لندن اولمپکس:’پراسرار‘ خاتون نے معافی مانگ لی

مدھورا ناگیندر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مدھورا ناگیندر کا تعلق بنگلور سے ہے

لندن میں اولمپک مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں ہندوستانی اولمپک دستے کے ہمراہ مارچ کرنے والی ’پر اسرار‘ خاتون مدھورا ناگیندر نے معافی مانگ لی ہے۔

مدھورا نے کہا کہ بھارتی دستے کے ساتھ مارچ کرنا ’ایک غلط فیصلہ تھا‘۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ اولمپک کی افتتاحی تقریب کی ’ کاسٹ ممبر‘ تھیں اور وہ بغیر اجازت وہاں نہیں گئی تھیں۔

واضح رہے کہ بھارتی اہلکار مدھورا سے بے حد ناراض ہیں اور انہوں نے معافی کی مطالبہ کیا تھا۔

مدھورا کا کہنا تھا ’میں بغیر کچھ سوچے سمجھے کھلاڑیوں کے ساتھ چل پڑی۔ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ میرے خیال سے میں نے بہت سارے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ میں ان سے معافی مانگتی ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’چاروں طرف اتنا کچھ ہو رہا تھا۔ ہزاروں لوگ چل رہے تھے۔ مجھے کچھ ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آیا۔ میں بھی چل پڑی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائیوں پر ان پر بے حد تنقید ہو رہی ہے جس سے انہیں دکھ پہنچا۔

مدھورا کا کہنا تھا کہ ’میرے اندر بہت جوش ہے۔ مجھے اپنے ملک پر فخر ہے۔ اتنی تنقید سے مجھے افسوس ہوا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس واقعہ کو بھول کر مجھے معاف کردیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل لندن اولمپکس کی انتظامیہ نے مدھورا کی شناخت ظاہر کی تھی اور اولپمکس کی اتنظامیہ کے چئرمین سیباسچن کو کا کہنا تھا کہ ’یہ خاتون انتظامیہ کی رکن تھیں اور لگتا ہے کہ کچھ زیادہ پرجوش ہو گئیں‘۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس معاملہ میں حفاظتی نقطۂ نظر سے کوئی غلطی نہیں ہوئی کیونکہ یہ خاتون سکیورٹی سے گزر کر ہی سٹیڈیم تک پہنچیں تھیں۔

لندن اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں ہندوستانی اولمپکس دستے کے آگے چلتی ہوئی سرخ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس یہ خاتون بہت دیر تک ایک معمہ بنی رہیں۔ ان کی موجودگی کے باعث ہندوستانی دستے کے سربراہ کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔

یہ خاتون جنہوں نے نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور سرخ رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی دستے کے آگے ہندوستان کا جھنڈا اٹھانے والے کھلاڑی سوشیل کمار کے ساتھ ساتھ چلتی نظر آئیں۔

ان کا سرخ لباس انہیں باقی کھلاڑیوں سے ممتاز کر رہا تھا جو کہ پیلے رنگ کی ساڑھیوں اور نیلے رنگ کے کوٹ پہنے ہوئے تھے۔

ہندوستان جو پہلے ہی افتتاحی تقریب کی نشریات میں کم وقت ملنے پر ناراض ہے، لندن اولمپکس کی انتظامی کمیٹی سے اس معاملے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ہندوستان کے دستے کے سربراہ پی کے ایم راجہ نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کھلاڑی یہ سمجھتے رہے کہ یہ خاتون انتظامیہ کا حصّہ ہیں۔

ہندوستان کے اسّی کھلاڑی لندن اولمپکس میں حصہ لے رہے ہیں جن میں سے انہیں تیراندازی ،باکسنگ، بیڈمنٹن، نشانہ بازی، ٹینس اور کشتی میں تمغوں کی امید ہے۔

اسی بارے میں