’لاہور دہشت گردی نے سب کچھ بدل دیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 16:26 GMT 21:26 PST

’لاہور حملے کے بعد اس بات پر توجہ دینے میں مدد ملی کہ آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کس کی ہے‘

آسٹریلوی امپائر سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے نے نہ صرف ان کی زندگی بدل دی بلکہ کرکٹ کو بھی یکسر تبدیل کردیا۔

اکتالیس سالہ سائمن ٹافل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے اختتام پر بین االاقوامی امپائرنگ کو خیرباد کہہ رہے ہیں اور اتوارکو ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل ان کا آخری میچ ہوگا۔

سائمن ٹافل نے کولمبو میں صحافیوں سے اپنے کریئر کے مختلف پہلوؤں پر بات کی لیکن سب ان سے مارچ2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے کے بارے میں ان کے احساسات جاننا چاہتے تھے جس کی زد میں وہ خود بھی آئے تھے اور موت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔

سائمن ٹافل کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ذاتی طور پر ان کے لیے اور پوری کرکٹ کے لیے بہت ہی افسوسناک تھا خاص کر وہ ٹیلی فون کال ان کے لیے بہت ہی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے اس واقعے کے بعد اپنی بیوی کو تھی ۔اس واقعے سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور انہیں اس بات پر توجہ دینے میں مدد ملی کہ آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کس کی ہے۔

سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد کرکٹ میں بہت تبدیلی رونما ہوئی ہے اور آج کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے جتنی بھی سخت سکیورٹی نظر آتی ہے یہ سب اسی واقعے کا نتیجہ ہے۔

سائمن ٹافل نے کہا کہ پاکستان سے ان کی اچھی یادیں بھی وابستہ ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان میں کئی میچز میں امپائرنگ کی ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ جلد شروع ہو۔

"دو ہزار تین کے عالمی کپ میں سری لنکا اور بھارت کا سپرسکس کا میچ اور گزشتہ سال پاک بھارت موہالی سیمی فائنل یادگار میچز میں سے ہیں۔ موہالی میں ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ کرکٹ میچ سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ وہاں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے۔"

سائمن ٹافل

سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین کے عالمی کپ میں سری لنکا اور بھارت کا سپرسکس کا میچ اور گزشتہ سال پاک بھارت موہالی سیمی فائنل ان کے یادگار میچز میں سے ہیں۔موہالی میں ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ کرکٹ میچ سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ وہاں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے۔

اپنے سب سے مشکل میچ کے بارے میں سائمن ٹافل نے کہا کہ بھارت اور انگلینڈ کے ممبئی ٹیسٹ کے پانچ دن انہیں سب سے طویل لگے اس کی وجہ مشکل کنڈیشنز اور خود ان کا پیٹ خراب ہونا تھا ۔

سائمن ٹافل آئی سی سی کے منیجر امپائرز ڈیولپمنٹ کی ذمہ داری سنبھالنے والے ہیں تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی امپائرنگ کے معیار کو بلند کرسکیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جس سے وہ عہدہ برا ہونے کی پوری کوشش کرینگے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہےکہ سائمن ٹافل نے امپائرنگ میں اعلی معیار مقرر کردیا ہے اور جب بھی امپائرنگ میں ہال آف فیم کا سلسلہ شروع ہوگا سائمن ٹافل اس میں شامل ہونے والے پہلے امپائرز میں سے ایک ہونگے

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔