ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے دس نمایاں ستارے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 14:26 GMT 19:26 PST

سری لنکا میں منگل سے چوتھا ٹی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی شروع ہوا ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں بارہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور فائنل میچ سات اکتوبر کو کھیلا جائےگا۔

اس ورلڈ کپ میں کون کون سے ایسے کھلاڑی ہیں جو اپنی اپنی ٹیموں کے لیے اہم کارکردگی دکھا سکتے ہیں یا جن سے ان کی ٹیموں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ مختلف عالمی ٹیموں کے ٹاپ ٹین پلیئرز کے کریئر پر ایک نظر

شاہد آفریدی، پاکستان

کرکٹ کو رونق بخشنے والے کرداروں کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔

شاہد آفریدی بھی ایک ایسے کرکٹر ہیں جنہوں نے خود شہ سرخیوں میں رہ کر کرکٹ کو بھی ہمیشہ صفحہ اوّل پر رکھا ہے۔

شاہد آفریدی پر ہمیشہ یہی ایک اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ ان میں مستقل مزاجی کی کمی ہے لیکن یہی ان کی خوبی بھی ہے کہ اپنے موڈ اور مزاج کے مطابق کھیل کر وہ سب کے دل جیت لیتے ہیں۔

آفریدی کی بیٹنگ کے بارے میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کردینا۔

بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی پہلی ہی اننگز سے انہوں نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔سینتیس گیندوں پر تیز ترین سنچری کا عالمی ریکارڈ کئی بلے بازوں کو اُکساتا رہا ہے لیکن ریکارڈ تو نہیں ٹوٹا البتہ ان بلے بازوں کی ہمت ضرور ٹوٹتی رہی ہے۔

شاید ہی کوئی بولر ایسا ہو جو آفریدی کے غیظ وغضب سے محفوظ رہا ہو۔

باؤنڈری چاہے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو اس کے بارے میں سوچے بغیر آفریدی کو گیند فضا میں اچھال کر اسے میدانوں کی چھتوں تک پہنچانا خوب آتا ہے اور یہی عادت انہیں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والا بیٹسمین بناچکی ہے۔

شاہد آفریدی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں فتح مند ہیں۔

وہ اپنی لیگ سپن بولنگ سے پاکستان کو کئی اہم میچز جتوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

شاہد آفریدی کا ٹیسٹ ریکارڈ بھی متاثر کن ہے لیکن دو بار ریٹائرمنٹ لے کر انہوں نے خود کو محدود اوورز کی کرکٹ تک محدود کرلیا ہے اور ٹی ٹوئنٹی کی لہر آنے کے بعد سے وہ اس طرز کی کرکٹ میں بہت زیادہ مصروف ہوگئے ہیں۔

شائقین کو جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی یاد ہے جس میں شاہد آفریدی اپنی بولنگ کے بل پر بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

شائقینِ کرکٹ انگلینڈ میں کھیلا گیا دوسرا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی بھی نہیں بھولے ہیں جس کے سیمی فائنل اور فائنل میں ان کی دو شاندار اننگز نے پاکستان کو فاتح بنوا دیا۔

یہی وجہ ہے کہ توقعات اس بار بھی کم نہیں ہیں لیکن یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ شاہد آفریدی کی کرکٹ ان کے اپنے مزاج کے تابع ہے۔

سعید اجمل، پاکستان

کسی بھی آف سپنر کے اسلحہ خانے میں جو بھی ہونا چاہئے وہ سعید اجمل کے پاس موجود ہے۔

فلائٹ اور رفتار میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنی عام آف سپن کو ’دوسرا ‘ سے ہم آہنگ کرتے ہوئے وہ خود کو عصر حاضر کا سب سے خطرناک آف سپنر ثابت کرچکے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں طویل بولنگ کرکے بیٹمسینوں پر دباؤ قائم کرنے کی بات ہو یا محدود اوورز کے محدود مواقع میں خود کو منوانا، دونوں صورتوں میں سعید اجمل کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

شاندار کارکردگی کی کئی مثالیں سعید اجمل کے کیریئر کو قابل ذ کر بنائے ہوئے ہیں۔

عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم پاکستانی بولنگ کے سامنے سرنگوں ہوئی تو اسے اس مقام تک پہنچانے میں سعید اجمل کی چوبیس وکٹوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

انگلینڈ کی ٹیم نے اس کارکردگی کو سراہنے کے بجائے ان کے بولنگ ایکشن پر سوالیہ نشان لگا کر تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آئی سی سی نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے بارے میں ہر قسم کے شکوک وشبہات مسترد کرکے یہ بحث ہی ختم کردی۔

سعید اجمل کی ایک کے بعد ایک شاندار کارکردگی انہیں ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے اور ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر فائز کرچکی ہے لیکن عالمی رینکنگ مرتب کرنے والوں کو ہی سعید اجمل کی شاندار کارکردگی دکھائی نہیں دی اور جب آئی سی سی ایوارڈ کے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دیتے وقت ان کی بہتر وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی پر ورنن فلینڈر کی چھپن وکٹوں کو ترجیح دے دی گئی۔

سعید اجمل اس وقت ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں اور گزشتہ دو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم حریف بیٹنگ کو قابو کرنے کے لیے سعید اجمل ہی کی طرف نظریں لگائے ہوئے ہے۔

مہیلا جے وردھنے، سری لنکا

عصر حاضر کے چند ہی بیٹسمین ہیں جو تینوں فارمیٹس میں اپنی ٹیم کی ضرورت ہیں اور مہیلا جے وردھنے ان میں سے ایک ہیں۔

ٹیسٹ اور ون ڈے میں دس ہزار سے زائد کا بھاری بھر کم رنز اکاؤنٹ رکھنے والے جے وردھنے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی کسی طور پیچھے نہیں رہے۔ اس طرز کرکٹ میں وہ تقریباً ہزار رنز بناچکے ہیں جن میں تین ہندسوں کی ایک اننگز بھی شامل ہے جو انہوں نے گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھیلی تھی۔

جے وردھنے کو صورتحال کے مطابق بیٹنگ کرنے میں مہارت حاصل ہے اسی لیے ٹیسٹ کرکٹ میں مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے سری لنکن ٹیم کو حوصلہ دینے کے بعد وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں اوپنر کی حیثیت سے بھی کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

جے وردھنے کی بیٹنگ دلکش اسٹروکس سے سجی ہوئی ہے۔ وہ جتنے اعتماد سے کور ڈرائیو کھیلتے ہیں اتنے ہی اعتماد سے کلائی کا استعمال کرتے ہوئے گیند کو آن سائیڈ پر کھیلنے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ تیز بولنگ سے مرعوب نہ ہونے والے جے وردھنے کو اپنے درست فٹ ورک اور تیکنیک کے سبب سپن بولنگ کھیلنے میں کبھی دشواری نہیں ہوتی۔

جے وردھنے کے بارے میں ناقدین صرف ایک ہی بات کہتے ہیں کہ انہوں نے جتنی بڑی اننگز سری لنکا میں کھیلی ہیں ملک سے باہر ان کا ریکارڈ اتنا متاثر کن نہیں ہے۔

جے وردھنے نے سری لنکن ٹیم کی کپتانی بھی ذہانت سے کی ہے اور ان کی قیادت میں ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل بھی کھیلی ہے۔

اوئن مورگن، انگلینڈ

اوئن مورگن کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں لیکن اس بات پر سب کو حیرانی ضرور ہے کہ آخر وہ ان صلاحیتوں کے بھرپور اظہار میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

مورگن بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین ہیں جو گیند کو بھرپور قوت کے ساتھ باؤنڈری کے باہر پھینکنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

مورگن کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ ریورس سوئپ سے رنز ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جنہوں نے اپنی بین الاقوامی کرکٹ مورگن نے اپنی بین الاقوامی کرکٹ آئرلینڈ کی طرف سے شروع کی اور سکاٹ لینڈ کے خلاف اپنے پہلے ہی ون ڈے انٹرنیشنل میں وہ صرف ایک رن کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔

تین سال آئرلینڈ کی نمائندگی کرنے کے بعد مورگن نے انگلینڈ کی طرف سے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

دو ہزار دس میں انہوں نے ویسٹ انڈیز بنگلہ دیش اور پاکستان کے خلاف ون ڈے میچوں میں سنچریاں بنائیں اس کے بعد دوسال میں اگرچہ وہ کوئی سنچری نہ بناسکے لیکن سات نصف سنچریاں بنانے میں ضرور کامیاب ہوئے۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں مورگن نے چار سنچریاں اور سترہ نصف سنچریاں بنائی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی بنائی گئی تین نصف سنچریوں میں وہ اننگز آج بھی یاد رکھی جاتی ہے جو انہوں نے چیمپئنز ٹرافی میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی اور پانچ چھکّوں اور سات چوکوں کی مدد سے پچاسی رنز سکور کیے۔

مورگن نے ٹیسٹ کرکٹ میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں بنائی ہیں یہ تمام اننگز انہوں نے انگلش میدانوں میں کھیلی ہیں تاہم سپن بولنگ پر ان کی کمزوری کھل کر سامنے آئی ہے۔

پاکستان کے خلاف متحدہ عرب امارات میں چھ اننگز میں وہ کوئی قابل ذکر سکور نہ کرسکے جس کے سبب ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کردیے گئے۔

اگرچہ مورگن نے اس سال کھیلے گئے سات ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں انتہائی مایوس کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے اور اسی وجہ سے انہیں عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود کرکٹ کے پنڈت انہیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کی ایک بڑی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

خود مورگن کو بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ کیون پیٹرسن کی غیرموجودگی میں ان سے کتنی زیادہ توقعات وابستہ کی جاچکی ہیں اور یہ وقت ان توقعات پر پورا اترنے کا ہے۔

کرس گیل، ویسٹ انڈیز

کوئی بھی بولر اس وقت بولنگ کرنا بالکل پسند نہیں کرتا جب اس کے سامنے کرس گیل ہوں اور ان کا بلا آگ برسا ہورہا ہو۔

کرس گیل کرکٹ کے اس مقبول مقولے پر یقین رکھتے ہیں کہ حملہ بہترین دفاع ہے۔

آنکھوں اور ہاتھوں کی مکمل ہم آہنگی ہی دراصل ان کی بیٹنگ کی سب سے بڑی خوبی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی کے سکرپٹ پر کہانی تشکیل دیتے ہیں۔

بیٹنگ میں جارحیت کے منفرد انداز کے سبب وہ اُن گنے چنے بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جو پانچ دن کی کرکٹ میں بھی شائقین کی بیزاری دور کرکے انہیں بہترین تفریح فراہم کردیتے ہیں۔

اب تک صرف چار بیٹسمینوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں دو ٹرپل سنچریاں بنائی ہیں اور کرس گیل ان میں شامل ہیں۔

انہوں نے ایک ٹرپل سنچری اس وقت بنائی جب جنوبی افریقی ٹیم چار سنچریوں کی مدد سے پانچ سو سے زائد کا سکور کرکے ویسٹ انڈیز کو دباؤ میں لانے کا سوچ رہی تھی اور دوسری ٹرپل سنچری گال کے سپن ٹریک پر انہوں نے اس وقت سکور کی جب اجانتھا مینڈس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

ٹیسٹ اور ون ڈے کے بعد جب کرس گیل ٹی ٹوئنٹی کھیلتے نظر آئے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ مختصر دورانیے کی کرکٹ انہی کے لیے شروع کی گئی ہو۔

کرس گیل کو بیس اوورز کی بین الاقوامی کرکٹ کی اولین سنچری سکور کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جب دو ملکوں کی قید سے نکل کر تجارتی منڈی کی شکل اختیار کرگئی تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے اس کاروبار کی کامیابی کرس گیل کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

بھارت کی آئی پی ایل ہو یا آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور زمبابوےکی لیگ ہوں، سب نے کرس گیل کو اپنی کامیابی کا ایک اہم ذریعہ تسلیم کیا اور کرس گیل نے بھی اپنے مالکان اور شائقین دونوں کو مایوس نہیں کیا اور اپنی جارحانہ بیٹنگ سے ان مقابلوں میں بجلی بھردی۔

کرس گیل چونکہ ویسٹ انڈین ہیں لہٰذا خون بھی گرم ہے جو ان کی بیٹنگ اور مزاج دونوں سے جھلکتا ہے۔

وہ متعدد بار اپنے کرکٹ بورڈ کے ساتھ تنازعات میں الجھتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں وقتی طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے بھی دور رہنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ عہد کی کرکٹ اگر چند کرکٹرز کی وجہ سے ہرایک کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے تو ان میں کرس گیل بھی پیش پیش ہیں۔

لستھ ملنگا، سری لنکا

متایا مرلی دھرن اور شعیب اختر کے بعد جس بولر کا بولنگ ایکشن سب سے زیادہ موضوع بحث رہا ہے وہ لستھ ملنگا ہیں۔ لیکن مرلی دھرن اور شعیب اختر کی طرح ملنگا پر کبھی کوئی کٹھن وقت نہیں آیا کہ کسی ایمپائر نے ان پر اعتراض کیا ہو یا انہیں اپنے بولنگ کے مختلف زاویوں کی جانچ پڑتال کے لیے کسی طبی معائنے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

ملنگا اپنے راؤنڈ آرم بولنگ ایکشن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ٹینس کی گیند سے مسلسل کرکٹ کھیلتے رہنے کے سبب ہے لیکن اب یہی ان کی پہچان ہے۔ خاص کر اس وقت جب یہ ایکشن انہیں یارکر گیند کرانے میں بہت مدد دیتا ہے۔ ملنگا کی یارکر وقاریونس کی یاد تازہ کر دیتی ہیں کہ اگر وکٹ نہیں اُڑی تو بیٹسمین کا پنجہ سلامت نہیں۔

ملنگا جب تیزرفتاری سے بولنگ کرتے تھے تو بلے بازوں کے لیے ان کے باؤنسر کا سامنا کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ مانگا کو دھیمی رفتار کی گیند کا استعمال بھی خوب آتا ہے۔

بولر یہ تمام گر اسی وقت آزما سکتا ہے جب اس کے کندھے مضبوط ہوں اور ملنگا میں یہ مضبوطی گال سے بارہ کلومیٹر اپنے گاؤں کی جھیل میں تیراکی کرکے آئی تھی۔

ملنگا کا ٹیسٹ کیریئر آسٹریلیا کی چھ وکٹوں سے شروع ہوا تھا اور انہیں وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب میچ کے بعد ایڈم گلکرسٹ نے سری لنکن ڈریسنگ روم میں جاکر انہیں ایک سٹمپ تحفے میں دی تھی۔

ملنگا بھی کئی دوسرے فاسٹ بولرز کی طرح فٹنس مسائل میں گھرے رہے ہیں اور یہ گھٹنے کی تکلیف ہی تھی جس کے سبب انہیں صرف سات سال کی ٹیسٹ کرکٹ کے بعد ہی اسے خیرباد کہنے پر مجبور ہونا پڑا تاکہ محدود اوورز کی اپنی کرکٹ کو طول دے سکیں۔

سو وکٹوں پر ٹیسٹ کرکٹ ختم کرنے والے ملنگا نے ون ڈے انٹرنیشنل میں وکٹوں کی ڈبل سنچری مکمل کررکھی ہے۔ لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں جو بات انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی تین ہیٹ ٹرکس ہیں جن میں سے دو عالمی کپ مقابلوں میں ہیں۔

ملنگا ایک اور دلچسپ عالمی ریکارڈ کے مالک ہیں اور وہ ہے ون ڈے میچ میں چار مسلسل گیندوں پر چار وکٹیں حاصل کرنا۔

ٹی ٹوئنٹی میں بیٹسمین تیز بولرز کو ہر وقت اپنے اشاروں پر نچانے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ملنگا نے انہیں بھی تگنی کا ناچ نچایا ہے۔ آئی پی ایل ہو یا چیمپئنز لیگ وہ ایک کامیاب بولر کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ملنگا کو ایونٹ ایمبسیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

برینڈن میکلم، نیوزی لینڈ

برینڈن میکلم کو بولرز پر حاوی ہونا خوب آتا ہے۔ جب وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے بیٹنگ کرتے ہیں تو تیرہ چھکے اور دس چوکے لگا کر ایک سو اٹھاون رنز کی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

جب وہ نیوزی لینڈ کی طرف سے آسٹریلوی بولنگ کے سامنے آتے ہیں تو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی دوسری سنچری ریکارڈ بک میں درج ہوجاتی ہے۔

نجی لیگ ہو یا بین الاقوامی میچز، برینڈن میکلم بیس اوورز کی کرکٹ میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے نقش چھوڑنے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز۔ سب سے زیادہ چوکوں اور سب سے زیادہ چھکوں کے ریکارڈز کے سامنے برینڈن کا نام لکھا ہوا ہے۔

بیس اوورز کی کرکٹ ہی پر کیا موقوف برینڈن ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی کسی طرح پیچھے نہیں رہے ہیں۔

آئرلینڈ کے خلاف ایک سو چھیاسٹھ رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے انہوں نے نیوزی لینڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی دو سو چوہتر رنز کی ون ڈے پارٹنرشپ قائم کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اوپننگ شراکت کے علاوہ برینڈن نیوزی لینڈ کی مزید تین ریکارڈ ون ڈے پارٹنرشپس میں بھی شریک رہے ہیں۔

برینڈن جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تجربہ کار وکٹ کیپر بھی ہیں جنہیں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ کیچز اور سٹمپ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ تاہم بیٹنگ گلوز پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے انہوں نے ٹیسٹ میچز میں وکٹ کیپنگ گلوز اتار دیے ہیں۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم راس ٹیلر اور مارٹن گپٹل سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے لیکن سب کو پتہ ہے کہ حریف بولنگ کو پہلا زخم برینڈن میکلم ہی لگاسکتے ہیں۔

یوراج سنگھ، انڈیا

یوراج سنگھ کے دوبارہ کرکٹ شروع کرنے کو بہت سے مبصرین ان کی دوسری اننگز سے تعبیر کررہے ہیں لیکن خود یوراج کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ درحقیقت یہ نئی زندگی ہے جو انہوں نے شروع کی ہے۔

گزشتہ سال بھارت کی عالمی کپ کی جیت میں یوراج سنگھ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کے ساتھ ساتھ پندرہ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی انہیں چار مین آف دی میچ ایوارڈز کے علاوہ ورلڈ کپ کا بہترین کھلاڑی قرار دیئے جانے کا سبب بھی بنی تھی۔ لیکن صرف سات ماہ بعد جیسے سب کچھ ہی بدل گیا جب یہ پتہ چلا کہ وہ پھیپھڑے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔

یوراج سنگھ کو علاج کے لیے امریکہ جانا پڑا اور جتنا وقت بھی ان کا علاج جاری رہا ان کے پرستار اپنی نیک تمناؤں سے ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ جب وہ وطن واپس لوٹے تو نئی زندگی میں بھی کرکٹ کو تلاش کررہے تھے۔

یوراج سنگھ نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ شروع کی تو اس وقت بھی کم ہی لوگوں کو یقین تھا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کی سختی برداشت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ لیکن اپنی حوصلہ مندی سے وہ اب دوبارہ کرکٹ کے میدان میں دکھائی دے رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف چنئی کے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ان کی واپسی نے ماحول کو جذباتی بنادیا تھا۔ جب وہ فیلڈنگ کررہے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بیٹنگ میں انہوں نے چھبیس گیندوں پر چونتیس رنز سکور کئے لیکن آخری اوور میں ان کی وکٹ گرنے کے بعد بھارت ایک رن سے میچ ہارگیا تاہم یوراج سنگھ یہ پیغام دے گئے کہ وہ ایک بڑے چیلنج کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے زیادہ تر بیٹسمین خود کو دفاعی خول میں بند کرنا پسند نہیں کرتے۔ یوراج سنگھ بھی کھلی فضا کے پنچھی ہیں۔

پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سٹورٹ براڈ کا چہرہ لوگ ابھی بھی نہیں بھولے ہیں جو اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھ چھکے کھانے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی رو پڑیں گے۔

یوراج سنگھ ون ڈے بیٹسمین کی حیثیت سے بین الاقوامی کرکٹ میں آئے تھے لیکن انہیں ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بننے کا بھی پورا پورا موقع دیا گیا۔ انہوں نے اپنی تینوں ٹیسٹ سنچریاں پاکستان کے خلاف سکور کیں لیکن سوئنگ بولنگ اور اعلی معیار کی سپن پر کمزوری انہیں ٹیسٹ ٹیم میں مستقل جگہ نہ دلا سکی۔

یوراج سنگھ نے ون ڈے انٹرنیشنل میں ورلڈ کلاس بولنگ کے خلاف تیرہ سنچریاں سکور کی ہیں اور لیفٹ آرم سپنر کی حیثیت سے بھی جب جب موقع ملا کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

یوراج سنگھ کی واپسی ہوچکی اور اب شائقین ان سے پہلے جیسی کارکردگی کی توقع کررہے ہیں لیکن بھارتی کپتان دھونی نے صحیح ہی کہا ہے کہ ان پر توقعات کا اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے جتنا وہ برداشت کرسکیں۔ بہتر یہی ہے کہ انہیں پرسکون ہوکر کھیلنے دیا جائے۔

ژاک کیلس، جنوبی افریقہ

ژاک کیلس کو جنوبی افریقی بیٹنگ کا بوجھ سنبھالے ہوئے سترہ سال ہوچکے ہیں اور اس طویل عرصے میں وہ میچ جتوانے کی کنجی بھی ثابت ہوئے ہیں اور میچ بچانے کی ڈھال بھی۔

ژاک کیلس درست تیکنیک اور مضبوط قوت ارادی کے بل پر بڑی اننگز بہت آسانی سے کھیلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور یہی بات ان کی ٹیم کے حوصلے بڑھا دیتی ہے لیکن اس سے حریف ٹیم کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں۔

جب وہ بولنگ کرتے ہیں تو ان کی رفتار سوئنگ اور باؤنس حریف بیٹسمین کو کسی پل آرام نہیں لینے دیتا۔

جب وہ سلپ میں فیلڈنگ کررہے ہوتے ہیں تو مشکل سے مشکل ترین کیچز بڑی آسانی سے لے کر اپنے بولرز کے چہروں پر مسکراہٹیں لے آتے ہیں۔

کھیل کے تینوں شعبوں میں دسترس نے کیلس کو ایک مکمل کرکٹر بنا رکھا ہے۔

وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بارہ ہزار اور ون ڈے میں گیارہ ہزار سے زائد رنز بناچکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی میں اگرچہ انہوں نے پانچ نصف سنچریاں بنائی ہیں لیکن اس طرز کی کرکٹ میں اتارچڑھاؤ بھی دیکھے ہیں۔

آئی پی ایل کے پہلے ٹورنامنٹ کے لیے وہ نو لاکھ ڈالرز کے عوض خریدے جانے والے بنگلور کے مہنگے ترین کرکٹر تھے لیکن کارکردگی اتنی ہی مایوس کن رہی تاہم انہوں نے جیسے ہی خود کو ٹی ٹوئنٹی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا کامیابیاں حاصل کرتے گئے۔

کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے کئی اہم اننگز کھیلیں اور نئی گیند سے بولنگ کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھائی۔

اس سال بھارت کے خلاف جوہانسبرگ کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اکسٹھ رنز کی عمدہ کارکردگی نے سلیکٹرز کو کیلس پر دوبارہ اعتماد کرنے پر مجبور کردیا جو دو سال سے ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے باہر رہے تھے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے پہلے میچ میں جب ایک سو انیس رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی تین وکٹیں انتیس رنز پرگرگئی تھیں کیلس نے اڑتالیس رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو جیت دلادی۔

جنوبی افریقہ نے کیلس کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اوپنر کی حیثیت سے کھلانے کی منصوبہ بندی تیار کی ہے۔

کیلس سنتیسویں سالگرہ سے زیادہ دور نہیں لیکن وہ دو ہزار پندرہ کا عالمی کپ کھیلنے کی خواہش دل میں رکھے ہوئے ہیں۔

یہی ایک ایسی جیت ہے جو ابھی تک جنوبی افریقہ سے دور ہے اور یہی کسک کیلس کے دل میں موجود ہے۔

ڈیوڈ وارنر، آسٹریلیا

آسٹریلوی کرکٹ کی روایتی جنگجویانہ صفت ڈیوڈ وارنر کی بیٹنگ میں صاف جھلکتی ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت بخوبی لگایا جاسکتا ہے جب ان کے تیز طاقتور شاٹس پر گیند سڈنی اور میلبرن گراؤنڈ کی چھتوں پر جاگرتی ہے اور بولر کوئی اور نہیں برق رفتار شان ٹیٹ ہوں۔

ڈیوڈ وارنر فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کرنے سے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے تھے اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس میچ میں انہوں نے صرف تینتالیس گیندوں پر نواسی رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں اٹھارہ سو ستتر کے بعد یہ پہلی مثال تھی کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے بغیر ہی کسی کرکٹر نے بین الاقوامی کرکٹ شروع کی ہو۔

اس چونکا دینے والے آغاز کے بعد آئی پی ایل کا پرکشش معاہدہ وارنر کا منتظر تھا جبکہ آسٹریلوی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں بھی وہ کامیابی کی ضمانت سمجھے گئے۔

دو ہزار نو کی چیمپئنز لیگ نیوساؤتھ ویلز نے جیتی لیکن وارنر صرف ایک نصف سنچری بناسکے۔

گزشتہ سال نیوساؤتھ ویلز کی ٹیم چیمپئنز لیگ کا سیمی فائنل ہاری لیکن وارنر کسی کے قابو میں آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ چنئی سپرکنگز اور بنگلور کے خلاف انہوں نے سنچریاں سکور کیں اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بنے۔

وارنر کی زیادہ تر کامیابیاں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں رہی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے مواقع انہیں بہت ہی کم میّسر آئے ہیں لیکن اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری بنا کر اور اننگز کے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہ کر یہ ثابت کردیا کہ ان میں صرف طوفان ہی نہیں ٹھہراؤ بھی ہے البتہ ان کی دوسری ٹیسٹ سنچری ان کے مزاج کے مطابق تھی جو انہوں نے صرف انہتر گیندوں پر مکمل کی۔

وارنر نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں بھی چند اچھی اننگز کھیلیں اور اب سری لنکا میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی ان کے ارادے خطرناک دکھائی دیتے ہیں جس کی جھلک وہ پاکستان کے خلاف دبئی کے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں دکھاچکے ہیں جس میں انہوں نے صرف چونتیس گیندوں پر انسٹھ رنز سکور کئے تھے اس اننگز میں چھ چھکے شامل تھے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔