جان ٹیری نسل پرستی کے الزام سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption استغاثہ نے جو شواہد پیش کیے ہیں وہ ناکافی تھے: میجسٹریٹ

برطانیہ کی عدالت نے فٹبال ٹیم کے سابق کپتان جان ٹیری کو ساتھی کھلاڑی اینٹون فرڈیننڈ کے خلاف نسلی مغلظات استعمال کرنے کے الزام سے بری کردیا ہے۔

جان ٹیری نے جو چیلسی اور انگلینڈ کی فٹبال ٹیم کے ڈیفنڈر ہیں، ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ پچھلے اکتوبر کوئنز پارک رینجرز کے خلاف میچ کے دوران انہوں نے اینٹون فرڈیننڈ کے خلاف ہتک آمیز نسلی جملے ادا کیے تھے۔

مجسٹریٹ ہاورڈ رڈل نے کہا کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹیری نسل پرست نہیں ہیں۔

فیصلے میں چیف میجسٹریٹ نے لکھا ہے ’استغاثہ نے جو شواہد پیش کیے ہیں وہ ناکافی تھے۔‘

یاد رہے کہ ٹیری نے اس بات کی تردید نہیں کی تھی کہ انہوں نے فرڈیننڈ کو ’بلیک‘ کہا تھا اور گالیاں دی تھیں۔ انہوں نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ وہ سمجھے کہ فرڈیننڈ ان پر نسل پرست الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگا رہے ہیں اور وہ صرف وہ الفاظ دہرا رہے تھے۔

عدالت میں چیلسی کے ساتھی کھلاڑی ایشلے کول نے ٹیری کے حق میں بیان دیا۔

عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو اس وقت ٹیری کے حمایتیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

ٹیری نے عدالت کے باہر موجود میڈیا سے بات چیت نہیں کی۔

اسی بارے میں