ہاکی: پاکستان میڈلز کی دوڑ سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسٹریلیا کی جانب سے میچ میں ایک گول پنلٹی سٹروک اور تین پنلٹی کارنرز پر ہوئے

لندن میں جاری تیسویں اولمپکس میں ہاکی کے اہم میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کے ان اولمپکس میں ہاکی میں کوئی بھی میڈل حاصل کرنے کی امید ختم ہو گئی ہے۔

منگل کو پول اے کے اپنے آخری میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو صفر کے مقابلے میں سات گول سے شکست دی۔

اس فتح کے نتیجے میں آسٹریلوی ٹیم نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا جبکہ گروپ کے دوسرے سیمی فائنلسٹ کا فیصلہ سپین اور برطانیہ کے مابین میچ کے نتیجے سے ہوگا۔

آسٹریلیا نے اس میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور پہلے ہاف کے اختتام تک چار گول کر دیے۔ دوسرے ہاف میں آسٹریلوی ٹیم نے مزید تین گول کیے اور سکور سات صفر رہا۔

آسٹریلیا کی جانب سے کرسٹوفر سیریلو نے دو جبکہ گلین ٹرنر، جیمی ڈوائر، رسل فورڈ، مارک نوئلز اور لیئم ڈی ینگ نے ایک ایک گول کیا۔

آسٹریلیا کی جانب سے میچ میں ایک گول پنلٹی سٹروک اور تین پنلٹی کارنرز پر ہوئے جبکہ پاکستانی ٹیم میچ میں ایک بھی پنلٹی کارنر حاصل نہ کر سکی۔

پاکستان کی شکست پر سابق اولمپیئن اصلاح الدین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میچ میں پاکستانی ٹیم کی فٹنس اور فیزیکل ٹریننگ کا پول کھل گیا اور پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے تیز کھیل کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی ٹیم میچ میں ایک بھی پنلٹی کارنر حاصل نہ کر سکی

ان کے مطابق پاکستانی ٹیم کی پاسنگ بھی نہایت کمزور رہی اور ان کے پاس یا تو آسٹریلوی کھلاڑی روکتے رہے یا پھر وہ دوسرے پاکستانی کھلاڑیوں تک پہنچنے میں ہی ناکام رہے۔

سات گول کے بڑے فرق سے شکست پر اصلاح الدین کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاری گھبراہٹ کا شکار دکھائی دیے اور ان کی باڈی لینگوئج سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میچ کے آغاز پر ہی شکست تسلیم کر چکے تھے۔

ہاکی کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان اس وقت آٹھویں جبکہ آسٹریلیا پہلے نمبر پر ہے۔ پول اے میں آسٹریلیا نے اپنے پانچ پول میچز میں سے تین جیتے جبکہ دو میچ برابر رہے جبکہ پاکستان نے اپنے پانچ میچوں میں سے دو جیتے ایک برابر کیا جبکہ دو میں اسے شکست ہوئی۔

پاکستانی ٹیم سنہ انیس سو بانوے کے بعد سے اولمپکس میں ہاکی کے مقابلوں میں وکٹری سٹینڈ پر پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔ انیس سو بانوے کے بارسلونا اولمپکس میں شہباز احمد سینیئر کی قیادت میں پاکستان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

اسی بارے میں