بڑے بھائی سے جیتنے کی کوشش ہی نہیں کی

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 12:36 GMT 17:36 PST

’بڑے بھائی کا احترام عزیز تھا‘

اسکواش کے سابق عالمی چیمپیئن اعظم خان کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی ہاشم خان کے احترام میں ان سے کبھی بھی جیتنے کی کوشش نہیں کی۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

سکواش کے سابق عالمی چیمپیئن اعظم خان کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی ہاشم خان کے احترام میں ان سے کبھی بھی جیتنے کی کوشش نہیں کی اور پہلی جیت کے لیے اس وقت تک انتظار کیا جب ان کے عروج کا دور ختم نہیں ہوگیا۔

واضح رہے کہ ہاشم خان نے برٹش اوپن سات مرتبہ جیتی جبکہ اعظم خان چار بار یہ اعزاز جیتنے میں کامیاب ہوئے۔اس تمام عرصے میں دونوں کے درمیان سات بار مقابلہ ہوا جن میں سے چھ ہاشم خان نے جیتے اور اعظم خان نے اپنے بڑے بھائی کے خلاف واحد کامیابی انیس سو ساٹھ کی برٹش اوپن کے سیمی فائنل میں حاصل کی۔

اعظم خان پچپن سال سے لندن میں مقیم ہیں اور ترانوے سال کی عمر میں بھی ہشاش بشاش ہیں۔بلا کا حافظہ اور حس مزاح ہے۔ انہیں اپنے دور کی تمام باتیں اور میچ کے سکور اس طرح یاد ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو۔

اعظم خان نے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے کیریئر میں صرف بڑے بھائی ہاشم خان سے ہی ہارے ہیں کوئی دوسرا کھلاڑی انہیں کبھی بھی ہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ہاشم خان اپنے دور کے بہترین کھلاڑی تھے وہ اچھا کھیلتے تھے اور سب سے جیتا کرتے تھے لیکن انہیں اپنے بڑے بھائی کا احترام عزیز تھا کیونکہ وہی انہیں سکواش میں لائے تھے اور ان کی تربیت کی تھی لہذٰا انہیں گوارا نہیں تھا کہ وہ بڑے بھائی کو ہراتے۔

اعظم خان کا کہنا ہے کہ انہیں یاد ہے کہ جب دونوں بھائی فائنل میں مدمقابل آتے تو برطانوی اخبارات کی شہ سرخیاں ہوتی تھیں کہ یہ فیملی افیئر ہے دونوں بھائی دوبارہ مدمقابل ہیں اور سب کو پتہ ہے کہ میچ کا نتیجہ کیا ہوگا۔

اعظم خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں برٹش اوپن جیتنے پر پچاس پاؤنڈ کی انعامی رقم ملتی تھی

اس سوال پر کہ اگر آپ یہ سب کچھ اس دور میں کرتے تو آپ پر میچ فکسنگ کا الزام لگ جاتا؟ اعظم خان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بھائی بھائی کو نہیں چھوڑتا لیکن وہ دور مختلف تھا جب رشتوں کا احترام کیا جاتا تھا اور بڑوں کی عزت کی جاتی تھی۔

اعظم خان نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ ہاشم خان نے پاسپورٹ میں اپنی عمر کم لکھوائی تھی اس زمانے میں برتھ سرٹیفکیٹ وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔صحیح عمر کے بارے میں ہاشم خان نے انہیں یہ ضرور بتایا تھا کہ والد کے انتقال کے وقت وہ دس سال کے تھے جبکہ اعظم خان کی عمر پانچ سال تھی۔

اعظم خان کہتے ہیں کہ ہاشم خان اس وقت اٹھانوے سال کی عمر میں امریکہ میں مقیم ہیں گزشتہ سال لائف اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے وہ انگلینڈ آئے تھے لیکن صحت کافی گر چکی ہے ۔

اعظم خان کہتے ہیں کہ وہ پشاور میں ائر فورس کے ٹینس پروفیشنل تھے لیکن بڑے بھائی کے کہنے پر سکواش شروع کی اور جب وہ پہلی بار انگلینڈ سکواش کھیلنے آئے تو برٹش سکواش ایسوسی ایشن نے انہیں خاطر میں نہ لاتے ہوئے انٹری نہیں دی بلکہ ٹرائل میچ کے ذریعے انہیں پرکھنے کا فیصلہ کیا جس میں وہ کامیاب رہے اور اس کے بعد برٹش اوپن میں ہاشم خان سے فائنل کھیلا۔

اعظم خان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں برٹش اوپن جیتنے پر پچاس پاؤنڈ کی انعامی رقم ملتی تھی جبکہ برٹش پروفیشنل اور سکاٹش اوپن کی جیت پر تیس تیس پاؤنڈ ملا کرتے تھے۔

دلبرداشتہ ہو کر پاکستان چھوڑا

" برٹش اوپن میں ان کی اچھی کارکردگی کے باوجود پاکستان ائرفورس نے انہیں قلی ( پوٹر ) کے طور پر ملازم رکھا ہوا تھا جس سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا"

اعظم خان

اعظم خان کہتے ہیں کہ برٹش اوپن میں ان کی اچھی کارکردگی کے باوجود پاکستان ائرفورس نے انہیں قلی (پوٹر) کے طور پر ملازم رکھا ہوا تھا جس سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اعظم خان نے کہا کہ پاکستانی سکواش ائرمارشل نورخان کی شکر گزار ہے جنہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو پی آئی اے میں بڑی بڑی تنخواہوں اور پرکشش مراعات پر ملازمتیں دے کر ان کی زندگیاں ہی بدل دیں۔

اعظم خان نے کہا کہ ائرمارشل نورخان ہی کے کہنے پر انہوں نے 1975 کی برٹش اوپن کے لیے قمرزمان اور محب اللہ خان جونیئر کی ٹریننگ کی اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ قمر زمان بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد برٹش اوپن کا اعزاز پاکستان واپس لانے میں کامیاب ہو سکے۔

اعظم خان کہتے ہیں کہ آج پاکستانی سکواش کی تنزلی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سب کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں جبکہ ان کے دور میں روٹی کے لیے سکواش کھیلا کرتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔