’لندن اولمپکس، سکیورٹی پرسمجھوتہ نہیں‘

سبشئن کو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لندن میں 2012 کے اولمپکس کھیل اس مہینے کے آخر میں شروع ہورہے ہیں

لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس کھیلوں سے پہلے اولمپکس کمیٹی کے سربراہ سیبشئن کو کا کہنا ہے کہ اولمپک کھیلوں کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اولمپکس کھیلوں کے لیے کہ سیکورٹی فراہم کرانے والی کمپنی G4s کی جانب سے ضرورت کے مطابق سکیورٹی سٹاف تعینات نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کھیلوں کی سکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا ہے۔

بدھ کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تقریباً ساڑھے تین ہزار فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

لارڈ کو کا کہنا ہے ’ہم پوری محنت کریں گے۔ ہم اس پریشانی کا حل نکالیں گے۔ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

دریں اثناء لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہرئیٹ ہرمن نے سکائی نیوز کو بتایا ہے کہ حکومت سکیورٹی کمپنی جی فور ایس کی نگرانی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سیکورٹی فرم کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق وہ دس ہزار سکیورٹی اہلکار فراہم کرانے والے تھی جو کہ وہ نہیں کر سکی ہے اس کے لیے اسے پچاس ملین پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

لارڈ کا کہنا تھا جی فور ایس نے توقع کی تھی کہ سیکورٹی کا معقول انتظام ہوجائے گا لیکن جب ایسا نہیں ہوا تھا تو ’ہم نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے اس کمی کو پورا کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا لوگوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ’ہم نے جی فور ایس کی صحیح سے نگرانی نہیں کی۔ ہم نے ان سے معقول کام کرایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں ہر دن اولمپک پارک جاتا ہوں۔ ہمارے پاس جی فار ایس کے تربیت یافتہ چار ہزار سکیورٹی افسران ہیں جو کچھ برسوں سے اولمپکس کی سکیورٹی کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ میرے خیال سے وہ بہترین کام کر رہے ہیں۔‘

سنیچر کو جی فار ایس کے چیف ایگزیکٹو نے بی بی سی کو بتایا تھا ’مجھے آٹھ یا نو دن معلوم ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’بہت سارے لوگوں کو انٹرویو کیا گیا تھا، تربیت دی گئی تھی اور لائسنس دیا گیا تھا لیکن جب کھیل قریب آنے لگے تو لگا کہ یہ تعداد اتنی بھی نہیں تھی جتنی کہ ضرورت تھی۔‘

وہیں برطانیہ کے ثفافتی امور کے وزیر جیرمی ہنٹ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکومت جی فار ایس کی نگرانی کر رہی تھی اور حالات کا پورا جائزہ لے رہی تھی اور گزشتہ ہفتے تک وہ کہتے رہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔‘

ان کا کہنا تھا جی فور ایس نے اپنی غلطی مانی یہ بہت ہی اچھی بات ہے اور وہ اضافی سکیورٹی کے لیے رقم بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں