کشتی رانی: برطانیہ کے لیے چاندی کے تمغے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برطانیہ نے لندن اولمپکس کے چودہویں دن کشتی رانی میں مرد اور خواتین کے مقابلوں میں مزید دو چاندی کے تمغے حاصل کیے ہیں۔

لندن اولمپکس میں مردوں کے کشتی رانی کے فائنل مقابلے میں برطانیہ کے لیوک پیشنس اور سٹورٹ بچل نے چاندی کا تمغہ حاصل کر لیا۔

جمعہ کو ہونے والے اس مقابلے میں آسٹریلوی کشتی ران جوڑی میتھو بیلشر اور میلکم پیج نے 470 بادبانی کشتی رانی کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا جبکہ برطانوی کشتی ران دوسرے نمبر پر رہے۔

کشتی رانی کے اس مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں برطانوی جوڑی کو برتری حاصل تھی تاہم آسٹریلوی جوڑی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کا تمغہ جیتا۔

اس مقابلے میں ارجنٹائین کی ٹیم نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

برطانوی کشتی ران لیوک پیشنس کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ سونے کا تمغہ نہیں جیت سکے تاہم ان کے لیے اولمپک پوڈیم میں کھڑے ہونا اعزاز کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں اور انہیں یہ سب بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ لیوک کے ساتھی بچل نے کہا کہ ہم نے کوشش کی تاہم بدقسمتی سے ہم یہ مقابلہ جیت نہ سکے۔

لیوک نے آسٹریلوی کشتی رانوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم دوسرے نمبر پر آنے کے باوجود بہت خوش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ مقابلہ جتینے کے بعد آسٹریلیا نے لندن اولمپکس کے کشتی رانی مقابلوں میں اب تک سونے کے تین تمغے جیت لیے ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے سڈنی سنہ دو ہزار اولمپکس کے کشتی رانی مقابلوں میں سونے کے دو، چاندی کا ایک اور کانسی کا ایک تمغہ جیتا تھا۔

درین اثناء لندن اولمپکس میں خواتین کی کشتی رانی کے فائنل مقابلے میں برطانیہ کی ہینا ملز اور سسکیا کلارک نے بھی چاندی کا تمغہ جیت لیا۔

اس مقابلے میں نیوزی لینڈ کی جو ایل اور اولیوا پاؤری نے سونے جبکہ نیدر لینڈ کی ویسٹ ہوف اور لوبکی برک آوٹ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد کلارک کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ سونے کا تمغہ نہیں جیت سکے۔

اسی بارے میں