’اولمپکس کے لیے مزید 3500 فوجی تیار‘

Image caption جی فور ایس کو لندن اولمپکس کے حفاظتی انتظامات کے لیے تین سو ملین پونڈ دیے جا رہے ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لندن اولمپکس کے حفاظتی انتظامات میں مدد دینے کے لیے برطانوی فوج مزید ساڑھے تین ہزار فوجی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ اقدامات ان خدشات کے سامنے آنے کے بعد کیے گئے ہیں کہ نجی سکیورٹی کمپنی بروقت تربیت یافتہ افراد کی مطلوبہ تعداد فراہم نہیں کر سکے گی۔

برطانوی فوج اس وقت اولمپکس کے لیے ساڑھے تیرہ ہزار جوان فراہم کر رہی ہے اور اب یہ تعداد سترہ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

نجی سکیورٹی کمپنی جی فور ایس کا کہنا ہے کہ اسے افرادی قوت کی فراہمی میں کچھ مسائل کا سامنا ہے۔

جی فور ایس کو لندن اولمپکس کے حفاظتی انتظامات کے لیے تین سو ملین پونڈ دیے جا رہے ہیں تاہم بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ کمپنی معاہدے کے مطابق دس ہزار محافظین فراہم کرنے کی ضمانت نہیں دے رہی۔

کمپنی کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کے لیے یہ بات قابلِ قبول ہے کہ حکومت نے اضافی وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ’محافظین کی بھرتی ایک پیچیدہ عمل ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر اس قسم کی بھرتی کی مثال نہیں ملتی۔ ہمیں افرادی قوت کی فراہمی کے سلسلے میں چند ہفتے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے تاہم ہم انہیں حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور لندن اولمپکس کے آغاز کے لیے محافظین فراہم کرنے کے وعدے پر قائم ہیں‘۔

برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع فلپ ہیمنڈ اضافی فوجیوں کے بارے میں جمعرات کو اعلان کریں گے۔ ہوم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ حکومت محفوظ کھیلوں کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے اور ہم نے فور جی ایس کی مدد کے لیے فوج کا حصہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے‘۔

برطانوی اپوزیشن پارٹی لیبر کی شیڈو اولمپکس وزیر ٹیسا جوئل کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اب جبکہ کھیلوں کے آغاز میں دو ہفتے بچے ہیں، یہ لازم ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ درکار محافظین کی پوری تعداد موجود ہو تاکہ یہ کھیل محفوظ رہیں‘۔

برطانوی حکومت نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اولمپکس کے دوران جی فور ایس کے محافظین سمیت کل تیئیس ہزار سات سو افراد سکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

اولمپکس کھیلوں کے سٹیڈیمز اور متعلقہ مقامات کی سکیورٹی جی فور ایس کی ذمہ داری ہے اوراس کے محافظ غیر مسلح فوجیوں کے ہمراہ سٹیڈیمز میں جانے والے افراد کی تلاشی کا فریضہ بھی سرانجام دیں گے۔

اسی بارے میں