کھیل میں سیاست صحیح نہیں ہے: بھارت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST

بھارتی وزیر داخلہ نے کرکٹ سیریز کا دفاع کیا ہے

بھارت کا کہنا ہے کہ آنے والی انڈیا پاکستان کرکٹ سیریز کے دوران وہ پاکستانی کھلاڑيوں اور وہاں سے آنے والے شائقین کو بہترین قسم کی سکیورٹی کی سہولیات مہیا کرے گا۔

بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے علاقائی جماعت شیو سینا پر پاکستانی ٹیم کو دھمکی دینے کی وجہ سے نکتہ چینی کی ہے اور کہا کہ کھیل میں سیاست کی آمیز درست نہیں ہے۔

اس سے پہلے سخت گیر ہندو نظریاتی قوم پرست جماعت شیو سینا نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کی سخت مخالفت کی تھی اور ’محب وطن اور سچے ہندوؤں‘ پر زور دیا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی کرکٹ سیریز کو نہ ہونے دیں۔

اس کے بارے میں جب بھارتی وزیر داخلہ سے سوال کیا گيا تو انہوں نے کہا ’جب کھلاڑی دوسرے ممالک سے آتے ہیں، صرف پاکستان سے ہی نہیں، تو ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہم اس پر بات چيت کریں گے اور انہیں ممکنہ بہترین سکیورٹی فراہم کریں گے۔ ہم الرٹ رہیں گے‘۔

بھارتی وزیرِ داخلہ نے سلامتی کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز اور وہاں سے آنے والے شائقین کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں کھیل اور ثقافت میں سیاست کی آمیزش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مختلف خیالات ہونے چاہیئیں۔ یہ سیریز دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے راستے ہموار کرے گي‘۔

"جب کرکٹ کھلاڑی دوسرے ممالک سے آتے ہیں، صرف پاکستان سے ہی نہیں، تو ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہم اس پر بات چيت کریں گے اور انہیں ممکنہ بہترین سکیورٹی فراہم کریں گے۔ ہم الرٹ رہیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ دسمبر میں ہونے والی کرکٹ سیریز کو دو ہزار آٹھ کے ممبئی کے حملوں سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

اس سے قبل پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز بحال کرنے کے بھارتی کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر ٹھاکرے نے کہا تھا کہ یہ پیسے کی لالچ میں ’ملک کے ساتھ دھوکہ دہی ہے اور اس دھوکہ دہی میں کرکٹرز بھی شامل ہیں۔‘

شیو سینا کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ’پاکستان نے جو زخم دیے ہیں انہیں بھولا نہیں جا سکتا‘۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم بائیس دسمبر کو بھارت پہنچےگی۔ اس دورے میں دونوں ٹیمیں تین ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلیں گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً پانچ برس کے وقفے کے بعد کرکٹ مقابلے بحال ہوئے ہیں۔ ان میچز کے لیے بھارت پانچ ہزار پاکستانی شائقین کو ملک آنے کے لیے ویزا جاری کرےگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔