کیا سچن اب کرکٹ سے تھک گئے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 06:54 GMT 11:54 PST
تندولکر

حالیہ دنوں میں تندولکر کے آوٹ ہونے کے انداز کے بارے میں کافی ردعمل سامنے آئے ہیں۔

کرکٹ شائقین کی امیدوں پر پورا اترنے اور بہترین کرکٹ کھیلنے کے دباؤ کے درمیان سچن تندولکر بار ہا اپنی کارکردگی سے دنیا کو حیران کرتے رہے ہیں۔ لیکن کیا سچن اب کرکٹ سے تھک گئے ہیں؟

انگریزی ٹی وی نیوز چینل ’ٹائمس ناؤ‘ پر ایک انٹرویو میں سچن نے کہا ہے ’میں انتالیس سال کا ہو گیا ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ میرے اندر ابھی بہت کرکٹ بچا ہے۔ لیکن یہ سب میری جسمانی صلاحیت اور ذہنی قوت پر منجصر ہے۔ جب مجھےیہ احساس ہونے لگے گا کہ میں وہ نہیں دے پا رہا ہوں جس کی مجھ سے توقع کی جاتی ہے تو اس وقت میں چیزوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کروں گا۔‘

سچن کا کہنا ہے کہ کرکٹ کو الوداع کہنا ان کی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ہوگا اور وہ یہ فیصلہ اسی ’وقت لیں گے جب صحیح موقع‘ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ’رنز بنانا اور دل میں کھیلنے کی خواہش ہونا دو مختلف باتیں ہیں، اس لیے میں وہی کروں گا جو میرا دل کہتا ہے‘۔

ریٹائرمنٹ کے بارے میں ان کی سوچ کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’میں نے پوری زندگی یہی کیا ہے اور پھر ایک دن اچانک اپنے ہتھیار ڈال دینا بہت مشکل کام ہے۔‘

سچن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سوچا ہے کہ جب وہ ریٹائر ہوں گے تو انہیں کیسا محسوس ہوگا۔

رد عمل سخت

"میں دباؤ میں اچھا کھیلتا ہوں، مجھے ایسا کرنے میں کوئی دقت نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی بلے باز نہیں جو آؤٹ ہونے پر خوش ہوتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کی کارکردگی پر ملک کی جیت منحصر ہو اور آپ آؤٹ ہو جائیں تو ردعمل سخت ہوتا ہے"

سچن تندولکر

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ کرکٹ کے مختلف فارمیٹ سے بیک وقت ریٹائر ہو جائیں گے تو انہوں نے کہا ’یہ تمام باتیں میں اپنے حساب سے طے کروں گا اور مجھے اس کے لیے ابھی کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب میں نومبر میں کھیلوں گا تب مجھے نئے سرے سے چیزوں کے بارے میں اندازہ ہوگا۔‘

سچن کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی میدان میں اترتے ہیں ان کے دل میں ملک کے لیے کچھ کر گذرنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے اپنی جان لگا دیتے ہیں۔

’جس دن میں کھیلنا بند کر دوں گا میں نہیں چاہتا کہ میرے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ میں نے اپنی زندگی کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘

سچن کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی زندگی میں کبھی بھی ایسا وقت نہیں ہوتا جب وہ دباؤ میں نہ ہوں۔ ’میں دباؤ میں اچھا کھیلتا ہوں، مجھے ایسا کرنے میں کوئی دقت نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی بلے باز نہیں جو آؤٹ ہونے پر خوش ہوتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کی کارکردگی پر ملک کی جیت منحصر ہو اور آپ آؤٹ ہو جائیں تو ردعمل سخت ہوتا ہے۔‘

حال ہی میں سنیل گواسكر کی جانب سے ان کے آؤٹ ہونے کے انداز کے حوالے سے تبصرے کے جواب میں سچن نے کہا ’سنیل گواسکر نے میرے بارے میں بہت مثبت بھی کہا ہے اور کئی بار مثبت تبصرے بھی کیے ہیں پھر ہم ان کی منفی باتوں کو کیوں خبر بناتے ہیں۔ اگر میں آؤٹ ہوا تو کہیں نہ کہیں میری غلطی رہی ہوگی اور ہمیں مسلسل خود کو بہتر کرتے رہنا لازمی بھی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔