’پیٹرسن کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 00:44 GMT 05:44 PST

’میں نہیں سمجھتا کہ انگلینڈ کو اس سے پہلے پیٹرسن جیسا غیر معمولی کھلاڑی ملا ہے‘۔ مائیکل وان

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا ہے کہ اگر کیون پیٹرسن کا ٹیم کے ساتھ معاملہ حل ہو گیا ہے تو دورۂ بھارت کے لیے انہیں ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔

مائیکل وان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ حل ہونا چاہیے اور اگر یہ معاملہ حل ہو گیا ہے تو میں چاہوں گا کہ کیون پیٹرسن بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں چوتھے نمبر پر بیٹنگ کریں۔

انہوں نے مزید کہا ’میں نہیں سمجھتا کہ انگلینڈ کو اس سے پہلے پیٹرسن جیسا غیر معمولی کھلاڑی ملا ہے۔‘

واضح رہے کہ بتیس سالہ کیون پیٹرسن کو گذشتہ ماہ اس وقت ٹیم سے نکال دیا تھا جب انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم اور بالخصوص کپتان اینڈریو سٹراس کے بارے میں ’اشتعال آمیز‘ ٹیکسٹ میسجز بھیجے تھے۔

برطانوی ٹیم پندرہ نومبر سے بھارت کا دورہ کرے گی جس میں چار ٹیسٹ میچ کھیلے جائیں گے۔

کیون پیٹرسن کو جاری آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی برطانوی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

کیون پیٹرسن نے پچھلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بتیس سالہ کیون پیٹرسن نے انگلینڈ کی جانب سے اٹھاسی ٹیسٹ میچوں میں انچاس اعشاریہ چار آٹھ کی اوسط سے اکیس سنچریوں اور ستائیس نصف سنچریوں کی بدولت سات ہزار چھہتر رنز بنا چکے ہیں۔

پیٹرسن نے ایک سو ستائیس ایک روزہ میچوں میں اکتالیس اعشاریہ آٹھ چار کی اوسط سے نو سنچریوں اور تئیس نصف سنچریوں کی مدد سے چار ہزار ایک سو چوراسی جبکہ چھتیس ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سینتیس اعشاریہ نو تین کی اوسط سے سات نصف سنچریوں کی مدد سے ایک ہزار ایک سو چھہتر رنز بنائے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔