میچ فکسنگ کے نئے الزامات کی تحقیقات

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 01:10 GMT 06:10 PST

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ فکسنگ کے متعلق سامنے آنے والے نئے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بھارت کے ایک ٹی وی چینل نے پیر کو نشر کیے گئے ایک پروگرام میں الزام لگایا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹونٹی کے آغاز سے پہلے چھ امپائرز اس کے میچز فکس کرنے پر تیار تھے۔

کرکٹ کی گورننگ باڈی نے ٹی وی سے کہا ہے کہ اگر اس کے پاس اس الزام کے حق میں کوئی شواہد ہیں تو وہ اس کے حوالے کرے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

ساتھ ہی آئی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں جن امپائرز کے نام لیے گئے ہیں ان میں سے کسی کی بھی خدمات ورلڈ ٹی ٹونٹی کے لیے حاصل نہیں کی گئی تھیں۔

بھارتی ٹی وی کے الزام کے مطابق ان امپائرز کا تعلق سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہے اور یہ کہ یہ امپائرز ٹورنامنٹ کے دوران پیسے لے کر میچ فکس کرنے پر تیار تھے۔

اتوار کو کھیلے گئے اس ورلڈ ٹی ٹونٹی کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے فتح حاصل کی ہے۔

ٹی وی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اسٹنگ آپریشن کے دوران جس ساتویں امپائر سے رابطہ کیا گیا تھا اس نے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے سے انکار کردیا تھا۔

آئی سی سی نے بھارتی ٹی وی کے الزامات کے جواب میں ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ آئی سی سی اور اس کے متعلقہ ارکان کو بھارتی ٹی وی کے الزامات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ٹی وی چینل سے اس بارے میں کوئی بھی ایسی معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے جس سے ہنگامی تحقیقات میں مدد مل سکے۔

بیان میں آئی سی سی کے اس عزم کو بھی دہرایا گیا ہے کہ ادارے کی کرپشن کو کسی صورت بردشت نہ کرنے کی پالیسی پر قائم ہے خواہ ایسے الزامات کھلاڑیوں پر لگیں یا آفیشلز پر۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آئی سی سی اس بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔