پاکستانی تیراک کرن خان کے الزامات مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انعم بانڈے ابتدائی مقابلوں میں ہی lلندن اولمپکس سے باہر ہوگئی ہیں۔

پاکستان سوئمنگ فیڈریشن نے خاتون تیراک کرن خان کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ لندن اولمپکس میں ان کی جگہ انعم بانڈے کو موقع دے کر مبینہ طور پر ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے اور یہ سراسر اقربا پروری ہے۔

واضح رہے کہ انعم بانڈے نے لندن اولمپکس میں چار سو میٹرز انفرادی میڈلے میں حصہ لیا اگرچہ انہوں نے تین سیکنڈز کے فرق سے پاکستان کا نیا قومی ریکارڈ قائم کیا لیکن مقابلوں سے باہر ہوگئیں۔

کرن خان نے جو بیجنگ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا نام لندن اولمپکس کے لیے بھیجا جاچکا تھا لیکن بعد میں سیاست نے کام دکھایا اور ان کی جگہ پاکستان سے باہر رہنے والی انعم بانڈے کو شرکت کا موقع دے دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرن خان نے 2004ء کے ایتھنز اولمپکس میں بھی اسی طرح کے الزامات عائد کئے تھے اور رباب رضا کی شرکت کو اپنے ساتھ ناانصافی قرار دیاتھا۔

لندن اولمپکس میں پاکستانی تیراکوں کے ساتھ موجود پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی نائب صدر فاطمہ لاکھانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کرن خان غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں کیونکہ وہ اور انعم بانڈے دونوں نے گزشتہ سال شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ فینا چیمپئن شپ میں حصہ لیا تھا اور اپنی پسند کے ایونٹس میں حصہ لیا تھا‘۔

’کرن خان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی جبکہ انعم بانڈے نے اس چیمپئن شپ میں دو نئے قومی ریکارڈز قائم کئے تھے جس کی بدولت انہیں وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی‘۔

فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ وہ انعم بانڈے کی کارکردگی پر خوش ہیں۔

پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کے سیکرٹری میجر ماجد وسیم کے مطابق چونکہ کرن خان کو بیجنگ اولمپکس میں وائلڈ کارڈ انٹری دی جاچکی تھی لہذا انہیں دوبارہ وائلڈ کارڈ نہیں مل سکتا تھا۔

اسی بارے میں