے ہاف میں دو گول کیے اور باقی دو گول دوسرے ہاف میں ہوئے۔ سپین کی ٹیم نے کھیل کے چودہویں ہی منٹ میں اٹلی پر گول کر دیا تھا۔ یہ گول سپین کی طرف سے سلوا نے کیا۔ دوسرا گول کھیل کے اکتالیسویں منٹ میں ہوا جب ایلبا نے گول کیا۔

دوسرے ہاف میں سپین نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور اٹلی کی ٹیم دوسرے ہاف کے شروع ہی سے شکست خردہ سی نظر آنے لگی۔

سپین نے دوسرے ہاف میں کئی ایک تبدیلیاں کئیں۔ فرننڈو ٹوریز کو فیبرگاس کی جگہ کھیل میں شامل کیا گیا۔ ٹوریز نے کھیل کے اکاسویں منٹ میں گول کر کے سپین کی برتری کو تین صفر کر دیا۔

اس کے بعد کھیل بالکل ہی یک طرفہ ہو گیا۔ اٹلی کے کھلاڑی تھکے اور شکست خورہ نظر آنے لگے۔ سپین کی طرف سے چوتھا اور آخری گول میتا نے اٹھسویں منٹ میں کیا۔ انھیں بھی ایک منٹ قبل ہی سلوا کی جگہ میدان میں بلایا گیا تھا۔

اسی بارے میں