’جینڈر ٹیسٹ کے دوران ہاتھ پیر باندھے گئے‘

پنکی پرمانک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنکی پرمانک کھیلوں کو الوداع کہ چکی ہوں

بھارت کی خاتون ایتھلیٹ پنکی پرمانک کا کہنا ہے کہ پچیس دن بعد ضمانت پر رہائی ملنے پر وہ خوش ہیں اور ان پر ایک سازش کے تحت الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی جنس کے تعین کا ٹیسٹ زبردستی ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر لیا گیا۔

عدالت نے منگل کو پنکی پرمانک کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ پنکی پرمانک کو عصمت دری کے الزام میں پچیس دن قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

بدھ کی صبح کولکاتہ کی دم دم جیل سے رہائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پنکی پرمانک نے اپنے اوپر لگے الزامات کو ایک سازش بتایا اور کہا کہ وہ معصوم ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹاسالی سے بات کرتے ہوئے پنکی پرمانک نے کہا: ’رہائی کے بعد میں خوش ہوں۔ بدقسمتی سے مجھے غلط الزام میں پھنسایا گیا ہے۔ اور اب بھی پھنسانے کی کوشش جاری ہے۔‘

ایک نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات چیت میں پنکی نے بتایا کہ ’جینڈر ٹیسٹ کے دوران میں اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ میرے ہاتھ پیر باندھ کر زبردستی ٹیسٹ لیا گیا۔‘

سنہ دو ہزار چھ کے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والی بھارتی ایتھلیٹ پنکی پرمانک کو عصمت دری کے الزام میں گزشتہ ماہ ریاست مغربی بنگال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قید کے دوران پنکی پرمانک کا جینڈر ٹیسٹ کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ پنکی ایک مرد ہیں یا خاتون۔

پنکی پرمانک کی گرفتاری کے وقت خاتون پولیس کی غیر موجودگی اور ان کی جنس پر میڈیا میں شائع نہ زبیا خبروں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوال اٹھائے ہیں۔

ضمانت سے قبل کولکتہ میں خواتین کے قومی کمیشن کے نمائندو نے پنکی پرمانک سے جیل میں ملاقات کی تھی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیمیں پنکی کے لیے مہم چلاتی رہی ہیں اور مرد پولیس افسروں کے لانے لے جانے کے خلاف وہ احتجاج کرتی رہی ہیں۔

خواتین کے کمیشن کی سربراہ سنندا مکھرجی کا کہنا تھا کہ ’پولیس اور جیل حکام نے ان کے حقوق کی پامالی کی ہے۔ انہوں نے پنکی کو مرد کے طور پر درج کر رکھا ہے۔ انہیں پولیس نے کئی بار ہراساں بھی کیا ہے۔ پولیس یہ فیصلہ کیسے کر سکتی ہے کہ وہ مرد ہیں جبکہ ابھی جانچ کی رپورٹ آئی بھی نہیں ہے۔‘

پنکی پرمانک نے دو ہزار چھ کے ایشیائی کھیلوں میں 400 میٹر ریلے ریس میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا وہیں دو ہزار چھ کے میلبرن میں ہوئے کامن ویلتھ کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

پنکی تین برس پہلے ایتھلیٹکس کی دنیا کو الوداع کہہ چکی ہیں۔

بھارتی ایتھلیٹکس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اگر پنکی پر عائد الزامات صحیح ثابت ہوجاتے ہیں تو ان سے سارے اعزازات واپس لے لیے جائیں گے۔

اسی بارے میں