’سترہ برس کی عمر میں اولمپیئن بننے پر فخر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption توثیق بہت کم عمری سے ہاکی کھیل رہے ہیں

لندن اولمپکس میں جاری ہاکی مقابلوں کے کم عمر ترین کھلاڑی پاکستان کے محمد توثیق کا کہنا ہے کہ اولمپیئن بننا ہر ہاکی کے کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے اور ان کا یہ خواب کم عمری میں ہی پورا ہو گیا جس پر وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔

پنجاب کے شہر گوجرہ سے تعلق رکھنے والے محمد توثیق کی عمر سترہ سال دو ماہ ہے اور وہ لندن اولمپکس میں شریک ہاکی کی تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں میں سب سے کم عمر ہیں۔

محمد توثیق کا کہنا ہے کہ ہاکی کا کھیل ان کے خون میں شامل ہے کیونکہ ان کے خاندان کے گیارہ افراد ہاکی کے بین الاقوامی کھلاڑی رہ چکے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اولمپکس کھیلنے کا اعزاز حاصل نہیں کر سکا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اپنے خاندان کے پہلے فرد ہیں۔

محمد توثیق کے تایا اسلم روڈا نصف صدی سے پاکستان کی ہاکی کی خدمت کر رہے ہیں۔

پچھہتر سالہ اسلم روڈا کے ہاکی کلب نے پاکستان کو کئی نامور کھلاڑی دیے اور محمد توثیق بھی اسی کلب کی پیداوار ہیں۔

توثیق بہت کم عمری سے ہاکی کھیل رہے ہیں۔ برما میں ہونے والے پہلے یوتھ ایشیاء کپ میں ان کی شاندار کارکردگی نے ان پر پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے دروازے کھولے تھے اور تقریباً ڈیڑھ سال سے وہ قومی ٹیم کے رکن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیلی ٹرف پر تربیت سے بھی ٹیم کو فائدہ ہوا ہے

ان کا کہنا ہے کہ وہ لندن اولمپکس میں اپنی ٹیم کے لیے جان لڑا دیں گے اورانہوں نے کیمپ میں بہت محنت سے تربیت کی ہے۔ ان کے مطابق ’ساری ٹیم نے سخت محنت کی اور سب ہی اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں‘۔

محمد توثیق کے بقول نیلی ٹرف پر تربیت سے بھی ٹیم کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑی اور خاص طور پر کپتان سہیل عباس ان کی بہت رہنمائی کرتے ہیں اور چونکہ وہ بھی پینلٹی کارنر لگاتے ہیں تو سہیل عباس جو کہ اس شعبے کے ماہر ہیں ان کی تکنیک پر خاص توجہ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق سینیئر کھلاڑی کبھی انہیں کم عمر ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتے اور انہوں نے بھی سینیئر کھلاڑیوں سے مدد مانگنے میں کبھی کوئی ججھک محسوس نہیں کی۔

اسی بارے میں