لیجنڈ بننے کے قریب پہنچ گیا ہوں: بولٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ نے کہا ہے کہ لندن اولمپکس میں سو میٹر کی دوڑ میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرنے کے بعد وہ لیجنڈ بننے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ جمیکا سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ یوسین اس سے قبل چار بار اولمپک مقابلوں میں طلائی تمغے حاصل کر چکے ہیں۔

انہوں نے یہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد کہا کہ ’اس طلائی تمغے کا مطلب یہ ہے کہ میں لیجنڈ بننے کے ایک قدم مزید قریب پہنچ گیا ہوں۔ انہوں نے کہا یہ صرف ایک قدم ہے اور میں اسے طے کرنے کا متمنی ہوں۔‘انہوں نے کہا ’ابھی دو سو میٹر کی دوڑ باقی ہے اور میں اس کا منتظر ہوں۔‘

بولٹ دو سو میٹر کی دوڑ جیتنے کے لیے بھی سرفہرست ہیں۔ انہوں نے دو ہزار آٹھ میں بیجنگ کھیلوں میں بھی طلائی تمغہ جیتا تھا۔ وہ سو میٹر اور دو سو میٹر دونوں دوڑوں کے عالمی ریکارڈ یافتہ ہیں۔انہوں نے دو ہزار نو میں برلن میں ہونے والی عالمی چیمپیئن شپ میں دو سو میٹر کی دوڑ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو اب بھی ناقابل شکست ہے۔

بی بی سی کے ریڈیو فائیو کے نمائندے کے اس سوال پر کہ کیا وہ انیس سیکنڈ سے کم وقت میں یہ فاصلہ طے کر سکتے ہیں بولٹ نے مسکرا کر جواب دیا ’میں پچھلے دو برس سے اس بارے میں سوچ رہا ہوں، اور اس سیزن میں اور اس ٹریک پر میں خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہا ہوں۔دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ میں یہ کر دوں گا اور پھر نہ کر سکوں۔ لیکن یہ میرے ذہن میں ضرور ہے۔‘

دو سو میٹر کی دوڑ کے ابتدائی مقابلے منگل کو اولمپک سٹیڈیم میں شروع ہو رہے ہیں جب کہ فائنل مقابلہ جمعرات کے دن برطانوی وقت کے مطابق شام آٹھ بج کر پچپن منٹ پر ہو گا۔

جولائی کے اوائل میں بولٹ کو ان کے ہم وطن یوہان بلیک کے ہاتھوں جمیکن ٹرائلز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بلیک نے انہیں سو میٹر کے مقابلے میں بھی ہرا دیا تھا، تاہم لندن اولمپکس میں انہیں چاندی کے تمغے ہی پر اکتفا کرنا پڑا۔

بولٹ نے کہا ’بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ میں جیت نہیں سکوں گا۔ اس طرح کی بہت سی باتیں ہو رہی تھیں۔ مجھے اس وقت بہت اچھا لگا جب میں نے میدان میں آ کر دنیا کو دکھا دیا کہ میں اب بھی دنیا میں نمبر ون ہوں اور سب سے بہتر ہوں۔‘

ان کے مطابق ’مقابلے کا آغاز بہترین نہیں تھا، اس لیے مجھے پچاس میٹر کے بعد زیادہ جان مارنا پڑی، اور تب مجھے معلوم ہو گیا کہ میں اس کے بعد اچھے نتائج حاصل کروں گا۔ میں بس بھاگا۔ میں یہ نہیں کہوں گا یہ دوڑ بے عیب تھی کیوں کہ میں جانتا ہوں میرا کوچ کہے گا نہیں‘۔