اولمپکس:میچ جیتنے کی کوشش نہ کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متنازع میچ کے دوران ریفری نے ایک مرتبہ کورٹ پر آ کر کھلاڑیوں کو تنبیہ بھی کی

لندن اولمپکس میں شریک چینی دستے کے حکام نے ان الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ دو چینی بیڈمنٹن کھلاڑیوں نے ایک میچ ’جان بوجھ کر ہارا‘۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی اولمپک کمیٹی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کسی بھی ایسے رویے کی مخالف ہے جو کھیل کی روح اور اخلاقیات کے خلاف ہو۔

چین کی یو یئینگ اور وانگ زیاؤلی لندن میں جاری اولمپکس مقابلوں میں شریک ان آٹھ خاتون کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کے خلاف بیڈمنٹن کی عالمی فیڈریشن نے’میچ جیتنے کی بھرپور کوشش نہ کرنے‘ پر انضباطی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باقی چھ کھلاڑیوں میں سے چار کا تعلق جنوبی کوریا اور دو کا انڈونیشیا سے ہے۔

چین کی یو یئینگ اور وانگ زیاؤلی اور جنوبی کوریا کی جونگ کیونک یون اور کم ہانا پر دلجمعی سے نہ کھیلنے کا الزام اولمپکس میں ان کے میچ میں تماشائیوں کی شدید ہوٹنگ کے بعد لگایا گیا۔

اس میچ میں سب سے لمبی ریلی صرف چار شاٹس پر مشتمل تھی اور میچ کے دوران ریفری نے ایک مرتبہ کورٹ پر آ کر کھلاڑیوں کو تنبیہ بھی کی۔

اس میچ سے قبل یہ دونوں ٹیمیں کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی تھیں اور اطلاعات کے مطابق دونوں ہی یہ میچ ہار کر کوارٹر فائنل میں آسان حریف کا سامنا کرنے کی متمنی تھیں۔

جنوبی کوریائی کھلاڑیوں نے تو اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کیا تاہم چینی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ ناک آْؤٹ مرحلے کے لیے اپنی توانائی بچا رہی تھیں۔

چینی اولمپک کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چینی کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

بیڈمنٹن فیڈریشن جنوبی کوریا کی ہی ایک اور ڈبلز جوڑی اور انڈونیشیائی کھلاڑیوں کے مابین میچ کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

یہ دونوں ٹیمیں بھی پہلے ہی کوارٹر فائنل مرحلے میں جگہ بنا چکی تھیں اور یہ میچ ایک بور مقابلے کے بعد انڈونیشیا نے جیتا تھا۔

بی ڈبلیو ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں جوڑیوں پر ’میچ میں فتح کے حصول کے لیے بہترین کھیل پیش نہ کرنے‘ اور ’اپنی حرکات سے کھیل کو بدنام کرنے کی کوشش‘ کے الزامات کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں