پندرہ سالہ تیراک اور نسلی ٹوئیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لتھواینیا کی پندرہ سالہ رتا میلوتت نے خواتین کی سو میٹر بریسٹ سٹروک میں امریکی تیراک کو ہرا کر اپنے ملک کے لیے پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔

رتا نے شروع ہی سے اپنی برتری رکھی اور آخر تک برقرار رکھی۔ انہوں نے امریکی تیراک ربیکا سونی کو 0.08 سیکنڈز سے شکست دی۔ ’مجھے یقین نہیں آ رہا۔‘

جاپان نے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ آسٹریلیا کی پانچویں پوزیشن آئی۔

اس سے قبل کہ تمام تیراک اپنی جگہ پر آئے ریس کے آغاز کا سائرن بج گیا تھا۔ جب دوسری بار تمام تیراک تیار ہوئیں تو اس میں رتا نے نہ صرف تماشائیوں کو بلکہ اپنے آپ کو بھی اتنا تیز تیر کر حیران کردیا۔

رتا تین سال قبل اپنے والد کے ساتھ برطانیہ میں رہائش پذیر ہوئی ہیں۔ ان کی تربیت مشہور کوچ جون رڈ کر رہے ہیں۔

جون رڈ کا کہنا ہے ’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کریں گی۔ وہ جب برطانیہ آئیں تو ان کے بیک سٹروک کافی اچھے تھے اور ہم نے ان کو بہتر بنایا۔‘

خرم انعام کا مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لندن اولمپکس میں شرکت کرنے والے پاکستانی نشانہ باز خرم انعام نے نشانہ بازی کے مقابلے کے پہلے تین کوالیفائنگ راؤنڈز میں کل 67 کا مجموعی سکور کیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی پینتالیس سالہ خرم انعام تیسری بار اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے خرم دو ہزار کے سڈنی اولمپکس اور دو ہزار چار کے ایتھنز اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

لندن کے رائل آرٹلری بیرکس میں ہونے والے مقابلوں میں خرم اپنے سے کئی گنا بہتر پروفیشنلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ خرم اس وقت چھتیس کھلاڑیوں میں تیسویں پوزیشن پر ہیں۔

خرم نے پہلے راؤنڈ میں اکیس سکور کیا جبکہ دوسرے راؤنڈ میں تئیس اور تیسرے راؤنڈ میں بھی تئیس ہی سکور کیا۔

اولمپکس میں مردوں کا سکیٹ شوٹنگ مقابلہ پانچ راؤنڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ پچیس نشانے اس وقت نشانہ بنانا ہوتا ہے جب ایک مشین ان نشانوں کو ہوا میں مختلف ترتیب سے پھیکتی ہے۔ پہلے پانچ راؤنڈز میں سب سے زیادہ نشانے لینے والے چھ نشانہ بازوں کو ایک فائنل راؤنڈ میں نشانہ بازی کرنی ہوتی ہے۔

سکیٹ شوٹنگ انیس سو اڑسٹھ میں اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا۔ انیس سو چھیانوے میں یہ مقابلہ صرف مردوں کے لیے محدود تھا۔

اتنا تیز تو مرد بھی نہیں تیرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چین کی 16 سالہ تیراک یے شیون اتنا تیز تیریں کہ سب حیران رہ گئے۔ دو سو میٹر میڈلے کے آخری پچاس میٹر کی دوری انہوں نے صرف 28.93 سیکنڈ میں پوری کی۔

اتنی تیزی سے تو مردوں کے طلائی تمغہ فاتح امریکی تیراک راين لوٹے بھی نہیں تیرے جنہوں نے اس کے لیے 29.10 سیکنڈ لیے۔

یہ رفتار دیکھ کر کمینٹیٹر کلیئر بالڈگ بھی دنگ رہ گئیں اور ان کے منہ سے نکل پڑا ’مارک کوئی اگر اچانک اتنی تیزی سے تیر جائے تو پھر پتہ نہیں کتنے سوال پوچھے جائیں گے؟‘

ماہرین اور سابق برطانوی اولپيئن مارک فوسٹر سے پوچھا گیا یہ سوال حساس تھا کیونکہ پہلے چین کے کچھ تیراک منشیات کے سکینڈل میں پھنس چکے ہیں۔

مگر مارک نے بات سنبھالتے ہوئے کہا ’شیون سولہ سال کی ہیں۔ ان کی عمر کو دیکھا جائے تو انہوں نے جو کیا وہ بالکل ممکن ہے۔‘

نسلی ٹوئیٹ پر اولمپکس سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سوئٹزرلینڈ کی اولمپکس فٹ بال ٹیم نے دفاعی کھلاڑی مورگنیلا کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نسلی ٹوئیٹ کرنے پر ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ہے۔

یہ ٹوئیٹ انہوں نے جنوبی کوریا کی عوام کے متعلق اس وقت کیا جب ان کی ٹیم جنوبی جوریا سے ایک کے مقابلے میں دو گولوں سے ہار گئی تھی۔

اس ٹوئیٹ کے بعد تئیس سالہ فٹ بالر کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ ختم کردیا گیا ہے اور انہوں نے معافی بھی مانگی ہے۔

مورگنیلا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ’میں نے میچ ہارنے کے بعد بہت بڑی غلطی کردی ہے۔ میں جنوبی کوریا کی عوام اور ٹیم سے معافی کے ساتھ ساتھ سوئس ٹیم اور سوئس فٹ بال سے بھی معافی مانگتا ہوں۔‘

یاد رہے کہ اس جولائی کے شروع میں یونان کی ٹرپل جمپر کو بھی اولمپک ٹیم سے اس لیے نکال دیا گیا تھا کہ ان کے ٹوئیٹ کو غیر موزوں قرار دیا گیا تھا۔

آنسوؤں کے باعث تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یوکرین کی یما شمایاکنا نے ایپی میں طلائی تمغہ حاصل کیا لیکن شہ سرخیوں میں جنوبی کوریا کی شن لام رہیں۔

شن لام اس وقت رو پڑیں جب وہ سیمی فائنل میں جرمنی کی بریٹی ہائیڈمین سے ہار گئیں۔

شن کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ جیت گئی ہیں لیکن ریفریز نے گھڑی کو دوبارہ سیٹ کیا جس کے باعث وہ ہار گئیں۔

جنوبی کوریا کی ٹیم نے احتجاج کیا لیکن ان کے احتجاج کو مسترد کردیا گیا اور شن کے کوچ کو ایرینا سے باہر لے جایا گیا۔

شن نے بعد میں کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ میں جو اس وقت محسوس کر رہی ہوں اس کو کیسے بیان کروں۔ میں پچھلے چار سال سے اولمپک میڈل کے لیے محنت کر رہی ہوں۔ لیکن میں ایک سیکنڈ میں ہار گئی۔ میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔‘

شن اور بریٹی پانچ پانچ سے برابر تھیں اور اگر سڈن ڈیتھ کا ایک منٹ شن بغیر کوئی پوائنٹ دیے پورا کر لیتی تو وہ فائنل میں پہنچ جاتیں۔ لیکن آخری سیکنڈ میں بریٹی نے ایک پوائنٹ حاصل کر لیا۔

اس میچ کے بعد تیسری پوزیشن کے لیے شن ستر منٹ تاخیر سے آئیں اور وہ چین کی کھلاڑی سے ہار گئیں۔

اسی بارے میں