پیرالمپکس: دس دلچسپ حقائق

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 19:56 GMT 00:56 PST

لندن اولمپکس کی کامیابی کے بعد پیرالمپکس کے بارے میں غیرمعمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں کھیلوں میں فرق کیا ہے؟

اولمپک دائروں کی گنجائش نہیں

اگرچہ دونوں کے آخر میں ’لمپکس‘ آتا ہے لیکن پیرالمپکس اولمپکس نہیں ہیں۔ ان میں اولمپکس کے مشہورِ زمانہ پانچ دائروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پیرالمپکس میں دائروں کی بجائے تین ہلال نما نشان ہوتے ہیں جنہیں ’ایجی ٹوس‘ کہا جاتا ہے۔ سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے یہ نشان پیرالمپکس کے ماٹو کی نمائندگی کرتے ہیں، یعنی ’سپرٹ اِن موشن‘ یا ’متحرک جذبہ۔‘

اولمپک کمیٹی اور پیرالمپکس کمیٹی مختلف ہیں

دونوں کھیلوں کی تنظیمیں مختلف ہیں۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اولمپک کھیلوں کے لیے ہے جب کہ انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی پیرالمپکس کھیلوں کی کرتا دھرتا ہے۔

پہلے پیرالمپکس کھیل انیس سو ساٹھ میں روم میں اولمپکس کے ایک ہفتہ بعد منعقد ہوئے تھے۔ جب کہ انیس سو چونسٹھ میں یہ کھیل ٹوکیو میں اولمپکس کے فوراً بعد کھیلے گئے تھے۔

البتہ انیس سو اڑسٹھ میں جب میکسیکو سٹی میں اولمپک کھیل منعقد ہوئے تو میزبان شہر نے پیرالمپکس کھیل منعقد کروانے سے انکار کر دیا۔ میکسیکو کی بجائے یہ کھیل تل ابیب میں کھیلے گئے۔ اس کے بعد سے انیس سو اٹھاسی تک پیرالمپکس اولمپکس سے بالکل مختلف جگہوں پر کھیلے جاتے رہے ہیں۔

انیس سو اٹھاسی میں سیول اولمپکس ہوئے تو ان کے فوراً بعد پیرالمپکس بھی کھیلے گئے۔ دو ہزار ایک میں اس بارے میں قانون پاس کر دیا گیا کہ جو شہر بھی اولمپکس کے لیے بولی دے گا، وہیں پر پیرالمپکس بھی منعقد کروائے جائیں گے۔

درجہ بندی

پیرالمپکس میں یہ نہیں ہوتا کہ کوئی نابینا ایتھلیٹ کسی ایسے ایتھلیٹ کے ساتھ دوڑ کے مقابلے میں حصہ لے جس کو تشنج کا مرض ہو۔ البتہ تشنج کے مریض کا مقابلہ محدود نشوونما والے ایتھلیٹ کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

ایتھلیٹوں کی درجہ بندی کے لیے انہیں سخت ٹیسوں سے گزرنا پڑتا ہے جن کے دوران طبی ماہرین ان کی درجہ بندی کرتے ہیں۔

تیراکی کے تیرہ درجے ہیں۔ پہلے درجوں میں وہ کھلاڑی شامل ہوتے ہیں جن کی معذوری زیادہ شدید ہو، مثال کے طور پر بغیر اعضا کے کھلاڑی، یا وہ جنہیں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ لگی ہو۔ ایس گیارہ سے ایس تیرہ میں ایسے کھلاڑی رکھے جاتے ہیں جنہیں بینائی کے مسائل ہوں۔ ایس چودہ میں عاقلانہ معذوری والے افراد شامل ہوتے ہیں۔

کھیل وہی لیکن پھر بھی مختلف

پیرالمپکس میں تیراکی، سائیکلنگ اور ایتھلیٹکس ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے اولمپکس میں۔ البتہ انہیں کئی مختلف درجوں میں بانٹا جاتا ہے۔ ان میں اضافی پراستھیٹکس، ویل چیئرز اور انسانی رہنما شامل ہوتے ہیں۔

ویل چیئر رگبی، والی بال جس میں کھلاڑی بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور نابینا فٹ بال کو دیکھ کر اولمپکس کھیلوں کے شیدائیوں کو فوراً احساس ہو جائے گا کہ یہ کھیل ان کے پسندیدہ کھیلوں سے بالکل مختلف ہیں۔

نابینا فٹ بال میں استعمال ہونے والا بال کم اچھلتا ہے اور اس کے اندر بال بیرنگ ہوتے ہیں تاکہ اسے کی حرکت کو سنا جا سکے۔

کھیل کا میدان چھوٹا ہوتا ہے اور اس کے گرد بورڈ لگے ہوتے ہیں جو نہ صرف گیند کو باہر جانے سے روکتے ہیں بلکہ گیند اور قدموں کی آوازوں کو بھی منعکس کرتے ہیں، جس سے کھلاڑیوں کو مدد ملتی ہے۔

گول کیپر بینا ہوتا ہے لیکن اسے گول ایریا سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

چوں کہ نابینا کھلاڑی آواز پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے تماشائیوں کوکھیل کے دوران خاموش رہنا پڑتا ہے۔

پیرالمپکس کے مخصوص کھیل

گول بال: تین تین نابینا کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان مستطیل میدان میں کھیلا جاتا ہے۔ کھیل کا ہدف گھنٹیوں بھرے گیند کو مخالف ٹیم کے گول میں پھینکنا ہوتا ہے، جب کہ دفاعی کھلاڑی اسے اپنے جسم سے روکنے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بوچا: بوچا میں پیرالمپکس کے سب سے زیادہ معذور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ بوچا اِن ڈور کھیل ہے جس میں کھلاڑی گیند کو بولنگ کی طرح ہدف کے نزدیک پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہنچ

پیرالمپکس کے سٹیڈیموں میں کرسیوں کو یا تو ہٹا دیا جاتا ہے یا ان کی ترتیب بدل دی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ویل چیئرز کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

نابینا تماشائیوں کو رہنما آڈیو آلات دیے جاتے ہیں، جب کہ سماعت سے محروم شائقین کو بڑی سکرینوں کے قریب بٹھایا جاتا ہے تاکہ وہ قریب سے ایکشن دیکھ سکیں۔

ٹیپر

نابینا تیراک کے لیے سب سے بڑی مدد ٹیپر یا کھٹکھٹانے والا فراہم کرتا ہے۔ پول کے دونوں سروں پر ایک شخص کھڑا ہوتا ہے جس کے پاس ایک لمبا ڈنڈا ہوتا ہے۔ ڈنڈے کے سرے پر ایک نرم بال لگا ہوتا ہے۔ جب تیراک قریب پہنچتے ہیں تو وہ آہستگی سے ان کو سروں کو چھوتا ہے۔

یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ تیراک پول کے سرے تک پہنچ گیا ہے۔ ٹیپر کی موجودگی تیراک کو یہ اطمینان فراہم کرتی ہے کہ وہ دیوار سے سر ٹکرائے بغیر تیز رفتار سے تیر سکتا ہے۔

مارسیلو سوگیوموری برازیلین پیرالمپکس ٹیم کے دو ٹیپرز میں سے ایک ہیں۔ دو ہزار چار کے ایتھنز کھیلوں میں انہوں نے اپنی بہن کے لیے ٹیپر کے فرائض سرانجام دیے تھے جنہوں نے پچاس میٹر کی فری سٹائل مقابلے میں طلائی تمغا جیتا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’ہم تیراک کو اس وقت چھوتے ہیں جب وہ پول کے سرے سے دو سے چار میٹر دور ہوتا ہے۔ اس کام میں مل کر ٹریننگ کرنا پڑتی ہے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔‘

نابینا دوڑنے والوں کے لیے رہنما

نابینا یا جزوی نابینا دوڑنے والوں کے ساتھ رہنما بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر رہنما اور ایتھلیٹ ایک رسی سے بندھے ہوتے ہیں اور رہنما ایتھلیٹ کے لیے آنکھوں کا کردار ادا کرتا ہے۔

ٹریسی ہنٹن اور لبی گلیگ پیرالمپکس اسی طریقے سے برطانیہ کی نمائندگی کریں گی۔

کلیگ دو سو میٹر اور سو میٹر کی دوڑمیں حصہ لیں گی۔ وہ اپنے رہنما میکائل ہگنز کے ساتھ ایک فزیوتھراپی کی ٹیوب کی مدد سے منسلک رہیں گی۔

وہ کہتی ہیں ’یہ کچھ کچھ تین ٹانگوں کی دوڑ (تھری لیگ ریس) کی مانند ہے، لیکن اس میں آپ ٹانگوں کی بجائے ہاتھوں سے بندھے ہوتے ہیں۔‘

’مناسب طریقے سے دوڑنے کے لیے آپ کو ہمواری چاہیئے ہوتی ہے، آپ کی رفتار اور قدموں کے درمیان فاصلہ بالکل درست ہونا چاہیئے۔‘

کلیگ سو میٹر کا فاصلہ بارہ اعشاریہ چار ایک سیکنڈ میں طے کر سکتی ہیں۔

عمر

پیرالمپکس کے تماشائیوں نے دیکھا ہو گا کہ یہاں کئی ایتھلیٹوں کی عمریں عام کھلاڑیوں سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر اس سال ومبلڈن میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ روجر فیڈرر تیس سال کی پکی عمر کے بعد اور کتنا عرصہ کھیلیں گے۔

لیکن پیرالمپکس میں ٹینس کے چیمپیئن پیٹر نورفوک کی عمر اکیاون سال ہے۔ نورفوک نے ایتھنز اور بیجنگ اولمپکس میں طلائی تمغے جیتے تھے اور اس وقت عالمی رینکنگ میں ان کا نمبر تیسرا ہے۔

برطانیہ کے نابینا فٹ بال ٹیم کے کپتان ڈیوڈ کلارک کی عمر اکتالیس برس ہے، بوچا کے نائجل مری اڑتالیس کے ہیں، جب کہ تیرانداز کیٹ مری تریسنٹھ سال کی ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ معذور ایتھلیٹ اکثر اوقات معذوری کے بعد کھیل کو بحالی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسری وجہ تھوڑی زیادہ پیچیدہ ہے۔ اولمپکس کی نسبت پیرالمپکس کے کھلاڑیوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ معذور کھلاڑیوں کے لیے سہولیات کی عدم دستیابی، کوچز کی قلت جیسے مسائل اس کا باعث ہیں۔

اس کے علاوہ خوداعتمادی یا تجربے کی کمی بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

ممنوع ادویات کی ٹیسٹنگ

پیرالمپکس

پیرالمپکس سائیکلسٹ

پیرالمپکس کے ایتھلیٹوں کے لیے بھی ممنوع ادویات کی فہرست وہی ہے جو عام کھلاڑیوں کے لیے ہے۔ جو کھلاڑی درد یا کسی اور وجہ سے دوا لیتے ہیں انہیں خاص طور پر اجازت لینا ہوتی ہے۔

اولمپکس کی طرح یہاں بھی ایک میڈیکل کمیٹی ہر درخواست کا جائزہ لیتی ہے۔

برطانیہ اینٹی ڈوپنگ آپریشنز کے ڈائریکٹر نکول سیپسٹیڈ کہتے ہیں ’یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ بہت سے پیرالمپیئن ادویات استعمال کرتے ہوں گے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔‘

’ظاہر ہے کہ بہت سے ایتھلیٹ ایسے ہیں جنہیں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی ہوتی ہے اور انہیں دردکش ادویات درکار ہوتی ہیں۔ لیکن اکثر اوقات انہیں بھی اولمپک کھلاڑیوں جیسے امراض کے لیے دوائیں چاہیے ہوتی ہیں، جیسے دمہ یا ذیابیطس۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔