خواہش کی تکمیل لیکن ذرا دیر سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

خاتون ایتھلیٹ بشریٰ پروین کو بیجنگ اولمپکس میں حصہ نہ لینے کا جتنا افسوس تھا لندن اولمپکس میں شرکت کی اتنی ہی خوشی ہے حالانکہ وہ خود ٹریک پر نہیں دوڑ رہی ہیں بلکہ یہ شرکت آٹھ سو میٹرز میں حصہ لینے والی سپرنٹر رابعہ عاشق کی کوچ کی حیثیت سے ہیں۔

’بیجنگ اولمپکس کے لیے میری نامزدگی ہوئی تھی لیکن صدف صدیقی کو صرف اس وجہ سے منتخب کرلیا گیا کیونکہ انہوں نے قومی ریکارڈ قائم کررکھا تھا۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کروں۔ کھلاڑی کی حیثیت سے تو وہ پوری نہ ہوسکی لیکن کوچ کی حیثیت سے یہ دیرینہ خواہش اب پوری ہوئی ہے۔‘

بشریٰ پروین کا شمار پاکستان کی کامیاب ایتھلیٹس میں ہوتا ہے۔ آٹھ سو میٹرز اور چار ضرب چار سو میٹرز ریلے کے قومی ریکارڈز کے آگے انہی کا نام درج ہے۔ 2006 میں کولمبو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں بشریٰ پروین نے آٹھ سو میٹرز کا فاصلہ دو منٹ آٹھ اعشاریہ صفر چار سیکنڈز میں طے کیا تھا۔ انہی کھیلوں میں وہ ریلے کا قومی ریکارڈ تین منٹ چوالیس اعشاریہ آٹھ ایک سیکنڈز میں قائم کرنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھیں۔

پروین چار سو میٹرز کی قومی انڈور ریکارڈ ہولڈر بھی ہیں جو انہوں نے 2005 میں تھائی لینڈ میں ہونے والی ایشین انڈور چیمپئن شپ کے دوران ستاون اعشاریہ سات پانچ سیکنڈز میں قائم کیا تھا۔

بشریٰ پروین کو امید ہے کہ رابعہ عاشق آٹھ سو میٹرز میں ان کا ریکارڈ توڑسکتی ہیں۔

’میں تین سال سے رابعہ کی کوچنگ کررہی ہوں۔ وہ بہت ہی باصلاحیت ایتھلیٹ ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے تھائی لینڈ گراں پری میں دو منٹ دس سیکنڈز کا وقت لیا تھا ان کی ٹریننگ بتارہی ہے کہ وہ اس وقت کو مزید بہتر کرکے نیا ریکارڈ قائم کرسکتی ہیں اور مجھے اس کی بہت خوشی ہوگی۔‘

بشریٰ اس بات پر بہت مطمئن اور خوش ہیں کہ شاندار کیریئر کے بعد اب وہ اپنا تجربہ کوچ کی حیثیت سے نوجوان باصلاحیت ایتھلیٹس میں منتقل کررہی ہیں۔

’پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اس وقت کئی باصلاحیت لڑکیاں اور لڑکے میری نگرانی میں ٹریننگ کررہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ چار پانچ ایسی ایتھلیٹس تیار کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گی جو آنے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں تمغے جیت سکیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے اب کھیلوں میں حصہ لینا ماضی کے مقابلے میں آسان ہوتا جارہا ہے۔

’ماضی میں جب لڑکیاں کھیلوں میں آنا چاہتی تھیں تو انہیں پہلی مخالفت کا سامنا گھر سے ہی ہوتا تھا اور اگر گھر والے مان جاتے تو خاندان والے اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں لڑکیاں زندگی کے مختلف شعبوں کی طرح اسپورٹس میں بھی موجود ہیں۔‘

بشریٰ بعض ایتھلیٹس کے ان گلے شکووں سے اتفاق نہیں کرتیں کہ انہیں ضروری سہولتیں میسر نہیں۔ ’آرمی اور واپڈا قومی سطح پر ایتھلیٹکس کے لیے بہت کام کررہے ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ایتھلیٹس بھی اب اس پوزیشن میں ہیں کہ سپائکس اور دوسری چیزوں کے متحمل ہوسکیں۔ حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایتھلیٹکس ہی ان کی پہچان ہے اور وہ اپنے کیریئر سے مطمئن ہیں۔

اپنے کیریئر میں جیتے گئے تمغوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بشریٰ نے کا قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا ’ ڈرائنگ روم میں ہر طرف ٹرافیاں اور میڈلز ہی سجے ہوئے ہیں لیکن کبھی سوچا ہی نہیں کہ گنتی کروں۔‘

اسی بارے میں