اولمپکس:مصری کھلاڑیوں کے لیے’جعلی‘ سامان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائیکی کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا حل نکالنے کے لیے مصری اولمپک حکام سے رابطے میں ہیں

اولمپکس میں سنکرونائزڈ تیراکی کے مقابلوں میں مصر کی نمائندگی کرنے والی تیراک نے الزام لگایا ہے کہ مصر کی اولمپک ٹیم کو فراہم کیا گیا کھیلوں کا سامان جعلی ہے۔

یمنیٰ خلاف کا کہنا ہے کہ ان کے ایک بیگ پر امریکی کمپنی ’نائیکی‘ کا نشان موجود ہے جبکہ اسی بیگ کی زپ پر ایڈیڈاس کا علامتی نشان بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ انہیں قابلِ قبول سامان خریدنے کے لیے اپنی جیب سے تین سو امریکی ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔

مصر کی اولمپک کمیٹی کے سیکرٹری جنرل متعض سنبل کا کہنا ہے کہ انہیں اس اطلاع سے شدید دھچکا لگا ہے کہ یہ سامان ’نائیکی‘ کا بنا ہوا نہیں ہے۔

نائیکی کا کہنا ہے کہ اسے ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ ایتھلیٹس کو ممکنہ طور پر ایسا سامان مہیا کیا گیا ہے جو کمپنی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

کمپنی کے ایک ترجمان کے مطابق انہیں حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ مصری اولمپک کمیٹی نے ایک ایسی کمپنی کا انتخاب کیا جس نے مبینہ طور پر انہیں ایسے نقلی جوتے اور کپڑے فراہم کیے جن پر نائیکی کا نشان موجود تھا۔

نائیکی کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا حل نکالنے کے لیے مصری اولمپک حکام سے رابطے میں ہیں۔

ادھر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ مصر کی اولمپک کمیٹی کے چیئرمین جنرل محمود احمد علی نے ملک کے معاشی حالات کو وجہ قرار دیتے ہوئے نقلی سامان خریدنے کا دفاع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مصر کی اقتصادی حالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے چینی کمپنی سے معاہدہ کیا تھا‘۔

عرب امور کے لیے بی بی سی کی مدیر شائمہ خلیل کا کہنا ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اس واقعے کا بہت ذکر ہوا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے مصر کی بےعزتی قرار دیا ہے۔

لندن اولمپکس میں مصر کے ایک سو بارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دستہ شرکت کر رہا ہے۔

اسی بارے میں