حفیظ شرمناک کارکردگی پر بھی نازاں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 21:59 GMT 02:59 PST

یہ کھیل ہے جس میں ایک ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے اور دوسری ہارتی ہے: محمد حفیظ

اب وہ دور نہیں رہا جب ٹیم ہارجاتی تھی تو کھلاڑی شرمندگی سے چہرے چھپائے پھرتے تھے اور اپنی خراب کارکردگی پر خود کو کوستے رہتے تھے انہیں یہ بھی خوف رہتا تھا کہ نہ جانے شائقین ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے۔

اب تو حال یہ ہے کہ ٹیم بڑے سے بڑا میچ ہارجائے ٹیم کو ہر صوبے کا گورنر اور وزیراعلی استقبالیے دے کر انعامات سے مالا مال کردیتا ہے اور یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ ٹیم نے صرف میچ نہیں ہارا بلکہ پوری قوم کا دل بھی توڑا ہے۔

موہالی کے بعد اب یہ دل کولمبو میں ٹوٹے ہیں لیکن کپتان کی سادگی پہ کون نہ مرے کہ وہ فخر سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں ٹیم کی اس ٹورنامنٹ کی کارکردگی پر خوشی ہے ۔

سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان محمد حفیظ جب پریس کانفرنس میں آئے تو چہرے پر نہ افسردگی تھی اور نہ اپنے اور ٹیم کے کیے کی پشیمانی بلکہ جب ان سے پوچھا گیا کہ پوری قوم کی توقعات پر پورا نہ اترنے کے بعد اب آپ قوم کو کیا کہیں گے تو انہوں نے بڑے اطمینان سے جواب دے دیا کہ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم نے جو کارکردگی دکھائی ہے اس پر وہ خوش ہیں۔

’صرف اس میچ میں بیٹنگ ناکام ہوئی ہے اور یہ کھیل ہے جس میں ایک ٹیم کامیابی حاصل کرتی ہے اور دوسری ہارتی ہے‘۔

محمد حفیظ پورے ٹورنامنٹ میں لفظوں سے کھیلتے رہے اور اپنے کھلاڑیوں کے گن گاتے رہے کہ وہ میچ ونر ہیں لیکن جب ان سے سینیئر کھلاڑیوں کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ میچ ونر کہاں ہیں تو سینئر کھلاڑیوں کا دفاع کرتے نہ تھکنے والے حفیظ نے ایک بار پھر ان کھلاڑیوں کی خوبیاں گنوانی شروع کردیں۔

محمد حفیظ کا دعوی ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں کامران اکمل کی کارکردگی اچھی رہی جبکہ تقریباً ہر میچ میں انہوں نے کیچ گرائے اور اپنی جس بیٹنگ کے بل پر وہ ٹیم میں شامل کیے گئے تھے ا سکی جھلک صرف ایک وارم اپ میچ میں ہی دکھاپائے۔

اسی طرح شعیب ملک بھی کامران اکمل کی طرح حیران کن طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی انٹیگریٹی کمیٹی سے کلیئر ہوکر ٹیم میں شامل ہوئے لیکن بحیثیت بیٹسمین وہ مایوسی کے سوا کچھ نہ دے سکے بولر کی حیثیت سے ان کا کردار ویسے ہی ختم ہوچکا ہے۔

شاہد آفریدی کے لیے پورا ٹورنامنٹ بھیانک خواب ثابت ہوا۔

سلیکٹرز بھی قصوروار

پاکستانی ٹیم کے سلیکٹرز کو بھی جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ کولمبو میں جو کچھ ہوا ہے اس میں وہ بھی شریک ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کپتانی نہ ملنے کا اثر ان کی کارکردگی پر پڑا ہے کیونکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ مصباح الحق کو ٹی ٹوئنٹی سے فارغ کئے جانے کے بعد شاہد آفریدی کپتانی کے مضبوط دعویدار تھے لیکن کرکٹ بورڈ انہیں کپتانی دینے کے لیے تیار نہ تھا اور محمد حفیظ کی قسمت جاگ گئی جو کافی عرصے سے کپتانی کے لیے بہت بے چین اور پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔

محمد حفیظ کو کپتانی تو مل گئی لیکن سلیکشن کی غیرمستقل مزاجی ہو یا میدان میں غلط فیصلے وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی ان میں پختگی نہیں آئی ہے۔ حالانکہ ان کی کپتانی میں پاکستان نے آسٹریلیا سے ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے لیکن اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں وہ جرات مندانہ درست فیصلوں سے دور دور اور دفاعی خول میں بند بیٹسمین دکھائی دیے۔

اس پورے ٹورنامنٹ میں سلیکشن کی غیرمستقل مزاجی کھل کر سامنے آئی ۔ کچھ نہ کر کے بھی کئی کھلاڑی تمام میچ کھیل گئے اور بنچ پر بیٹھے اسد شفیق اور محمد سمیع کھیلے بغیر ہی وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔عبدالرزاق بھی صرف ایک میچ کے لیے کپتان کا اعتماد حاصل کرسکے۔

سہیل تنویر، یاسرعرفات اور عمران نذیر کی اوسط درجے کی کارکردگی انہیں مزید کتنے سال کھلاسکتی ہے۔؟

کامران اکمل جو بیٹنگ کی خوبی پر ٹیم میں لیے گئے ہیں کب تک غیرمعیاری وکٹ کیپنگ سے حریف بیٹسمینوں کو ایک میچ میں دو باریاں کھلواتے رہیں گے۔؟

شعیب ملک بھی بیٹسمین کے طور پر ٹیم میں لیے جاتے رہے ہیں لیکن آخر وہ بھی کب تک ٹینس کی زبان میں ڈبل فالٹ کرتے رہیں گے ؟

سلیکشن کمیٹی ہمیشہ یہ کہہ کر بری الذمہ ہوجاتی ہے کہ ٹیم سلیکشن کپتان اور کوچ کی مرضی اور خواہشات کے مطابق کیا جاتا ہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر سلیکشن کمیٹی کا کردار ہی ختم کردیا جائے اور مکمل اختیارات کوچ اور کپتان کو دے دیے جائیں اور اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر سلیکٹرز کو بھی جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ کولمبو میں جو کچھ ہوا ہے اس میں وہ بھی شریک ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔