بھارت کی ٹیم کمزور کیوں نظرآ رہی ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 08:00 GMT 13:00 PST
وراٹ کوہلی اور روہت شرما

وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے علاوہ باقی بلے باز فارم کی تلاش میں ہیں۔

سری لنکا میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہو چکا ہے اور بھارتی ٹیم کسی طرح ہانپتے کانپتے افغانستان کے خلاف اپنا پہلا میچ جیت کر انگلینڈ سے مقابلے کی تیاری میں ہے۔

لیکن سری لنکا میں ہونے والے پریکٹس میچوں میں بھی ٹیم کے کھلاڑیوں میں نہ تو زور نظر آیا اور نہ ہی وہ جوش جس سے مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم کو مقابلے کی مضبوط دعویدار کہا جائے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

بات کی شروعات بلے بازی سے کرتے ہیں۔ گزشتہ کافی عرصے سے بھارت کی سب سے بڑی پریشانی اس کے سلامی بلے بازوں وریندر سہواگ اور گوتم گمبھیر کی خراب فارم رہی ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے دونوں ہی بلے باز پچ پرگیندوں سے پریشان ہوں۔ گمبھیر کو اپنا کھویا ہوا اعتماد واپس حاصل کرنے میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے، جبکہ سہواگ کی پریشانی کا سبب ہے ہر میچ میں ان کا بیباک بلے بازی کرنے والا انداز۔

تقریبا ہر بار سہواگ اپنا وکٹ آسانی سے مخالف ٹیم کی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ یوراج سنگھ بھلے ہی ہر اننگز میں ایک چھکا لگا دیں، لیکن ان کی فٹنس کو میدان میں دیکھنے کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ مکمل طور پر میچ فٹ قطعی نہیں ہیں۔

وراٹ کوہلی کو چھوڑ کر صرف روہت شرما ہی ایسے بلے باز نظر آ رہے ہیں جو اپنے انتخاب کو صحیح ٹھہرانے کی محنت میں لگے ہیں۔

دعویدار

"پہلے میچ میں بھارت نے بھلے ہی افغانستان سے نجات پا لی ہو لیکن جس طرح سے ٹیم کھیل رہی ہے اس فارم سے ٹی- 20 ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کی اہم دعویدار تو نہیں لگ رہی ہے"

لیکن کپتان دھونی کو شاید روہت کی صلاحیت پر زیادہ اعتماد نہیں ہے ورنہ وہ انہیں بیٹنگ کرنے اور پہلے بھیجتے۔ خود دھونی اور سریش رینا کو پچ پر طویل وقت گزارنے کی ضرورت ہے۔

ٹیم انڈیا کی شاید سب سے بڑی مشکل اس کی گیندبازی ہے۔

کپتان دھونی کے پاس پہلے سے ہی متبادل کم ہیں اور اشون کو چھوڑ کر تقریبا تمام گیند بازوں نے ایک طرح سے مایوس کیا ہے۔

اگر یوراج سنگھ نے افغانستان کے خلاف تین وکٹ نہ لیے ہوتے تو شاید میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا۔ یہ باتیں اپنے آپ میں یہ وضاحت کرتی ہیں کہ ظہیر خان، لکشمی پتی بالاجی، عرفان پٹھان اور ہربھجن سنگھ کتنی خراب فارم سے گذر رہے ہیں۔

ظہیر خان شروعات تو اچھی کرتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی لے بگڑ سی جاتی ہے۔ آپ نے کتنی بار ظہیر کی گیندوں پر تابڑتوڑ چھکے پڑتے دیکھے ہیں؟ جبکہ بالاجی کو لگتا ہے کہ انہیں کپتان کا اتنا اعتماد حاصل ہے کہ انہیں اس بات کی پرواہ ہی نہیں اور ان کی دھنائی افغانستان کے بلے باز بھی کر جاتے ہیں۔

اشون بھی ایک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد جیسے ڈھیلے سے لگنے لگتے ہیں۔

پہلے میچ میں بھارت نے بھلے ہی افغانستان سے نجات پا لی ہو لیکن جس طرح سے ٹیم کھیل رہی ہے اس فارم سے ٹی- 20 ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کی اہم دعویدار تو نہیں لگ رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔