پہلے سوشل میڈیا اولمپکس

اولمپک پارک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن اولمپک کو پوری دنیا میں تقریباً ایک ارب افراد دیکھیں گے

’ڈیڈ، جب جیس اینس نے لندن 2012 میں طلائی تمغہ جیتا تھا تو آپ اس وقت کہاں تھے۔‘

’بیٹے، مجھے یہ اس طرح یاد ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔ میں اس وقت قصاب کی دکان پر اپنی فیس بک دیکھ رہا تھا اور ادھر تاریخ رقم ہو رہی تھی۔‘

ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کے لیے یہ خیال اولمکپس کے حوالے سے بھرپور خیال نہ ہو، لیکن آنے والے ہفتوں میں لندن 2012 کے حوالے سے جو بات لوگوں کو یاد رہے گی وہ یہ ہو گی کہ وہ پہلی سوشل میڈیا گیمز تھیں۔

صرف نمبروں کو ہی دیکھ لیں۔ صرف چار سال پہلے بیجنگ اولمپکس کے وقت فیس بک استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 100 ملین تھی جو کہ اب تیزی سے بڑھ کر 900 ملین ہو گئی ہے۔

ٹوئٹر کی بھی یہی کہانی ہے۔ چار سال پہلے 2008 میں یہ تعداد چھ ملین تھی جو کہ اب 600 ملین ہو چکی ہے۔

ان میں سے اکثر بہترین اتھلیٹ اور کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔

ٹیم جی بی کے ڈائریکٹر سپورٹ سر کلائیو ووڈورڈ کہتے ہیں کہ ’میں بھی اس (ٹوئٹر) پر کچھ ہوتوں سے ہوں۔۔۔ میں اسے تشہیر کے لیے استعمال کرتا ہوں، یہ اسی وقت چلے جاتی ہے، آپ کو کل کے اخبارات کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔‘

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کا کہنا ہے کہ آخری گنتی تک ماضی اور حال کے مستند اولمپک کھلاڑیوں میں سے 2014 سوشل نیٹ ورک سائٹس استعمال کرتے ہیں اور ان پر اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سپورٹنگ ہیروز

سو یہ سب کہاں ہوں گے؟

فیس بک پر ایک خصوصی اولمپک پورٹل لانچ کیا گیا ہے۔ اس میں چند بڑے کھلاڑیوں کے خاکے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر آپ تیراک ٹوم ڈیلے کی پیدائش سے لے کر آج تک زندگی اور کیریئر کو دیکھ سکتے ہیں۔

برطانیہ میں ٹوئٹر کے ہیڈ آف سپورٹ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے کبھی مداحوں کی اپنے کھیلوں کے ہیروز تک براہ راست اتنی رسائی نہیں تھی جتنی اب ہے۔‘

’ٹوئٹر پر اتھلیٹ سوالوں کے جوابات دیتے ہیں، نیک تمناؤں کے پیغامات پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں، دوسرے ستاروں سے بات کرتے ہیں، اور پردے کے پیچھے کے تناظر کو پیش کرتے ہیں جن تک عام طور پر لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی۔‘

اس پر سب سے جامع کوشش خود آئی او سی نے اولمپک اتھلیٹس ہب کی صورت میں کی ہے۔

یہ سوشل میڈیا پر موجود ہر اولمپیئن کی مستند شدہ ڈائریکٹری پیش کرتی ہے۔ پروفائل کے صفحات دوسرے نیٹ ورکس مثلاً فیس بک، ٹوئٹر، اور جلد ہی گوگل پلس، میں بھی سرچ کرتے ہیں اور ان سب کو ایک جگہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں