نئی دلّی:’ریس ٹریک کتّوں کی پہنچ سے دور‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 06:25 GMT 11:25 PST

سرکٹ کے اردگرد دوہری باڑ لگائی گئی ہے جبکہ کتے پکڑنے والی ٹیمیں بھی ڈیوٹی پر ہیں:انتظامیہ

بھارت کے دارالحکومت نئی دلّی میں فارمولا ون کار ریس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ریس ٹریک ’کتوں کی پہنچ سے محفوظ‘ رہے۔

فارمولا ون ریس اتوار کو دارالحکومت کے نواح میں نوئیڈا کے مقام پر منعقد ہونی ہے جبکہ جمعہ اور سنیچر کو تربیتی سیشن منعقد ہوں گے۔

منتظمین کے مطابق بودھ انٹرنیشنل سرکٹ میں کتوں کے داخلے کے تمام ممکنہ مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔

گزشتہ برس ریس سے قبل تربیتی سیشن کے دوران آوارہ کتے ٹریک کے آس پاس گھومتے پائے گئے تھے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ جب تربیتی سیشن یا ریس منعقد ہوگی تو اس وقت ٹریک پر صرف کاریں ہی موجود رہیں گی۔

ریس سرکٹ کے منتظم عسکری زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے چھ، سات ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں سے کتے اور دیگر آوارہ جانور سرکٹ میں داخل ہوتے تھے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اب ان مقامات کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور سرکٹ کے اردگرد دوہری باڑ لگائی گئی ہے جبکہ کتے پکڑنے والی ٹیمیں بھی ڈیوٹی پر ہیں‘۔

منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ برس ٹریک کے قرب و جوار میں کتوں کی موجودگی کی وجہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی تھا۔

عسکری زیدی کے مطابق ’یہاں بہت سے مزدور موجود تھے جو کھانا پکاتے تھے جس کی وجہ سے یہاں کتے خوراک کی تلاش میں آ جاتے تھے۔ اب ایسا کچھ نہیں ہے‘۔

ادھر فارمولا ون ریس میں حصہ لینے والے بھارتی ڈرائیور نرائن کارتھیکن کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں جتنا کہ اسے بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ کبھی بھی ڈرائیوروں کے لیے مسئلہ نہیں رہا۔ یہ بہت چھوٹی چیزیں ہیں۔ آپ یہ دیکھیں کہ یہ عالمی معیار کی جگہ ہے اور ہر کسی کو یہ ٹریک پسند ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔