لندن اولمپکس: الٹرا ہائی ڈیفینیشن نشریات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی بی سی کی یہ نشریات صرف برطانیہ میں دیکھی جا سکیں گی

لندن کے اولمپک پارک سے بی بی سی کے ٹیلی ویژن سینٹر تک چار کلومیٹر لمبی فائبر آپٹک کیبلز بچھائی گئی ہیں اور ستائیس جولائی کو اولمپکس کھیلوں کے آغاز پر ان کیبلز کے ذریعے ڈیٹا کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔

جدید ترین فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے اولمپکس کھیلوں کی الٹرا ہائی ڈیفینیشن نشریات ممکن ہو سکیں گی اور یہ حیران کن طور پر ایچ ڈی ٹیلی ویژن سے سولہ گنا زیادہ بہتر ہو گی۔

تصویروں میں: اولمپکس کے لیے میدان

اولمپکس کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی بہترین کوالٹی کی نشریات ہوں گی۔

اس ٹینکالوجی کی خالق جاپان کی این ایچ کے براڈکاسٹ کمپنی ہے اور اس ٹیکنالوجی کو سپر ہائی ویژن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بی بی سی کے پروڈکشن سینٹر میں دنیا کی پہلی الٹرا ہائی ڈیفینیشن ویڈیو پہنچے گی اور اس کے علاوہ برطانیہ میں چار،جاپان میں دو اور امریکہ میں خصوصی طور پر نصب کی گئی بڑی سکرینز پر ان نشریات کو دیکھا جا سکے گا۔

بی بی سی کے سپر ہائی ویژن منصوبے کے سربراہ ٹم پلےمینگ کے مطابق’جب آپ اس طرح کے الٹرا ہائی ڈیفینیشن نشریات ٹیلی ویژن پر دیکھیں گے تو اس بالکل اسی طرح محسوس ہو گا کہ آپ کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھ رہے ہیں۔‘

ایک اندازے کے مطابق کھیلوں کے چار ارب اسی کروڑ شائقین اولمپکس کو اپنے ٹیلی ویژن سیٹس، کمپیوٹرز اور موبائل کے ذریعے دیکھیں گے۔ تاہم اس وقت دنیا میں مٹھی بھر ہی ایسے ٹیلی ویژن ہونگے جن پر الٹرا ہائی ڈیفینیشن نشریات دیکھنا ممکن ہو سکے گا۔

لندن اولمپکس کو پہلی بار تھر ڈی یا سہ رخی ٹیکنالوجی میں بھی نشر کیا جائے گا اور یہ تاریخ کی پہلی اولمپکس ہونگی جس میں تینتیس تھری ڈی کیمروں کے ذریعے دو سو تیس گھنٹے طویل نشریات پیش کی جائیں گی۔

بی بی سی اولمپکس کھیلوں کی افتتاحی اور اختتامی تقریب کے علاوہ مردوں کی سو میٹر دوڑ کے فائنل تھری ڈی میں نشر کرے گا جب کہ پئن یورپین براڈکاسٹ یورو سپورٹس بھی تھری ڈی میں نشریات پیش کرے گا۔

بی بی سی اولمپکس کھیلوں کے سترہ دن کے دوران تمام کھیلوں کی پچیس سو گھنٹے کی ہائی ڈیفینیشن نشریات پیش کرے گا اور یہ دورانیہ تقریباً چار ماہ کے برابر ہو گا۔

نشریات کو یکجا کرنے کے لیے بی بی سی چوبیس چینلز استعمال کرے گا اور یہ بی بی سی ریڈ بٹن یا الیکٹرانک پروگرام گائیڈ کے ذیعے کیبل اور سٹیلائیٹ پر دستیاب ہوں گے۔

تمام چوبیس ٹیلی ویژن ویب سائٹ پر چوبیس ہائی ڈیفینیشن سٹریم کے طور پر دستیاب ہونگے اور اس سٹریم کو ٹی وی، کمپیوٹرز، ٹیبلٹ اور موبائل فونز سے منسلک کر کے دیکھا جا سکے گا۔ بی بی سی کو توقع ہے اس بار انٹرنیٹ پر نشریات دیکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption chunked streamingٹیکنالوجی بی بی سی کے نئے لائیو انٹریکٹو ویڈیو پلیئر پر دستیاب ہو گی جسے خاص طور پر اولمپکس کے لیے تیار کیا گیا ہے

بی بی سی نے حال ہی میں ویڈیو نشریات کے حوالے سے ایک نئی ٹینکالوجی’chunked streaming‘ متعارف کرائی ہے اور ٹینکالوجی کے ذریعے ناظرین کسی بھی ایونٹ کے درمیان میں ویب سٹریم کو واپس یا ریوائنڈ کر کے شروع سے دیکھ سکتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی بی بی سی کے نئے لائیو انٹریکٹو ویڈیو پلیئر پر دستیاب ہو گی جسے خاص طور پر اولمپکس کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس کے ذریعے ناظرین چوبیس چینلز میں سے ایک چینل سے دوسرے پر فوری طور پرمنتقل ہو سکیں گے اور کھیل کے پہلے لمحات کو ریوائنڈ کر کے دیکھ سکیں گے، اس میں دوسری چینلز پر جاری کھیلوں کی تازہ ترین صورتحال کے پیغامات وصول کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گی اور اصل وقت میں کھیلوں کے نتائج، ایونٹس کی تفصیل اور کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے حوالے سے معلومات دستیاب ہونگی۔

موبائل فونز پر بھی تھوڑی کم کوالٹی کے ساتھ یہ کوریج دستیاب ہو گی۔

اگرچہ یہ سہولیات صرف برطانیہ میں دستیاب ہو نگی لیکن دنیا بھر میں ناظرین ان نشریات کو دیگر ذرائع سے بھی دیکھ سکیں گے۔

اولمپکس تصاویر کے بغیر نامکمل ہے اور اس کے لیے اولمپکس کی آفیشل فوٹوگرافر ایجنسی گیٹی امیجز نے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔ توقع ہے کہ گیٹی امیجز اولمپکس کے دوران دس لاکھ تصاویر جاری کرے گا۔

ان میں اولمپکس تاریخ میں پہلی بار تھری ڈی تصاویر اور تین سو اسی ڈگری سے حاصل کردہ ’panoramic photographs ‘ بھی شامل ہوں گی۔

گیٹی امیجز کے اہلکار کین مینیرڈز کے مطابق کھیلوں کے بعض میدانوں جیسا کہ ویمبلے اور ایکسل میں بہترین اینگل سے تصاویر حاصل نہیں جا سکتی لیکن اس مقصد کے لیے سٹیڈیم کی چھتوں پر روبوٹِک کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ان کو دو سو میٹر کی دوری پر لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا۔

اسی بارے میں