چین کی برتری برقرار، برطانیہ کے پہلے تمغے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 29 جولائ 2012 ,‭ 12:16 GMT 17:16 PST

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں جاری تیسویں اولمپکس مقابلوں کے دوسرے روز مزید چودہ طلائی تمغوں کے مقابلہ ہوئے۔ دوسرے روز بھی چین نے میڈلز کی فہرست میں برتری برقرار رکھی۔

برطانیہ نے بھی اتوار کو دو تمغے حاصل کیے جن میں ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ ہے۔ امریکہ کی کھلاڑی نے سکیٹ شوٹنگ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

لندن اولمپکس کا دوسرا روز

خواتین کی چار سو میٹر تیراکی میں فرانس نے طلائی تمغہ ، امریکہ نے چاندی اور برطانیہ نے کانسی کا تمغہ جیتا

لندن اولمپکس کے دوسرے روز کے کھیلوں میں چین نے میڈلز کی دوڑ میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ چین نے اب تک کُل بارہ میڈلز جیتے ہیں جن میں چھ طلائی، چار چاندی اور دو کانسی کے تمغے ہیں۔

میڈلز کی دوڑ میں امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جس نے تین طلائی، پانچ چاندی اور تین کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی اولمپکس کمیٹی کے مطابق ازبکستان سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹک جمناسٹ لوئیزا گالئیولینا کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے پر اولمپکس مقابلوں میں شرکت سے باہر کر دیا ہے۔

تاشقند سے تعلق رکھنے والی گالئیولینا کو بدھ کے روز ممنوعہ دوا کے استعمال کے بعد اتوار کو ’بی‘ پیشاب ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا جس کا نتیجہ مثبت آنے پر ان کو مقابلوں میں شرکت ’فوری طور پر‘ سے روک دیا گیا۔

اتوار کو امریکی کھلاڑی کِم رہوڈ نے سکیٹ شوٹنگ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ وہ پہلی امریکی کھلاڑی ہیں جنہوں نے گزشتہ پانچ اولمپکس میں سکیٹ شوٹنگ میں تمغہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے بیجنگ اولمپکس میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

کِم نے یہ مقابلہ ننانوے نشانے لے کر جیتا اور ابھی ان کی سات نشانے باقی تھے۔ چین کی وئی نِنگ نے چاندی جبکہ سلواکیا کی ڈانکا برتیکووا نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ کِم روڈ نے ڈانکا برتیکووا کا چار سال پرانا ریکارڈ بھی برابر کیا۔

ہالینڈ کی میریان ووس نے خواتین کی روڈ سائیکلنگ کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر اپنے ملک کے لیے لندن اولمپکس میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اسی مقابلے میں برطانیہ کی لیزی آرمٹسٹیڈ نے بھی اپنے ملک کے لیے پہلا تمغہ چاندی کے تمغے کی صورت میں جیتا۔ کانسی کا تمغہ روس کی اولگا زیبیلین سکایا نے حاصل کیا۔

برطانیہ کے لیے دوسرا تمغہ تیراک ربیکا ایڈلنگٹن نے چار سو میٹر تیراکی میں کانسی کا تمغہ حاصل کر کے لیا۔ چار سو میٹر میں طلائی تمغہ فرانس اور چاندی کا تمغہ امریکہ نے جیتا۔

مردوں کے سڑسٹھ کلو گرام کے جوڈو مقابلے میں جارجیا کے لاشا شوداتواشویلی نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اسی مقابلے میں ہنگری کی مکلوس انگویری نے چاندی جبکہ کانسی کا تمغہ جاپان کے مساشی ایبینوما اور جنوبی کوریا کے جن ہو چو نے مشترکہ طور پر حاصل کیے۔

شمالی کوریا کی کُم آئی آن نے باون کلوگرام کی کیٹیگری کے جوڈو مقابلوں میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اسی مقابلے میں کیوبا کی جینٹ برموئی اکوسٹا نے چاندی کا تمغہ جبکہ کانسی کا تمغہ دو کھلاڑیوں اٹلی کی روزیلبا فورسینیٹی اور فرانس کی پریسکیلا نیٹو نے مشترکہ طور پر حاصل کیے۔

چین کی وُو مِن ژیا اور ہی زہی نے مشترکہ طور پر خواتین کی تین میٹر سنکرونائزڈ سپرنگ بورڈ ڈائیونگ کے مقابلے میں طلائی تمغے جیتے۔ اسی مقابلے میں امریکہ کی کیلسی برائنٹ اور ایبیگیل جونسٹن نے چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ کانسی کے تمغے کینیڈا کی جینیفر ایبل اور ایمیلی ایمنز کے حصے میں آئے۔

چین کی وینجن گاؤ نے لندن اولمپکس میں دس میٹر نشانہ بازی کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ فرانس کی سیلین گبرویلے نے اسی مقابلے میں چاندی کا جبکہ ایتھنز کے دوہزار چار کے اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے والی یوکرین کی اولینا کوسٹیوچ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

بیڈمنٹن ڈبلز کے مقابلوں میں آج جرمن ٹیم میں مائیکل فوش اور برگٹ مِچلز نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کرس ایڈکوک اور اموگن بینئر کو شکست دی جس کے بعد برطانوی کھلاڑیوں کا اولمپکس سفر ختم ہوگیا۔

اولمپکس مقابلے دوسرا دن: تصاویر

  • خواتین کے باون کلوگرام جوڈو مقابلوں میں جاپان کی میساتو اور شمالی کوریا کی آن کم ای (نیلے کپڑے میں) مقابلہ کرتے ہوئے۔
  • گروپ اے کے خواتین کے ایک ہاکی مقابلے میں نیدرلینڈز کی ایلن ہوگ اور بلجیئم کی گیلی ویکی بال کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش میں۔
  • جوڈو کے چھیاسٹھ کلوگرام وزن والے مردوں کے مقابلے میں روس کے موگوشکوو (سفید) اور آذربائیجان کے تارلان کریموو ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں۔
  • عورتوں کی جمناسٹکس مقابلوں میں آسٹریلیا کی ایملی لٹل فرش پر مشق کرتے ہوئے۔
  • اٹلی کے ڈینیئل ڈانسن، آندرے سیانیلو، مارسیلو میانی اور مارٹینو گوریٹی مردوں کی کشتی رانی مقابلے میں۔
  • خواتین کی سو میٹر برسٹ اسٹروک تیراکی کے مقابلوں کے بعد لتھوانیا کی روتا میلوٹائٹے رو پڑیں
  • لندن اولمپکس میں بارباڈوس کے ایلی بریڈلی مردوں کے سومیٹر بیک سٹروک مقابلے میں۔
  • چھپن کلو گرام وزن اٹھانے کے مردوں کے گروپ بی کے مقابلے میں وزن اٹھانے کے بعد انڈونیشیا کے جادی سیٹیادی خوشی سے جھوم اٹھے

وہ کون تھی؟

لندن اولمپکس کی انتظامیہ نے اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں ہندوستانی اولمپکس دستے کے ہمراہ مارچ کرنے والی پر اسرار خاتون کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔

لندن دو ہزار بارہ کی انتظامیہ کے چئرمین سیباسچن کو نے کہا کہ ’یہ خاتون انتظامیہ کی رکن تھیں اور لگتا ہے کہ کچھ زیادہ پرجوش ہو گئیں تھیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں حفاظتی نقطۂ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہوئی کیونکہ یہ خاتون سیکیورٹی سے گزر کر ہی سٹیڈیم تک پہنچیں تھیں۔

لندن اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں ہندوستانی اولمپکس دستے کے آگے چلتی ہوئی سرخ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس خاتون بہت دیر تک ایک معمہ بنی رہیں۔ ان کی موجودگی کی باعث ہندوستانی دستے کے سربراہ کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔

یہ خاتون جنہوں نے نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور سرخ رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی دستے کے آگے ہندوستان کا جھنڈا اٹھانے والے ریسلر سوشیل کمار کے ساتھ ساتھ چلتی نظر آئیں۔

ان کا سرخ لباس انہیں باقی کھلاڑیوں سے ممتاز کر رہا تھا جو کہ پیلے رنگ کی ساڑھیوں اور نیلے رنگ کے کوٹ پہنے ہوئے تھے۔

ہندوستان جو پہلے ہی افتتاحی تقریب کی نشریات میں کم وقت ملنے پر ناراض ہے نے لندن اولمپکس کی انتظامی کمیٹی سے اس معاملے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل ہندوستان کے دستے کے سربراہ پی کے ایم راجہ نے ٹائمز آف انڈیا سہ بات کرتے ہوئے کہاتھا کہ ان کے کھلاڑی یہ سمجھتے رہے کہ یہ خاتون انتظامیہ کا حصّہ ہیں۔

’یہ بہت عجیب بات تھی اور ہم اس پر معافی کا مطالبہ کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں ہندوستان کا دستہ پہلے ہی صرف دس سیکنڈز کے لیے دکھایا گیا تھا اور اس پر ساری توجہ اِن خاتون نے اپنی طرف مرکوز کروا لی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس واقعے نے ان کے ملک کو دنیا بھر میں شرمندہ کروادیا۔‘

ہندوستان کے اسّی کھلاڑی لندن اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں جن میں سے انہیں تیراندازی ،باکسنگ، بیڈمنٹن، نشانہ بازی، ٹینس اور ریسلنگ میں تمغوں کی امید ہے۔


اولمپک ٹیبل



لائیو: اولمپکس 2012

اس مواد کو دیکھنے کے لیے آپ کے براؤزر کا جاوا سکرپٹ کو چلانا ضروری ہے

(BBC Sport Olympics (In English

لائیو: اولمپکس 2012

شروع ہونے والے ایونٹ

مقابلے آغاز
- -
- -
- -
- -
- -

مکمل شیڈول دیکھیں (انگریزی میں)

تازہ ترین - گولڈ میڈلسٹ

طلائی تمغے انٹرایکٹ کرنے کے لیے کرسر اس کے اوپر لائیں

0 302

میڈل ٹیبل

رینک طلائی تمغے چاندی کے تمغے کانسی کے تمغے

تمغوں کا مکمل ٹیبل دیکھیں

تفصیل

رینک
رینک طلائی تمغے چاندی کے تمغے کانسی کے تمغے

لندن اولمپکس کا موازنہ

لندن میں ہونے والے تین اولمپک کھیلوں کا موازنہ



1908 (27 اپریل - 31 اکتوبر) 1948 (29 جولائی - 14 اگست) 2012 (27 جولائی - 12 اگست)
ایتھلیٹس کی تعداد
بائیس ممالک سے 2,035 ایتھلیٹس نے حصہ لیا جن میں سے 36 خواتین تھیں۔

انسٹھ ممالک سے 4,099 ایتھلیٹس نے حصہ لیا جن میں سے 385 خواتین تھیں۔

دو سو ممالک سے 10,490 ایتھلیٹس نے حصہ لیا جن میں سے تقریباً نصف تعداد خواتین کی ہے۔

کھیلوں کی تعداد

بائیس کھیلوں میں ٹگ آف وار، فِگر سکیٹنگ، پولو اور پاور بوٹ ریس شامل تھے۔

سترہ زمروں میں خواتین کی کینو کشتی رانی اور بینٹام ویٹ ویٹ لفٹنگ پہلی مرتبہ شامل کیے گئے۔ باسکٹ بال درونِ خانہ کھیلا جانے لگا۔ اولمپک میں فن کا آخری مقابلہ منعقد ہوا جس میں پینٹنگ، مجسمہ سازی اور فنِ تعمیر کے لیے تمغے دیے گئے۔

اس سال منعقد ہونے والے 26 کھیلوں میں خواتین کی باکسنگ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سال لندن 2012 فیسٹیول کے نام سے ثقافتی مقابلہ ہوگا لیکن اس میں جیتنے والوں کو تمغے نہیں دیے جائیں گے۔

افتتاحی تقریب

پریڈ کے لیے کوئی باقاعدہ وردی نہ ہونے کے باعث کالج گریجویٹس نے کالج یا کھیلوں کی وردی پہنی۔ دوپہر میں مختلف ممالک نے شاہی پریڈ میں حصہ لیا اور ڈینمارک سے تعلق رکھنے والی خواتین نے جمناسٹکس پیش کیے۔

.

شاہی خاندان کے افراد کی آمد پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ممبران کا بادشاہ سے تعارف کروایا گیا۔ دوپہر میں مختلف ممالک نے پریڈ میں حصہ لیا، اولمپک کے آغاز کا اعلان ہوا، اولمپک مشعل کی آمد ہوئی، طائفے نے گانا پیش کیا اور اولمپک کی حلف برداری ہوئی۔

.فلم ہدایتکار ڈینی بوئل کی جانب سے ستائیس ملین پاؤنڈ کی لاگت سے ترتیب دی گئی افتتاحی تقریب جس کا نام ’آئلز آف ونڈر‘ ہے۔ اس میں تقریباً دس ہزار رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔
سٹیڈیم


شیپہرڈز بش کے شمال میں، جسے اب وائٹ سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، خاص طور پر اولمپکس کے لیے پہلا سٹیڈیم تعمیر کیا گیا۔ ستر ہزار افراد کی گنجائش والے اس سٹیڈیم کے لیے دی فرینکو برٹش ایگزیبیشن نے ساٹھ ہزار پاؤنڈ (آج کے حساب سے پانچ عشاریہ سات ملین ) دیے۔ اس میں اولمپک میں سوئمنگ مقابلوں کے لیے 100 میٹر کے لیے سوئمنگ پول تعمیر کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد معاشی تنگی کے اس دور میں مختلف کھیلوں کے لیے نئے مقامات کی تعمیر نہیں کی گئی۔ ویمبلے سٹیڈیم میں عارضی ٹریک تعمیر کیا گیا۔ پرانے امپائر پول کے مقام پر آئس رنک کو جہاں اب ویمبلے ارینا ہے، دوبارہ سوئمنگ پول میں تبدیل کر دیا گیا۔

لندن 2012 سٹیڈیم کی تعمیر پر 500 ملین پاؤنڈ کی لاگت آئی ہے۔ یہاں پر ایتھلیٹکس کے ساتھ ساتھ افتتاحی اور اختتامی تقریب بھی منعقد ہوں گی۔ کھیلوں کے دوران اس میں اسی ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جسے بعد میں کم کر دیا جائے گا۔ ماحولیاتی اثر اور خرچ کو کم رکھنے کے لیے اس کی چھت کو لوہے یا کنکریٹ کی بجائے پلاسٹک کی ایک قسم پی وی سی سے تعمیر کیا گیا ہے۔

کھیلوں پر خرچ

حکومت کی عدم مداخلت کے باعث منتظمین کو امداد اور ٹکٹوں کی فروخت پر انحصار کرنا پڑا۔ کھیلوں کی سرکاری رپورٹ کے مطابق ان پر ساٹھ سے اسی ہزار پاؤنڈ کا خرچہ ہوا (آج کے دور میں یہ رقم 5.7 سے 7.6 ملین تک ہے)۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد منعقد ہونے والے ان اولمپکس کا بجٹ چھ ہزار پاؤنڈ تھا جوکہ آج کے دور میں اٹھارہ عشاریہ پانچ ملین کے برابر ہے۔ دس ہزار پاؤنڈ کا نفع ہوا تھا۔

.

وزیروں کے مطابق اب تک بجٹ کا 9.3 بلین پاؤنڈ خرچ ہوا ہے اور صرف ہنگامی ضروریات کے لیے مخصوص 476 ملین پاؤنڈ بچے ہیں۔

ٹکٹوں کی قیمت

مہنگی ٹکٹوں کے باعث منتظمین کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اوپر کی سیٹوں کی قیمت دو شیلنگ اور چھ پینس (افراط زر میں اضافے کے آج کے مطابق بعد 11.36 پاؤنڈ) کھڑے ہونے کی جگہ کی قیمت 6d(5.70 پاؤنڈ) اور میراتھن کی ٹکٹیں 10s سے 5£ (47.35£ سے 473.50£) تک تھیں۔

پروگرام کی باضابطہ قیمت دو شیلنگ اور چھ پینس (آج کے مطابق 3.85£) اور ٹکٹوں کی قیمت میں فرق تھا۔ افتتاحی اور اختتامی تقریب اور ایتھلیٹکس کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ کی ٹکٹ آج کے مطابق 12.92 پاؤنڈ تھی اور سیٹوں کی ٹکٹ آک کے مطابق 64.62 پاؤنڈ تھی۔

افتتاحی تقریب کے لیے بہترین سیٹوں کی قیمت ہے 2,012 پاؤنڈ۔ مرودں کی 100 میٹر کے فائنل کے لیے بہترین سیٹوں کی قیمت ہے 725 پاؤنڈ۔ لیکن فروخت ہونے والی نوے فیصد ٹکٹیں 100 یا اس سے کم پاؤنڈ، دو تہائی پچاس پاؤنڈ سے کم اور تقریباً پچیس فیصد 20 یا اس سے کم پاؤن میں فروخت ہوئی ہیں۔ بعض کھیلوں کے لیے سولہ سال سے کم عمر کے بچوں نے اپنی عمر کے مطابق قیمت ادا کی جیسا کہ دس سال کے بچے نے دس پاؤنڈ میں ٹکٹ خریدی۔

اولمپک مشعل

اس زمانے میں اولمپک مشعل نہیں تھی۔ یہ روایت 1928 میں شروع ہوئی۔ 1914 تک اولمپک رنگز بھی نہیں تھے اور اولمپک کا حلف 1920 میں آیا۔

افتتاحی تقریب سے ایک رات قبل مشعل پہنچی اور اگلی دوپہر ویمبلے پہنچی۔

اولمپک کھیلوں کی مشعل 19 مئی 2012 سے برطانیہ کے مختلف حصوں سے گزر رہی ہے۔ ستر دنوں کے اس سفر میں اس کو آٹھ ہزار افراد اٹھائیں گے۔

یادگار لمحہ


جب اطالوی ایتھلیٹ ڈورینڈو پیتری نے لڑکھڑاتے ہوئے میراتھن کی اختتامی لائن عبور کی تو ایک رومانوی کہانی، ایک یادگار تصویر نے جنم لیا۔ اختتامی لائن سے پہلے ہی گرنے کے بعد وہ منتظمین کی مدد سے اختتامی لائن تک پہنچے۔ اس پر امریکہ نے احتجاج کیا جس کی حمایت کی گئی۔

رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لینے والے امریکہ کے ہیریسن ’بونز‘ دلارڈ نے اپنے کھیل میں کوالیفائی نہ کرنے کے باعث 100 میٹر سپرنٹ میں حصہ لے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ ہیرسن اور ان کی ٹیم کے بارنی ایویل دونوں نے مقررہ فاصلہ 10.3 سیکنڈ میں طے کیا لیکن ججوں نے تصاویر کے مشاہدے کے بعد دلارڈ کو فاتح قرار دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اولمپکس میں فوٹو فنش کیمرے کا استعمال کیا گیا۔ دلارڈ نے دوسرا طلائی تمغہ 400 میٹر ریلے میں جیتا۔

اتنے زیادہ ایونٹ اور ایتھلیٹس کی موجودگی میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن سات مرتبہ ومبلڈن چیمپیئن راجر فریڈرر اولمپکس کے سنگل مقابلوں میں پہلا طلائی تمغہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ برطانیہ کے اینڈی مرے اگر طلائی تمغہ جیتتے ہیں تو حال ہی میں ومبلڈن فائنل میں فیڈرر کے ہاتھوں شکست کی تکلیف کچھ کم ہوجائے گی۔

ریکارڈ

100 میٹر: 10.8 سیکنڈ (ریگی والکر، جنوبی افریقہ)

میراتھن: 2 گھنٹے 55 منٹ 18.4 سیکنڈ (ہیز، امریکہ)

1500 میٹر فری سٹائل سوئمنگ: 22 منٹ 28.4 سیکنڈ (ہینری ٹیلر، برطانیہ)

100 میٹر: 10.3 سیکنڈ (ہیریسن دلارڈ، امریکہ)

میراتھن 2 گھنٹے 34 منٹ 51 سیکنڈ (ڈیلفو کیبریرا، ارجنٹائن)

1500 میٹر فری سٹائل سوئمنگ: 19 منٹ 18.5 سیکنڈ (جیمز میکلین، امریکہ)

100 میٹر: 9.69 سیکنڈ (یوسین بولٹ، جمیکا، 2008)

میراتھن: 2 گھنٹے 6 منٹ 32 سیکنڈ (سیمی ونجیرو، گینیا، 2008)

1500 میٹر فری سٹائل سوئمنگ 14 منٹ 38.92 سیکنڈ (گرانٹ ہیکیٹ، آسٹریلیا، 2008)

برطانیہ کے تمغے

حاصل کردہ کل 146 میں سے 56 طلائی تمغے تھے جو کہ برطانوی ٹیم کا ریکارڈ ہے۔

کل 23 تمغے حاصل کیے جن میں سے تین طلائی تمغے تھے اور برطانیہ بارہویں پوزیشن پر آیا۔

دو ہزار آٹھ میں منعقد ہونے والے بیجینگ اولمپکس میں ٹیم برطانیہ نے کل 47 تمغے حاصل کیے جن میں سے 19 طلائی تھے۔ برطانیہ چوتھی پوزیشن پر رہا۔

سپانسر

باضابطہ طور پر کیٹرنگ کا ذمہ دار اوکسو نامی ادارہ تھا اس نے کھلاڑیوں کو اوکسو ڈرنک فلاسک، چاولوں کی پڈنگ، کیلے، سوڈا اور دودھ مہیہ کیا۔

جنگ کے بعد خوراک اور ایندھن کی قلت کے اس دور میں سپانسرز بہت کم تھے۔ شائقین اور ایتھلیٹس کو کھیلوں کے مقامات کے باہر کھوکھوں پر کوکا کولا دستایب ہوتی تھی۔

گیارہ عالمی سپانسر جیسا کہ کوکا کولا کے علاوہ اہم مقامی سپانسرز میں ادیداس، بی ایم ڈبلیو، بی پی، برٹش ائرویز، بی ٹی ایل، ای ڈی، اور لائڈز ٹی ایس بی بینک شامل ہیں۔

اولمپکس کے ہیرو


دو ہزار آٹھ میں سائیکلسٹ کرس ہوئے سے قبل برطانوی تیراک ہینری ٹیلر جن کا تعلق اولڈ ہیم سے تھا، وہ آخری برطانوی تھے جنہوں نے ایک ہی اولمپکس میں تین طلائی تمغے جیتے تھے۔ 400 میٹر فری سٹائل، 1500 میٹر اور 4x200 میٹر ریلے جیتنے کے باوجود انہوں نے خاموشی سے ریٹائر ہو کر ایک پب چلایا اور 1952 میں انتقال کر گئے۔

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں تیس سالہ فینی بلینکرز کوین نے 100 میٹر، دو سو میٹر اور 80 میٹر رکاوٹوں والی دوڑ اور 400 میٹر ریلے میں طلائی تمغے جیتے۔ ’فلائنگ وائف‘ کے نام سے جانی جانے والی بلینکرز کو 1999 میں صدی کی خاتون ایتھلیٹ قرار دیا گیا۔ وہ 2004 میں پچاسی سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

تمام نظریں جمیکا کے یوسین بولٹ پر ہوں گی جو کہ 100 میٹر سپرنٹ کے فائنل میں اپنے ہی ریکارڈ کو توڑنے کی کوشش کریں گے۔ چار مرتبہ اولمپک چیمپیئن رہنے والے مائیکل جانسن کا ماننا ہے کہ اگر بولٹ اپنے سٹائل کو بہتر بنالیں تو وہ 100 میٹر کا فاصلہ 9.4 سیکنڈ میں طے کر سکتے ہیں۔

میڈیا

ریڈیو اور ٹی وی کی عدم موجودگی میں کھیلوں کی تشہیر کے لیے منتظمین کا انحصار اخباروں اور میگزین پر تھا۔

ان کھیلوں کو ریڈیو کے ذریعے 58 ممالک میں نشر کیا گیا اور برطانیہ میں پانچ لاکھ افراد نے اسے ٹی وی پر دیکھا۔

ان اولمپکس کی افتتاحی تقریب کو ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں مختلف ذرائع سے چار ارب افراد دیکھیں گے۔

ایتھلیٹس کی رہائش

اس وقت کوئی ’اولمپک ویلیج‘ نہیں تھا اور مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو ہوٹلوں اور ہاسٹلوں میں رکھا گیا۔ ٹریننگ کے لیے ان کو لندن پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کے میدانوں، سوئمنگ پول، جم اور بوٹ ہاوس تک رسائی دی گئی۔

زیادہ تر ایتھلیٹس کو رائل ائر فورس کے بیرکوں میں رہائش دی گئی۔ اس غرض سے مڈل سیکس اور بکنگہم شائر کے سکول بھی استعمال کیے گئے۔ خواتین نے ہوٹلوں اور ایکلسٹن سکوئر میں قیام کیا جہاں ہر کمرے میں چار بیڈ لگائے گئے۔

چھتیس ہیکٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا سات سو بارہ ملین کی لاگت سے تیار کیے گئے ’ایتھلیٹس ویلیج‘ میں گیارہ مختلف پلاٹوں پر کل 2,818 اپارٹمنٹ ہیں۔ ایک سوشل ہب ہے جسے گلوب کا نام دیا گیا ہے۔ اس سوشل ہب میں غیر نشہ آور مشروبات کی ایک بار ہے، ڈی جے ساؤنڈ سسٹم اور آرام دہ ماحول ہے۔

تنازعات

فن لینڈّ سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس کو کہا گیا کہ وہ روسی جھنڈے تلے مارچ کریں لیکن انہوں نے کسی جھنڈے کے بغیر مارچ میں حصہ لیا۔ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے بعض ایتھلیٹس کو کھیلوں میں برطانیہ کی نمائندگی کا کہا گیا لیکن وہ دستبردار ہوگئے۔ 400 میٹر کے فائنل میں ایک امریکی کھلاڑی کو بلاکنگ کرنے کی وجہ سے نااہل قرار دیا گیا جس پر ان کے دو ہم وطن بھی دستبردار ہوگئے۔ مقابلے میں شامل برطانوی کھلاڑی ویندھام ہیلسویل ٹریک کے گرد اکیلے ہی دوڑ لگا کر فاتح قرار پائے۔

دوسری جنگ عظیم کے باعث بارہ سال بعد اولمپکس منعقد ہوئے۔ جرمنی اور جاپان کو مدعو نہیں کیا گیا جبکہ سوویت یونین نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیکو سلوواکیا میں انٹرنیشنل جمناسٹک فیڈریشن کی صدر میری پرووزنیکووا وہ پہلی شخص تھیں جنہوں نے اولمپکس کے بعد واپس وطن جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ سوویت بلاک میں شمولیت کے بعد ان کے ملک میں ’آزادی کا فقدان‘ ہے۔

دو ہزار آٹھ کے بیجنگ اولمپکس میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے خلاف مظاہروں کی وجہ سے مشعل کے سفر میں رکاوٹ پڑی۔ لندن 2012 کا اب تک کا اہم تنازعہ سکیورٹی کی صورتحال رہا ہے۔ سکیورٹی کمپنی جی فور ایس معاہدے کے مطابق سکیورٹی اہلکار فراہم نہیں کر سکی جس کے باعث ساڑھے تین ہزار فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

بیئر کی اوسطً قیمت؟

2d (پینس)

6d (پینس)

£3.17

ذرائع: برطانوی اولمپک ایسوی ایشن، اولمپک تاریخ دان فل بارکر، گورنمنٹ اولمپک ایسوسی ایشن



BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔