پہلے ٹسٹ میں سری لنکا کی دس وکٹ سے جیت

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 12:07 GMT 17:07 PST
جے وردھنے اور راس ٹیلر

نیوزی لینڈ کے کپتان راس ٹیلر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔

سری لنکا کے شہر گال میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن ہی سری لنکا نے دس وکٹ سے جیت حاصل کر لی ہے۔

پہلی اننگز کی بنیاد پر جو میچ کانٹے کا مقابلہ کہا جا سکتا تھا اچانک یکطرفہ ثابت ہوا اور سری لنکا نے چوتھی اننگز میں مطلوبہ ترانوے رنز بغیر کسی نقصان کے بنا لیے۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور اس کی پوری ٹیم پہلے دن ہی دو سو اکیس رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔ سلامی بلے باز برنڈن میکولم نے سب سے زیادہ اڑسٹھ رنز بنائے جبکہ ڈینیئل فلن تریپن رنز کے ساتھ نمایاں سکورر رہے۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

سری لنکا کی جانب سے رنگنا ہیراتھ نے پینسٹھ رنز کے عوض پانچ وکٹ لیے جبکہ کولا سیکھرا اور شمندا ایرنگا نے بالترتیب دو اور تین وکٹ لیے۔

سری لنکا کا آغاز بے حد مایوس کن رہا اور اس کے چار وکٹ بیس رنز پر گر گئے جبکہ پچاس کے سکور پر پانچ وکٹ گر چکے تھے۔

سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے نے میچ کو سنبھالا اور اکیانوے رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ آل راؤنڈر اینجیلو میتھیوز نے ان کے ساتھ اچھی شراکت کی اور انہتر رنز بنائے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤدی اور سمت پٹیل نے بالترتیب چار اور تین وکٹ لیے۔

سری لنکا نے پہلی اننگز میں چھبیس رنز کی برتری حاصل کر کے نفسیاتی برتری حاصل کر لی اور نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز ایک سو اٹھارہ رنز پر سمٹ گئی۔

ایک بار پھر ہیراتھ نے بہتر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹ لیے اس طرح میچ میں انھوں نے ایک سو آٹھ رنز کے عوض کل گیارہ وکٹ حاصل کیے۔ ان کی اس کار کردگی کے لیے انھیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

سری لنکا نے ترانوے رنز کا مطلوبہ حدف بغیر کسی نقصان کے حاصل کر لیا اور اپنا پہلا میچ کھیلنے والے کرونا رتنے نے ساٹھ رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

سری لنکا نے مطلوبہ رنز اٹھارہ اعشاریہ تین اوورز میں حاصل کر لیے اور سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔