میڈلز کی دوڑ: چین اور امریکی رقابت کھل کر سامنے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنہ 2008 میں بیجنگ اولمپکس سے پہلے امریکہ ہمیشہ تمغوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر رہا ہے

لندن اولمپکس میں چین نے شروع میں میڈلز کی دوڑ میں سرِفہرست رہ کر نفسیاتی دباؤ بڑھایا تھا جس میں چین کی کم عمر تیراک یے شیون کے دو طلائی تمغے بھی شامل ہیں۔

لیکن آخر میں ایکوئیٹک سینٹر امریکہ کے لیے اہم ترین جگہ ثابت ہوئی کیونکہ اس جگہ پر کھیلوں میں امریکہ نے سب سے زیادہ تمغے حاصل کیے اور اولمپک کھیلوں پر چھا گئے۔

سنہ 2008 میں بیجنگ اولمپکس سے پہلے امریکہ ہمیشہ تمغوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر رہا ہے سوائے 1980 کی اولمپکس میں جس کا امریکہ نے بائیکاٹ کیا تھا۔ بیجنگ اولمپکس میں چین نے سب سے زیادہ میڈلز حاصل کر کے امریکہ کو پہلے نمبر سے دوسرے نمبر پر کر دیا۔

اگرچہ چین نے بیرون ملک کھیلوں میں کبھی اتنی مقدار میں طلائی تمغے نہیں لیے جتنے اس نے لندن اولمپکس میں جیتے ہیں لیکن امریکہ نے اپنی پہلی پوزیشن واپس حاص کر لی ہے۔

چینی تیراک شیون کے دو طلائی تمغے دو سپر پاورز کے درمیان رقابت کو منظرِ عام پر لے آئے ہیں۔

سول سالہ شیون نے چار سو میٹر میڈلی میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد جب دو سو میٹر میڈلے جیتی تو امریکی کوچ جان لیونرڈ نے اس کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیا۔

چین کے مشہور باسکٹ بال کھلاڑی یاؤ منگ نے جواباً کہا ’شیون نے وہ تمغے جیتے جو امریکہ کافی عرصے سے سمجھ کر بیٹھا تھا کہ وہ تمغے اس کے ہیں۔ یہ ایک اچھا احساس نہیں ہوتا اگر کوئی اور تمغہ لے جائے۔ جیسے کہ چین کو بھی یہ اچھا نہیں لگے گا اگر کوئی اور ملک ٹیبل ٹینس میں طلائی تمغہ جیت لے۔‘

لیکن امریکہ کو یہ احساسات محسوس کرنے کی عادت نہیں جن کا سامنا اس کو لندن اولمپکس میں کرنا پڑا۔

امریکہ اگرچہ جمیکا کے یوسین بولٹ اور یوہان بلیک سے سپرنٹس میں ہار گیا لیکن ٹریکس پر امریکہ نے انتیس میڈل جیتے ہیں جن میں سے نو طلائی تمغے ہیں۔

چین شروع ہی سے بیڈمنٹن، ڈائیونگ، جمناسٹکس اور ٹیبل ٹینس میں تمغے جیتتا ہے اور اس بار بھی اس نے اپنے کُل 38 طلائی تمغوں میں سے بیس طلائی تمغے انہی کھیلوں میں جیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دس مزید تمغے تیراکی اور ویٹ لفٹنگ میں حاصل کیے ہیں۔

لیکن چین نے جتنے تمغے بیجنگ اولمپکس میں حاصل کیے تھے اس سے بہت کم تمغے لندن اولمپکس میں جیتے ہیں۔ لیکن اس کے بارے میں کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چین کے وزیر کھیل نے ججوں پر چینی کھلاڑیوں کے ساتھ متعصبانہ رویے کا الزام لگایا ہے۔

امریکی ٹیم کے ترجمان پیٹرک سینڈسکی نے میڈلز کی دوڑ میں برتری کو اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ’اولمپک میں مقابلہ کھلاڑیوں کے درمیان ہوتا ہے نہ کہ ممالک کے درمیان۔ اور ہم لندن اولمپکس میں امریکی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فخر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں