آسٹریلیا اور دو ہزار تیرہ کی ایشز سیریز

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 15:25 GMT 20:25 PST
سٹورٹ لاء

سٹورٹ لاء نے آسٹریلیا کے لیے کئی ونڈے کھیلے تھے

آ‎سٹریلیا کے سابق کرکٹ کھلاڑی اور اکیڈمی کے کوچ سٹورٹ لاء کا کہنا ہے کہ آ‎سٹریلوی ٹیم انگلینڈ کو شکست دیکر اگلی ایشز سیریز اپنے نام کر سکتی ہے۔

آ‎سٹریلیا کی ٹیم اس وقت جنوبی افریقہ کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کھیلنے کی تیاری میں مصروف ہے جو جمعہ کو شروع ہوگي۔

تینتالیس سالہ سٹورٹ لاء کو امید ہے کہ مائیکل کلارک کی قیادت والی آ‎سٹریلیائی ٹیم میں موجود کئی تیزگيند باز دو ہزا رتیرہ میں انگلینڈ کی ٹیم کو پریشان کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ایشز پر انگلینڈ کی گرفت مضبوط رہی ہے اور اس میں کلیدی رول ان کی تیز اور جارحانہ گیند بازی کا رہا ہے۔ ہم اسی شعبہ میں ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سٹورٹ لاء اس وقت ’کرکٹ آ‎سٹریلیا سینٹر آف ایکسلینس‘ میں کوچ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جیمز پیٹنسن، میچیل سٹارک اور پیٹ کمنس جیسے نوجوان تیز گیند بازوں کا اب پیٹر سڈل اور بین ہلفنہاس جیسے بالروں سے مقابلہ کریں گے۔

مسٹر لاء کے مطابق دو ہزار چھ اور سات کے بعد آ‎سٹریلیا پہلی بار ایشز سیریز میں واپسی کی کوشش کریگا اور اس میں یہ کھلاڑی اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔

’ہمارے پاس اب آتشی بالر ہیں۔ وہ سب ایک سو پینتالیس کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے بھی تیز بالنگ کرتے ہیں اور قد میں چھ فٹ چار انچ سے بھی اوپر ہیں‘۔'

"ایشیز پر انگلینڈ کی گرفت مضبوط رہی ہے اور اس میں کلیدی رول ان کی تیز اور جارحانہ گیند بازی کا رہا ہے۔ ہم اسی شعبہ میں ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اب جنوبی افریقہ کے ساتھ سیریز میں یہ دیکھنے کی بات ہوگی کہ ٹیم مستقل مزاجی سے بیٹنگ کیسے کرتی ہے۔

’اگر ہم بلے بازوں کا ایک اچھا گروپ ایک ساتھ پاسکیں، ہمارے پاس رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارکی صورت میں انکلس کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ پہلے ہی سے موجود ہے۔‘

سٹورٹ نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں وہ زیادہ عمر دراز ہیں لیکن آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ٹریننگ کے دوران کیسے دوڑتے ہیں۔ وہ کامیابی چاہتے ہیں اور ایک دوسری شکستہ ایشز سیریز نہیں کھیلنا چاہتے‘۔

’بس ہمیں چند ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں پھر ہم ایک اچھی سیریز کھیلیں گے‘۔

ادھر انگلینڈ کو بھی آئندہ سیریز میں آ‎سٹریلیا کے ساتھ کیون پیٹرسن جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی ضرورت ہوگي۔

سٹورٹ کا کہنا تھا کہ پیٹرسن پر جوش کھلاڑی ہیں اور انگلینڈ نے اختلافات رفع دفع کرکے انہیں دوبارہ شامل کرکے اچھا کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔