کرکٹرز کو میڈیا سے دور رکھنے کی پالیسی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 00:37 GMT 05:37 PST

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں حصہ لینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے اپنے کھلاڑیوں کو میڈیا سے دور رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیم کی پریکٹس کے بعد کسی بھی کرکٹر کو میڈیا کے سامنے لانے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے منیجر کا یہ رویہ اس لیے ناقابل فہم ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں یہ پرانی روایت رہی ہے کہ ٹیم کی پریکٹس کے بعد ایک کھلاڑی ضرور میڈیا کے سامنے آ کر بات کرتا ہے۔

ان کے اسی رویے کے سبب صحافی پاکستان اور بھارت کے وارم میچ میں انتظار کرتے رہ گئے لیکن کوئی بھی کھلاڑی پریس کانفرنس میں نہ آیا۔

اسی طرح انگلینڈ کے خلاف کولمبو کےوارم میچ کے بعد بھی جب صحافیوں نے منیجر سے کسی بھی کرکٹر سے انٹرویو کے بارے میں درخواست کی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کینڈی میں جا کر بات ہوگی۔

نوید اکرم نے کینڈی میں ٹیم کی پریکٹس کے موقع پر بھی صحافیوں کی کسی بھی کھلاڑی سے بات کرانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ آئی سی سی کے قواعد وضوابط پر عمل کررہے ہیں۔

آئی سی سی کے ترجمان نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ میچ سے قبل اور میچ کے بعد پریس کانفرنس لازمی ہیں تاہم پریکٹس سیشن کے موقع پر کرکٹرز اگر میڈیا سے بات کرلیتے ہیں تو اس سے آئی سی سی ایونٹ کو مثبت تشہیر ملتی ہے اور آئی سی سی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں صحافیوں کی کرکٹرز تک رسائی نہ ہونے اور کوریج کے سلسلے میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے میڈیا منیجر ندیم سرور کو سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان واحد ٹیم ہے جو غیرملکی دوروں پر پیشہ ورانہ انداز میں ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھنے کے لیے اپنا کوئی میڈیا منیجر نہیں بھیجتی بلکہ یہ ذمہ داری بھی ٹیم کے منیجر کو سونپ دی جاتی ہے اور یہ اس کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں سے کس طرح کا رویہ روا رکھے۔

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے سوا ہر ٹیم باقاعدہ میڈیا منیجرز کے ساتھ آئی ہے جو صحافیوں اور کرکٹرز کے درمیان رابطے کا کام کررہے ہیں۔

گزشتہ سال ورلڈ کپ کے موقع پر ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے میڈیا کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات رکھتے ہوئے کرکٹرز تک رسائی کا موقع فراہم کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود کرکٹر تھے اور انہیں میڈیا کی کوریج کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔