ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کا انتظار ختم

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 10:03 GMT 15:03 PST

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ چھ دن کے انتظار کے بعد پہلی بار میدان میں اتری ہے۔

نیوزی لینڈ نے پہلے میچ میں بنگلہ دیش کو برینڈن مک کیولم کی انتہائی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے آؤٹ کلاس کر دیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے تیز بالرز کائل ملز اور ٹم سوتھی نے عمدہ بولنگ کر کے پاکستان کو خطرے کا سگنل دے دیا تھا کیونکہ پالیکلے میں جب بادل چھائے ہوں تو تیز بالروں کے چہروں پر رونق آجاتی ہے۔

"ٹیم موجودہ صوررتحال پر نظر رکھتے ہوئے اس بڑے چیلنج کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ پاکستانی کرکٹرز کو پالیکلے میں کھیلنے کا تجربہ ہے اور وہ موسمی حالات سے خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اچھی کارکردگی کے لیےتیار ہیں۔"

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد حفیظ

پاکستانی ٹیم کی پالیکلے سے یادیں خوشگوار نہیں ہیں۔ گزشتہ سال ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست اور اس میچ میں راس ٹیلر کی سنچری وہ ابھی تک نہیں بھولی ہے تاہم نیوزی لینڈ کے کپتان اس سنچری کے لیے وکٹ کیپر کامران اکمل کے شکر گزار تھے جنہوں نے شعیب اختر کی گیند پر کیچ ڈراپ کرکے میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا تھا وہ شعیب اختر کا آخری میچ ثابت ہوا تھا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان محمد حفیظ کا کہنا ہے ’وہ میچ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ٹیم موجودہ صوررتحال پر نظر رکھتے ہوئے اس بڑے چیلنج کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ پاکستانی کرکٹرز کو پالیکلے میں کھیلنے کا تجربہ ہے اور وہ موسمی حالات سے خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اچھی کارکردگی کے لیےتیار ہیں۔‘

پاکستانی بلے بازوں کی حالیہ غیرمستقل مزاج کارکردگی کے بارے میں محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ اس پر پریشان نہیں ہیں کیونکہ آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف سیریز جیتنے کے بعد ٹیم نے کچھ تجربے کیے اور ہر کھلاڑی کو موقع دیا گیا۔

محمد حفیظ کہتے ہیں کہ ٹیم صرف سپنرز پر انحصار نہیں کر رہی ہے بلکہ موسمی صورت حال کے مطابق تیز بولرز بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے موجود ہیں۔

پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ شاہد آفریدی کا وسیع تجربہ اس ایونٹ میں ٹیم کے کام آئے گا انہوں نے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں جو شاندار کارکردگی دکھائی ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

محمدحفیظ کے مطابق پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی میں اس کی غیرمعمولی کارکردگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی آزاد ہوکر کھیلتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مظاہرہ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔