پاکستانی تیراک،نشانہ باز اولمپکس سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لندن میں جاری تیسویں اولمپکس مقابلوں کے چوتھے دن پاکستانی تیراک اسرار حسین اور نشانہ باز خرم انعام کوالیفائنگ مقابلوں میں ہی شکست کھا گئے ہیں۔

پاکستانی نشانہ باز خرم انعام سکیٹ شوٹنگ کے مقابلے میں شریک تھے اور انہوں نے پیر کو اس مقابلے کے پہلے تین کوالیفائنگ راؤنڈز میں سڑسٹھ پوائنٹس حاصل کیے تھے۔

منگل کو لندن کی رائل آرٹلری بیرکس میں ہونے والے مقابلوں میں خرم نے کوالیفائنگ مرحلے کے بقیہ دو مراحل میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی تاہم وہ چھتیس نشانہ بازوں میں سے انتیسویں نمبر پر ہی رہے۔

اولمپکس میں مردوں کا سکیٹ شوٹنگ کا ابتدائی مرحلہ پانچ راؤنڈز پر مشتمل ہوتا ہے اور پہلے پانچ راؤنڈز میں سب سے زیادہ پوائنٹس لینے والے چھ نشانہ باز فائنل راؤنڈ میں مقابلہ کرتے ہیں۔

سکیٹ شوٹنگ کو انیس سو اڑسٹھ میں اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا اور انیس سو چھیانوے تک یہ مقابلے صرف مردوں کے لیے محدود تھے۔

پاکستانی تیراک اسرار حسین کی کارکردگی بھی اولمپکس میں کچھ خاص نہ رہی۔ وہ سو میٹر فری سٹائل درجہ بندی کے ابتدائی مقابلوں میں اپنی ہیٹ میں سب سے پیچھے رہے اور مجموعی طور پر مقابلے میں شریک چھپن تیراکوں میں سے چونویں نمبر پر آئے۔

انہوں نے مقررہ فاصلہ ستاون اعشاریہ آٹھ چھ سیکنڈ کے وقت میں طے کیا جو کہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں سرفہرست رہنے والے امریکی تیراک ایڈریئن ناتھن سے نو اعشاریہ چھ سات سیکنڈ کم تھا۔

خرم انعام اور اسرار حسین کو لندن اولمپکس میں وائلڈ کارڈ انٹری ملی تھی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی پینتالیس سالہ خرم انعام تیسری بار اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ دو ہزار کے سڈنی اولمپکس اور دو ہزار چار کے ایتھنز اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

ان دونوں کھلاڑیوں کے اولمپکس سے باہر ہونے کے بعد انفرادی مقابلوں میں اب صرف پاکستان کے دو ایتھلیٹس لیاقت علی اور رابعہ عاشق باقی رہ گئے ہیں جو بالترتیب چار اور آٹھ اگست میں ٹریک پر اتریں گے۔

اسی بارے میں