’خوشی بھی اور گھبراہٹ بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ کوچ صبح چار بجے جگا دیا کرتے تھے جس کے بعد میں ہوتی تھی اور سوئمنگ پول‘

پاکستانی تیراک انعم بانڈے کی زندگی کے یہ مصروف ترین دن ہیں کیونکہ انہیں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اولمپکس جیسے انتہائی اہم مقابلے کے لئے خود کو تیار کرنا پڑ رہا ہے۔

انعم بانڈے کا تعلق لاہور سے ہے لیکن اس وقت وہ تعلیم کے سلسلے میں اپنے والدین کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔ دسویں جماعت کی طالبہ کی تھکا دینے والی سخت ٹریننگ ختم ہو چکی ہے۔ اب مقابلے کی گھڑی ہے جس کے لئے وہ بہت زیادہ پر جوش ہیں لیکن تھوڑی بہت گھبراہٹ بھی طاری ہے۔

میں فخر محسوس کررہی ہوں کہ اپنے ملک کی نمائندگی کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں میں کروں گی ۔ نروس بھی ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ میری کارکردگی بہتر رہے گی‘۔

یہ انعم بانڈے کا اپنی خوبصورت گلابی اردو کو انگریزی میں ملاتے ہوئے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں پہلا جواب تھا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی ان مقابلوں کے لیے تیاری کیسی رہی تو ان کا کہنا تھا ’ کوچ صبح چار بجے جگا دیا کرتے تھے جس کے بعد میں ہوتی تھی اور سوئمنگ پول ۔ ہفتے میں تیس گھنٹے صرف سوئمنگ کی ٹریننگ رہتی تھی چھ گھنٹے جمنازیم میں ایکسرسائز (ورزش) اس کے علاوہ تھی ۔ ظاہر ہے کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اولمپکس کی تیاری بہت سخت رہی لیکن میں نے بہت محنت کی ہے‘۔

انعم بانڈے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیسری خاتون تیراک ہیں۔ ان سے قبل رباب رضا نے ایتھنز اور کرن خان نے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔

انعم بانڈے بھی ان دونوں کی طرح وائلڈ کارڈ کی بنیاد پر اولمپکس میں شرکت کریں گی اور ان کا انتخاب گزشتہ سال شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ فینا چیمپئن شپ میں ان کی کارکردگی کے سبب عمل میں آیا، جس میں انہوں نے دو نئے قومی ریکارڈ قائم کیے تھے۔

’میرا پسندیدہ ایونٹ دو سو میٹرز بریسٹ اسٹروک ہے لیکن چونکہ ورلڈ چیمپئن شپ میں میری ٹائمنگ چار سو میٹرز انفرادی میڈلے میں اچھی رہی تھی لہذا مجھے اس ایونٹ کے لئے منتخب کیا گیا ہے ‘۔

انعم بانڈے چار سال کی عمر سے تیراکی کر رہی ہیں اور دو ہزار دس میں پہلی مرتبہ پاکستان کی نمائندگی دبئی میں منعقدہ ورلڈ شارٹ کورس چیمپئن شپ میں کی۔

میں نے ان سے پوچھا کہ اپنے کریئر کے بارے میں کیا سوچ رکھا ہے تو انہوں نے کہا ’میں مزید نئے قومی ریکارڈ قائم کرنا چاہتی ہوں لیکن میری خواہش ہے کہ ایشین گیمز میں تمغہ جیتوں‘۔

انعم بانڈے کے بارے میں پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کے سیکریٹری میجر ماجد وسیم کہتے ہیں کہ وہ انتہائی باصلاحیت تیراک ہیں اور اپنے کھیل سے بہت سنجیدہ ہیں، بہت ہی کم عمری میں دو قومی ریکارڈ قائم کر کے انہوں نے اپنے روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے اور امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اچھے نتائج دیں گی۔

اسی بارے میں