پاکستان آج شوٹنگ اور ہاکی کے میدان میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1992 بارسلونا اولمپکس کے بعد سے پاکستانی ٹیم اولمپکس میں تمغہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں جاری تیسویں اولمپکس کھیلوں میں آج پاکستان ہاکی اور شوٹنگ کے میدان میں اترے گا۔

پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے پاکستانی کھلاڑی خرم انعام سکیٹ شوٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خرم انعام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کے مدِ مقابل دنیا کے پینتیس بہترین کھلاڑی ہوں گے۔ ’میری کوشش ہو گی کہ میں پہلے دس یا پندرہ کھلاڑیوں میں اپنا نام لکھوا سکوں۔‘

خرم انعام تیسری مرتبہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ سکیٹ رائفل شوٹر ہیں اور اس سے قبل سڈنی اور ایتھنز اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئےخرم انعام کہتے ہیں کہ ان سے تمغے کی امید رکھنا درست نہ ہوگا، کیونکہ رائفل شوٹنگ میں پاکستان باقی دنیا سے بہت پیچھے ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی ہاکی ٹیم پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر سپین کا سامنا کرے گی۔

وہی لندن آج پھر اولمپکس کا میزبان ہے جہاں آج سے چونسٹھ سال پہلے پاکستانی ہاکی کا بین الاقوامی سفر شروع ہوا تھا۔ 1948ء کے لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے علی اقتدار شاہ دارا کی قیادت میں حصہ لیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی بدقسمتی کہ جن دنوں وہ اپنے عروج پر تھی مغربی دنیا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں روسی موجودگی کے خلاف احتجاج کے طور پر ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کر دیا اور ہاکی کی صف اول کی ٹیموں کی غیرموجودگی کافائدہ اٹھا کر بھارت نے فائنل میں سپین کو ہرا کر طلائی تمغہ جیت لیا۔

1984 کے لاس اینجلس اولمپکس ایک بار پھر پاکستانی ہاکی کے لیے خوشی کی خبر لے آئے۔ منظور جونیئر کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے تیسری مرتبہ اور سولہ سال کے طویل انتظار کے بعد اولمپک چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

سیمی فائنل میں پاکستان نے آسٹریلیا کو حسن سردار کے گول کی بدولت شکست دی۔ فائنل میں پاکستان نے جرمنی کے چیلنج پر ایک کے مقابلے میں دوگول سے قابو پا لیا۔فیصلہ کن گول کلیم اللہ نے کیا۔

1988ء کے سیول اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے ناصر علی کی قیادت میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی ٹیم اولمپکس میں سیمی فائنل تک بھی نہ پہنچ سکی۔

1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے شہباز احمد کی قیادت میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ سیمی فائنل میں پاکستان کو جرمنی نے دو ایک سے شکست دی۔ تیسری پوزیشن کے میچ میں پاکستان نے ہالینڈ کو تین کے مقابلے میں چار گول سے ہرا دیا۔

اس کے بعد پاکستانی ٹیم اولمپکس میں تمغہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں