سائیکل رکشے پر چین سے لندن کا سفر

شین اپنے رکشے کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شین اپنے رکشے کے ساتھ ایک سو چالیس ہزار کیلو میٹر کے سفر پر ہیں۔

چین کے ایک کسان شین گوانمنگ اولمپک کے فروغ کے لیے رکشے پر ساٹھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے لندن پہنچے ہیں۔

انہوں نے دو ہزار آٹھ میں ایک سٹیڈیم میں لندن کے میئر کو جب اولمپک مشعل قبول کرنے کا منظر دیکھا تو اس سے انہیں اگلے اولمپکس مقابلے منعقد کرنے والے شہر جانے کی تحریک ملی اور اسی جذبے سے مغلوب ہو کر انہوں نے اپنے واحد وسیلہ ان کا سائیکل رکشہ تھا اور اس پر ہی انہوں نے لندن کا سفر شروع کیا۔

لندن تک پہنچنے کے لیے انہوں نے ساٹھ ہزار کلو میٹر کا لمبا سفر طے کیا جس کے دوران سولہ ممالک سے ان کا گذر ہوا اور انہیں سیلاب، جنگ زدہ علاقوں، پہاڑوں، درّوں کی صعوبتوں سے بھی گذرنا پڑا۔ کہیں کہیں تو انہیں منفی تیس ڈگری درجہ حرارت تک برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سفر کا مقصد ’المپک کے جوش کو پھیلانا‘ ہے۔

ستاون سالہ چینی کسان شین نے بتایا کہ انھوں نے اس سفر کے لیے تیئیس مئی، سنہ دو ہزار دس کو اپنا گھر چھوڑا تھا۔

وسٹ لندن میں نارووڈ گرین کے جان بیسٹن نے انہیں انتہائی خستہ اور گھبرائی حالت میں لوور ریجنٹ سٹریٹ میں دیکھا۔

بیسٹن نے کہا کہ انہیں دیکھ کر ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ وہ کوئی سیاح ہیں جو سائیکل رکشے پر وہاں آئے ہیں لیکن پھر یہ خیال آیا کہ نہیں یہ کچھ اور ہے۔

بیسٹن نے کہا جب میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی چینی زبان منڈارن میں چینی سیاح سے بات کی تو ان میں جان آ گئی۔

شن نے دنیا کے یادگار مقامات پر اپنی تصویریں لے رکھی تھیں اور انہوں نے اپنے رکشے پر یہ بینر لگا رکھا تھا کہ وہ چین سمیت دنیا کےایک لاکھ چالیس ہزار کلومیٹر کے سفر پر نکلے ہیں۔

بیسٹن اس کے بعد شین کو سوہو کے چائنا ٹاؤن لے گئے جہاں شین نے اپنی کہانی سنائی اور اس کے بعد سے لوگ ان کی تعریف و توصیف کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔

ستاون سالہ شین مشرقی چین کے جیانگ سو سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے پاس پاسپورٹ ہے اور پریس کٹنگ بھی ہے جس سے ان کا کارنامہ ثابت ہوتا ہے۔

اسی بارے میں