لندن 2012 پیرالمپکس کا رنگارنگ اختتام

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 23:34 GMT 04:34 PST

لندن میں دو ہزار بارہ کے پیرالمپکس مقابلوں کا اختتام ایک انتہائی رنگا رنگ تقریب میں ہوا ہے۔ گیارہ روز تک جاری رہنے والے پیرالمپکس کی اختتامی تقریب میں برطانیہ کی جشن اور تہوار کی ثقافت کو اجاگر کیاگیا۔

ماضی کے پیرالمپکس کے برعکس چار ہزار اتھیلیٹوں کو گراونڈ میں بٹھایاگیا اور ساری تقریب ان کےگرد گھومتی رہی۔

پیرالمپکس کمیٹی کے صدر سر فلپ کریون نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ لندن نے پیرالمپکس کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن پیرالمپکس اپنے انداز میں انتہائی منفرد تھے اور وہ سمجھتے ہیں ان سے بہتر کوئی پیرالمپکس کبھی منعقد ہی نہیں ہوئے ہیں۔

پیرالمپیئن ایلی سمنز اور جانی پیکاک نے مشعل کو بجھانے میں مدد کی۔

تقریب میں فوج کا اولمپکس کی فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پرائیوٹ سکیورٹی فرم کی جانب سے سکیورٹی گارڈ مہیا نہ کرنے کی وجہ سے فوج کو سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

برطانوی پیرالمپیئن ڈیوڈ ویئر اور سارہ سٹوری نے برطانوی جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ ایک سو چونسٹھ ملکوں کے اتھیلیٹوں نے لندن پیرا اولمپکس میں شرکت کی۔

کپتان لیوک سنوٹ نے، جو افغانستان میں ایک بم دھماکے میں اپنی دونوں ٹانگیں گنوا چکے ہیں، برطانوی جھنڈا لہرایا۔

لندن کے میئر بورس جانسن کی جانب سے پیرالمپکس کا پرچم ریو ڈی جینرو کے میئر کے حوالے کیے جانےکے بعد برازیلی فنکاروں نے فری سٹائل سامبا ڈانس پیش کیا۔

تقریب کا آغاز برطانوی بینڈ کوڈ پلے کے گانوں سے ہوا۔ کوڈ پلے نے اپنی پانچ البم سے گانے پیش کرکے شائقین سے خوب داد وصول کی۔ گلوکارہ ریحانہ نے بھی آخری تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

تقریب کا اختتام اولمپکس سٹییڈیم اور دریائے ٹیمز پر شاندار آتش بازی سے ہوا اور اسی دوران پارلیمنٹ ہاؤس پر یونین جیک نمودار ہوا جس پر درج تھا: ’تھینک یو لندن‘ ۔

اولمپکس اور پیرالمپکس کے کامیاب انعقاد کے بعد برطانوی اولمپیئن اور پیرا اولپمیئن پیر کو لندن کی سڑکوں پر وکٹری پریڈ کریں گے۔ برطانیہ نے اولمپکس اور پیرالمپکس میں توقعات سے کہیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔