دو پاکستانی ایتھلیٹ پیرالمپکس میں شریک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 19:00 GMT 00:00 PST

حیدر علی لانگ جمپ اور نعیم مسیح پندرہ سو میٹر کی دوڑ میں شرکت کریں گے

پاکستان دنیا کے ان ایک سو چھیاسٹھ ملکوں میں شامل ہے جو لندن میں انتیس اگست سے نو ستمبر تک منعقد ہونے والے چودہویں پیرالمپکس میں شریک ہیں۔

لندن پیرالمپکس میں ایتھلیٹکس میں حصہ لے رہا ہے اور اس کے لیے پاکستان نے اپنا دو رکنی دستہ لندن بھیجا ہے جو کہ دو مختلف ایونٹس میں حصہ لے گا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ان مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایتھلیٹس میں حیدر علی اور نعیم مسیح شامل ہیں۔ حیدر علی لانگ جمپ اور نعیم مسیح پندرہ سو میٹر کی دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں۔

حیدر علی نے چار سال قبل اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب انہوں نے بیجنگ کے پیرالمپکس کے لانگ جمپ ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا جو جسمانی طور پر معذور کھلاڑیوں کے ان پیرالمپکس میں کسی بھی پاکستانی کا پہلا تمغہ بھی تھا۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے حیدر علی نے دو ہزار دس میں چین میں منعقدہ ایشین پیرا گیمز میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لانگ جمپ میں طلائی اور سو میٹرز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق حیدر علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے لندن کے پیرالمپکس کے لیے بہت محنت کی ہے اور بیجنگ میں جو تیکنیکی خامیاں سامنے آئی تھیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ اس بار بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے۔

پیرالمپکس میں پاکستانی دستے کی تعداد کے بارے میں متضاد تعداد سامنے آتی رہی تھی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ اور غیر ملکی خبر رساں ادارے چار پاکستانی ایتھلیٹس کی ان مقابلوں میں شرکت کی خبریں نشر کرتے رہے۔

حیدر علی نے بیجنگ کے پیرالمپکس کے لانگ جمپ ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا

تاہم لندن میں موجود پاکستانی دستے کے ایک آفیشل ڈاکٹر فاروق بیگ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کے دو ایتھلیٹس ہی ان مقابلوں میں شریک ہیں اور دیگر ایتھلیٹس مدثر بیگ اور انیلا بیگ کی شرکت کی درخواست پہلے ہی مسترد کر دی گئی تھی کیونکہ وہ پیرالمپکس کے قواعد و ضوابط پر پورے نہیں اترتے تھے ۔

فاروق بیگ نے کہا کہ پاکستانی دستے کو حیدر علی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں جو بین الاقوامی مقابلوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

پاکستان ان ملکوں میں شامل ہیں جہاں ذہنی اور جسمانی طور پر معذور کھلاڑیوں کو قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے مواقع میسر ہیں۔

پاکستان میں جسمانی طور پر معذور کھلاڑیوں کی قومی تنظیم قائم ہے جسے نیشنل پیرالمپک کمیٹی کہا جاتا ہے۔یہ کمیٹی انیس سو اٹھانوے میں قائم ہوئی تھی۔

پاکستان کے ذہنی طور پر معذور کھلاڑی جنہیں سپیشل کھلاڑی کہا جاتا ہے باقاعدگی سے عالمی سپیشل گیمز میں حصہ لیتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان ، بلائنڈ کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی شرکت کرتا ہے۔

پاکستان نے حالیہ کچھ برسوں میں ڈس ایبل کرکٹ کے ضمن میں بھی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہے اور پاکستانی ڈس ایبل کرکٹ ٹیم ملک سے باہر انگلینڈ اور دوسرے ملکوں کی ٹیموں سے میچز کھیل چکی ہے۔

نوٹ: (ابتدائی طور پر اس تحریر میں سہواً پاکستانی دستے کی تعداد چار تحریر کی گئی جسے اب درست کر دیا گیا ہے)

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔