لاہور میں نئے ہاکی سٹیڈیم کا افتتاح

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 17:02 GMT 22:02 PST

یہ سٹیڈیم چوبیس کنال اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر پر تیرہ کروڑ، نوے لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تعمیر کیے جانے والے نئے ہاکی سٹیڈیم کا جمعرات کو پاکستان گرین اور پاکستان وائٹس کے درمیان میچ سے افتتاح کر دیا گیا ہے۔

یہ سٹیڈیم سبز ایسٹرو ٹرف یعنی مصنوعی گھاس اور مصنوعی روشنیوں سے مزین ہے۔

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں بنایا گیا یہ سٹیڈیم چوبیس کنال اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر پر تیرہ کروڑ، نوے لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے۔

ہاکی سٹیڈیم میں ہالینڈ سے درآمد کی گئی چھیاسٹھ مربع فٹ گرین ایسٹرو ٹرف بچھائی گئی ہے جبکہ سٹیڈیم کے چاروں کونوں پر مصنوعی روشنیوں کے پول نصب کیے گئے ہیں۔

اس سٹیڈیم میں رات کو میچز منعقد کروانے اور پریکٹس کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دو ہزار واٹ کی چونسٹھ لائٹیں بھی نصب کی گئیں ہیں۔

سٹیڈیم میں انتالیس سو مربع فٹ پر پویلین تعمیر کیا گیا ہے جس میں پندرہ سو شائقین ہاکی کے کھیل سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

اس سٹیڈیم کا نام پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں محمد شریف ہاکی سٹیڈیم رکھا گیا ہے اور جمعرات کو انہوں نے ہی اس کا افتتاح کیا۔

نئے تعمیر شدہ سٹیڈیم میں جمعرات سے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کے ممکنہ کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ کا بھی آغاز ہوا۔

پاکستان کی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ اختر رسول کے مطابق کیمپ میں کھلاڑیوں کی تعداد اٹھائیس ہے اور نومبر کے وسط تک چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے حتمی ٹیم کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔

نئے سٹیڈیم کی بابت اختر رسول کا کہنا تھا کہ اس سٹیڈیم کی تعمیر سے لاہور کے ایک بڑے علاقے کے بچوں میں ہاکی کا شوق پیدا ہو گا اور پاکستان کو ہاکی میں نیا ٹیلنٹ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سٹیڈیم میں تمام تر بین الاقوامی معیار کی سہولتیں موجود ہیں اور اس میں بین الاقوامی میچز کروائے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔