اولمپک میں آزاد کھلاڑی کی شرکت

ماریئل(بائیں) تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماریئل(بائیں) کی جائے پیدائش جنوبی سوڈان ہے

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کسی بھی ملک کا پاسپورٹ نہ رکھنے والے ایتھلیٹ گور ماریئل کو لندن اولمپک کے مقابلوں میں حصہ لینےکی اجازت دے دی ہے۔

ائی او سی کے ایگزیکیٹیو بورڈ نے سنیچر کے دن امریکہ میں مقیم سابق مہاجر ماریئل جو کو جنوبی سوڈان میں پیدا ہوئے تھے، آزاد کھلاڑی کی حیثیت سے میراتھون دوڑ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔

ماریئل نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ’جنوبی سوڈان کی آواز سن لی گئی ہے اور اسے دنیا میں جگہ مل گئی ہے۔ میں کھیلوں میں جنوبی سوڈان کی نمائندگی نہیں کر رہا لیکن ان کا کھیلوں میں شامل ہونے کاخواب پورا ہوا۔‘

ماریئل کے پاس کسی بھی ملک کا پاسپورٹ نہیں ہے اور کوئی بھی قومی اولمپک کمیٹی ان کی نمائندگی نہیں کر رہی۔ جنوبی سوڈان کو پچھلے سال آزادی ملی ہے اور اس کی کوئی اولمپک کمیٹی نہیں ہے۔

ماریئل بچپن میں سوڈان سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کے پاس امریکہ میں غیر معینہ مدت تک رہائش پذیر رہنے کا اجازت نامہ تو ہے لیکن وہ امریکی شہری نہیں ہیں۔وہ جب امریکہ گئے تھے تو اس وقت ان کی عمر آٹھ برس تھی اور اب وہ اٹھائیس برس کے ہیں۔

اگرچہ پچھلے سال انہوں نے اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر لیا تھا لیکن وہ نہ تو امریکہ، نہ سوڈان اور نہ ہی جنوبی سوڈان کی جانب سے اولمپکس میں حصہ لے سکتے تھے۔

اولمپکس کمیٹی کے ترجمان مارک ایڈمز کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

ماریئل سے جب پوچھا گیا کہ ان کو کیسے اطلاع ملی کہ وہ لندن اولمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں تو انہوں نے کہا ’میں پریکٹس کے لیے نکل ہی رہا تھا جب مجھے اطلاع ملی۔ اب مجھے ایک اولمپیئن کی طرح تربیت کرنی ہو گی۔‘