ابھی ریٹائر نہیں ہو رہا: عامر خان

عامر خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عامر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس واپسی کے لیے بہت وقت ہے

برطانوی باکسر عامر خان نے ایسی تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ڈینی گارسیا سے شکست کے بعد انہیں باکسنگ چھوڑ دینی چاہیے۔

اس سے قبل برطانیہ کے سپر ویٹ ورلڈ چیمپیئن باکسر کارل فروچ نے کہا تھا کہ عامر خان کو ایک ایسے باکسر نے شکست دی ہے جن کا شمار بڑے باکسرز میں نہیں ہوتا اور اگر ان کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو وہ باکسنگ چھوڑ دیتے۔

پچیس سالہ باکسر عامر خان کو امریکی باکسر ڈینی گارسیا نے سنیچر کو امریکی شہر لاس ویگاس میں ہونے والے ایک مقابلے کے چوتھے راؤنڈ میں شکست دی تھی۔

فروچ نے بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات چيت میں کہا تھا ’عامر خان کے لیے یہ صورت حال بہت نقصان دہ ہے، اگر یہ سب میرے ساتھ ہوا ہوتا تو میں ریٹائرمنٹ لے لیتا۔‘

لیکن عامر خان نے بی بی سی سپورٹس سے بات چيت میں اس پر اپنے سخت رد عمل میں کہا کہ ’میں ریٹائرمنٹ کے بارے میں بات ہی نہیں کر رہا، میں اب بھی جوان ہوں، میرے پاس بہت وقت ہے۔ میں اب بھی بھوکا ہوں اور میں اس سے بہتر اور طاقتور واپسی کرونگا۔‘

’ کارل کو یہ چھوٹی باتیں کہنے کی عادت ہے اور میں اسے اسی پر چھوڑتا ہوں۔ اگر وہ ریٹائر ہونا چاہیں تو وہ ہو سکتے ہیں۔ میں بڑی ڈویژن میں ہوں، میں مد مقابل سے بہتر لڑنے والا ہوں اور میرا نام بھی ان سے بڑا ہے اور یہی چیزیں اسے جلاتی ہیں۔‘

عامر خان نے مزید کہا کہ ’لوگ اس فائٹ کے بعد بہت سی باتیں کہیں گے لیکن لوگوں نے پریسکوٹ کی لڑائي کے بعد بھی کہا تھا اور آپ کو پتہ ہے کہ میں نے اس سے کیسے بہتر واپسی کی تھی۔‘

واضح رہے کہ امریکی باکسر ڈینی گارسیا نے سنیچر کا مقابلہ جیت کر ورلڈ باکسنگ کونسل یعنی ڈبلیو بی سی کے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا۔

برطانیہ کے تین بار کے چیمپئین کارل فروچ کو اپنے کیرئیر میں دو بار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کارل فروچ نے کہا کہ ’لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے اپنے کیرئیر کے دوران دو بار شکست ہوئی تاہم اگر میں بیوٹ سے ہارتا تو میں ریٹائرڈ ہو جاتا۔‘

انہوں نے کہا کہ عامر خان کو بریڈیس پریسکاٹ نے ناک آؤٹ کیا اور انہیں لموں پیٹرسن نے بھی شکست دی۔

لیکن کارل فروچ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ عامر خان واپس آ سکتے ہیں کیونکہ اس کے پاس بہت سے سال باقی ہیں اور وہ ایک اچھے فائٹر ہیں۔

اسی بارے میں