لندن سے لندن تک، پاکستانی ہاکی کا سفر

Image caption لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کو پول اے میں رکھا گیا ہے اور وہ اپنا پہلا میچ سپین کھیلے گئی۔

ہاکی صرف گیارہ کھیلتے ہیں لیکن کروڑوں دل گرین شرٹس کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

جب اولمپکس یا عالمی کپ آجائے تو قومی کھیل کے ساتھ پاکستانی قوم کی جذباتی وابستگی میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ وقت ایک بار پھر اولمپکس کا ہے۔

وہی لندن آج پھر اولمپکس کا میزبان ہے جہاں آج سے چونسٹھ سال پہلے پاکستانی ہاکی کا بین الاقوامی سفر شروع ہوا تھا۔

1948ء کے لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے علی اقتدار شاہ دارا کی قیادت میں حصہ لیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم نے گروپ سی میں بیلجیئم کو دو ایک سے، ڈنمارک کو نو صفر سے، فرانس کو تین ایک سے اور ہالینڈ کو چھ ایک سے شکست دے کر با آسانی سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔

سیمی فائنل میں برطانیہ نے پاکستان کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے دی۔

تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ میں ہالینڈ نے پاکستان کو چار ایک سے ہرا دیا۔

چار سال بعد ہیلسنکی میں منعقدہ اولمپکس میں بھی پاکستانی ہاکی ٹیم پھر چوتھے نمبر پر آئی۔اس ٹیم کے کپتان نیاز خان تھے۔

سیمی فائنل میں اسے ہالینڈ نے ایک گول سے ہرا دیا جبکہ کانسی کے تمغے کے لیے کھیلے گئے میچ میں پاکستان کو برطانیہ کے ہاتھوں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

1956 کے میلبرن اولمپکس میں عبدالحمید حمیدی کی کپتانی میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ جیتا۔

سیمی فائنل میں اس نے برطانیہ کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔

فائنل میں پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوا جس میں ایک گول کی شکست نے اسے پہلی بار اولمپک چیمپئن بننے نہیں دیا۔

1960ء کے روم اولمپکس کو پاکستانی ہاکی تاریخ میں اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

عبدالحمید حمیدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں بھارت کو ایک گول سے ہرا کر پہلی بار اولمپک چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ تاریخی گول نصیر بندہ نے کیا۔

چار سال بعد اولمپکس کی میزبانی پہلی بار ایشیا کے حصے میں آئی اور ٹوکیو میں کھیلے گئے ان اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکی۔ فائنل میں روایتی حریف بھارت نے اسے ایک گول سے ہرا دیا۔ان اولمپکس میں حصہ لینے والی ٹیم کے کپتان بریگیڈئیر عاطف تھے۔

1968 کے اولمپکس میکسیکو میں منعقد ہوئے اور طارق عزیز کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ٹوکیو کی شکست کا حساب بے باق کر دیا۔

پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل میں جرمنی کے خلاف ایک گول سے کامیابی حاصل کی۔

فائنل میں پاکستان کا مقابلہ اپنے ہی گروپ کی ٹیم آسٹریلیا سے ہوا جس میں پاکستان نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے کامیابی حاصل کر کے دوسری مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل جیت لیا۔

1972ء کے میونخ اولمپکس پاکستان کے نقطہ نظر سے انتہائی تلخ ثابت ہوئے جس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نہ صرف اپنے اولمپک اعزاز سے محروم ہوئی بلکہ فائنل کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے سبب اسے ایف آئی ایچ کی جانب سے سخت کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1976 کے مانٹریال اولمپکس میں پہلی بار ہاکی کے مقابلے گھاس کے بجائے منصوعی ٹرف پر کھیلے گئے۔

سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم بھارت کو شکست دے کر فائنل میں آئی جہاں اس کا مقابلہ میزبان جرمنی سے تھا۔

فائنل میں پاکستانی ٹیم کو ایک گول سے شکست ہوئی۔ پاکستانی ٹیم ارجنٹائن کے سرویٹو اور آسٹریلیا کے رچرڈ جیول کی امپائرنگ سے سخت ناخوش تھی اور اس نے اس کا اظہار میڈلز تقسیم کیے جانے کے وقت کیا۔

شہناز شیخ نے میڈل اپنے جوتے میں وصول کیا۔یہ اسی شدید ردعمل کا نتیجہ تھا کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے پاکستانی ٹیم پر پابندی عائد کر دی جو ائرمارشل نور خان کی سخت کوششوں کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد ختم ہو سکی تاہم کپتان اسد ملک پھر کبھی بھی بین الاقوامی ہاکی نہ کھیل سکے اور 1973ء کے عالمی کپ کے لیے پاکستان کو ایک نئی ٹیم تیار کرنی پڑی ۔

1976 کے مانٹریال اولمپکس میں پہلی بار ہاکی کے مقابلے گھاس کے بجائے منصوعی ٹرف پر کھیلے گئے۔

رشید جونیئر کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے ایک کےمقابلے میں دو گول سے ہرا دیا۔

تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ہالینڈ کو دو کے مقابلے میں تین گول سے ہرا کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

رشید جونیئر کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ اولمپکس میں سونے چاندی اور کانسی کے تمغے جیت چکے ہیں۔

وہ میکسیکو اولمپکس جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔میونخ اولمپکس میں جس پاکستانی ٹیم نے چاندی کا تمغہ جیتا رشید جونیئر اس میں بھی شامل تھے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی بدقسمتی کہ جن دنوں وہ اپنے عروج پر تھی مغربی دنیا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں روسی موجودگی کے خلاف احتجاج کے طور پر ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کر دیا اور ہاکی کی صف اول کی ٹیموں کی غیرموجودگی کافائدہ اٹھا کر بھارت نے فائنل میں سپین کو ہرا کر طلائی تمغہ جیت لیا۔

1984 کے لاس اینجلس اولمپکس ایک بار پھر پاکستانی ہاکی کے لیے خوشی کی خبر لے آئے۔ منظور جونیئر کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے تیسری مرتبہ اور سولہ سال کے طویل انتظار کے بعد اولمپک چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

سیمی فائنل میں پاکستان نے آسٹریلیا کو حسن سردار کے گول کی بدولت شکست دی۔

فائنل میں پاکستان نے جرمنی کے چیلنج پر ایک کے مقابلے میں دوگول سے قابو پا لیا۔فیصلہ کن گول کلیم اللہ نے کیا۔

1988ء کے سول اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ناصر علی کی قیادت میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی ٹیم اولمپکس میں سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی۔

1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے شہباز احمد کی قیادت میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

سیمی فائنل میں پاکستان کو جرمنی نے دو ایک سے شکست دی۔ تیسری پوزیشن کے میچ میں پاکستان نے ہالینڈ کو تین کے مقابلے میں چار گول سے ہرا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1988 ء کے سول اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ناصر علی کی قیادت میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن حاصل کی

اس کے بعد پاکستانی ٹیم اولمپکس میں تمغہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

1996 کے اٹلانٹا اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی چھٹی پوزیشن آئی۔ اولمپکس سے قبل ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔

2000ء کے سڈنی اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تاہم اسے جنوبی کوریا نے ایک گول سے ہرا دیا۔ تیسری پوزیشن کے میچ میں پاکستانی ٹیم آسٹریلیا سے چھ تین کے سکور سے ہارگئی اس طرح اس نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

2004 کے ایتھنز اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے گروپ میں تیسرے نمبر پر آنے کے سبب سیمی فائنل میں نہ پہنچ سکی اور سہیل عباس کی ہیٹ ٹرک کی بدولت اس نے نیوزی لینڈ کو چار دو سے ہرا کر پانچویں پوزیشن حاصل کی۔

2008ء کے بیجنگ اولمپکس پاکستانی ہاکی کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئے کیونکہ ان مقابلوں میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے اولمپکس مقابلوں میں اپنی سب سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارہ ٹیموں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔

اپنے گروپ کی کمزور ٹیموں کینیڈا اور جنوبی افریقہ سے میچز جیتنے کے بعد ساتویں پوزیشن کے میچ میں پاکستان کا سامنا نیوزی لینڈ سے ہوا جس نے چار دو سے کامیابی حاصل کر کے چار سال پہلے کا حساب برابر کر دیا۔

اسی بارے میں