’سب سے مقبول غیر ملکی ٹیم‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 19:27 GMT 00:27 PST

پاکستان کی کرکٹ ٹیم میچ جیتے یا ہارے دونوں صورتوں میں وہ سری لنکا میں سب سے مقبول غیرملکی ٹیم ہے۔

کولمبو کی طرح کینڈی میں بھی پاکستانی ٹیم کے پرستاروں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو اس کا ذکر کرتے ہوئے پرجوش ہوجاتی ہے۔

یہ پرستار چاہے رکشہ ڈرائیور ہوں، دکاندار یا پھر ہوٹل کے ویٹر وہ یہ دیکھ کر کہ آپ پاکستانی ہیں کرکٹ پر بات شروع کر دیتے ہیں اور پاکستانی ٹیم کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

پاکستانی ٹیم کے ان پرستاروں کی گفتگو عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور انضمام الحق سے شروع ہوتی ہے اور جب ذکر موجودہ کرکٹرز کا آتا ہے تو ظاہر ہے وہ شاہد آفریدی کو اپنا پسندیدہ ترین کرکٹر کہنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی حمایت

سری لنکا کے میدانوں میں جب بھی پاکستانی ٹیم میچ کھیل رہی ہوتی ہے تو شائقین کسی دوسری ٹیم کی نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ صرف اس وقت رک جاتا ہے جب پاکستان کا مقابلہ ان کی اپنی ٹیم سے ہو ایسے میں ان کی ہمدردیاں سری لنکن ٹیم کے ساتھ ہوتی ہیں۔

کولمبو میں انگلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کے اختتام پر شائقین کی ایک بڑی تعداد شاہد آفریدی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیےجمع تھی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ موبائل فون کے کیمرے سے شاہد آفریدی کے ساتھ تصویر بنوالے لیکن سخت سکیورٹی نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔

ورلڈ کپ کی طرح ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر بھی شہر میں جگہ جگہ مختلف کھلاڑیوں کے بیٹنگ اور بالنگ ایکشن والے کٹ آؤٹ لگے ہوئے ہیں اور ان میں صرف شاہد آفریدی ہی واحد پاکستانی کرکٹرز دکھائی دیتے ہیں۔

سری لنکا کے میدانوں میں جب بھی پاکستانی ٹیم میچ کھیل رہی ہوتی ہے تو شائقین کسی دوسری ٹیم کی نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ صرف اس وقت رک جاتا ہے جب پاکستان کا مقابلہ ان کی اپنی ٹیم سے ہو ایسے میں ان کی ہمدردیاں سری لنکن ٹیم کے ساتھ ہوتی ہیں۔

پاکستان کے دو سابق سپنرز دو مختلف ٹیموں کے کوچنگ سٹاف میں شامل ہو کر سری لنکا آئے ہوئے ہیں۔

لیگ سپنر مشتاق احمد انگلینڈ کی ٹیم کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ ثقلین مشتاق کے تجربے سے بنگلہ دیشی ٹیم فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ثقلین مشتاق کا معاہدہ دسمبر تک ہے۔ اس سے قبل وہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے بالنگ کنسلٹنٹ رہ چکے ہیں۔

ثقلین مشتاق انگلینڈ میں مقیم ہیں لیکن پاکستان کے حالات سے سخت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی یہ ارادہ کیا کہ پاکستان جا کر مستقل سکونت اختیار کر لی جائے تو کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنا ارادہ ترک کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے حالات پر سری لنکن بھی افسوس ظاہر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ جس طرح ان کے ملک میں دہشت گردی اور خون ریزی ختم ہوگئی پاکستان میں یہ کب ختم ہوگی۔؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔